ملاکنڈ کی محرومیاں 

اتوار 08 نومبر 2015


ناصرایوب
ملاکنڈ کی محرومیاں 
اکثر لوگ،شاید، ان کو نہ تو انگریزی آتی ہے اور نہ انہونے آئین پاکستان کا مسودہ پڑھا ہے جو ملاکنڈ کو ملاکنڈ ایجنسی کہتے ہیں۔حالانکہ 2002؁ء کے مقامی حکومت کے ٓارڈیننس کے نفاذ کے بعد ملاکنڈ ایجنسی نہیں رہی یہ باقاعدہ ایک ضلع ہے۔یہ بات الگ ہے کہ اس میں ضلع سوات،ضلع دیر لوئر،ضلع دیراپر،ضلع چترال اورضلع بونیرکی طرح لیوزیز کے ساتھ پولیس آرڈیننس 2002؁ء نافذ نہیں کیا گیاہے۔مگر پولیس کا ضلع اور ایجنسی سے کیا تعلق؟ڈی سی، ڈی سی او نظام، عدلیہ پاکستان وغیرہ کے آمد کے بعد یہاں عام پاکستانی قانون فوجداری، دیوانی اور عائیلی کا نفاذ ہوتا ہے ایف سی آر جسے انسان دشمن قانو ن کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ اس لیے اس کو ایجنسی کہنا حقیقت سے فرار ہے۔اب اگر قومی ابلاغ پرنظر ڈالی جائے تو اکثر خبر گو، کمپئیر،انکرپرسن،اور سیاست دان،آفسر شاہی وغیرہ سوات کو ملاکنڈ اور ملاکنڈ کو سوات گردانتے ہے حقیقت یہ ہے کے ملاکنڈ ایک گاؤں ہے جو کہ فرنگی دور سے فوجی علاقہ ہے اسی علاقے کے یونین کونسل کا نام بھی  ملاکنڈ ہے۔ ملاکنڈ دو تحصیلوں درگئی اور بٹ خیلہ پر مشتمل ایک ضلع بھی ہے اور ملاکنڈ سات اضلع پر مشتمل ایک ڈویژن بھی ہے یہان سے ملاکنڈ کی محرومیوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔  ایجنسی کے وقت 1895؁ء سے لیکر اب تک یہ ضلع ترقی میں کافی پیچھے رہا۔حالانکہ یہ تمام ملاکنڈ ڈویژن کا مرکز ہے کا نجو ائیرپورٹ یہاں کے بجائے سوات ضلع میں بنایا گیاکمشنر ہاؤس جو یہاں بنا چاہیں تھا  تما م اضلاع کو یہ جگہ قریب پڑ تا ہے بھی سوات ضلع میں بنائی گئی۔یہ با ت قابل غور ہے کے 1895؁ء میں تمام اختیارات کا استعمال ملاکنڈ کے اس گاؤں سے ہوتاتھا،مگر بعد میں ضلع کے بے شمار تفریحی اور انتظامی مقامات ضلع سوات میں بنائے گئے حا لانکہ ضلع ملاکنڈ کے ساتھ دیر لوئر،اپر دیر،بونیر اور چترال میں بھی بے شمار تفریحی مقامات موجود ہیں جس کو عوام کیلئے بنایا جاسکتا ہے۔ ملاکنڈ ڈویژن کا اہم میوزیم ضلع سوات میں بنایا گیا۔ ضلع ملاکنڈ کا تار یخی ورثہ تباہی کے دھانے  پر ہے۔محکمہ سیاحت محکمہ آتار قدیمہ وغیرہ کا کوئی کام ونشان تک نہیں،میڈ یکل کالج جو کے یہاں کے عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا سوات کو دیا گیا۔ تعلیم کے مید ان میں ملاکنڈ کا فی پیچھے رہ گیا ہے،کیڈٹ کالج بھی ضلع سوات میں قائم ہوا۔


کہانی کو شیئر کریں۔


آپ یہ بھی دیکھنا پسند کریں گے

اپنی رائے کا اظہا ر کریں۔



Total Comments (0)

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ مانندآئینہ محفوظ ہیں۔

بغیر اجازت کسی قسم کی اشاعت ممنوع ہے

Powered by : Murad Khan