سیاسی پارٹیاں اور اتفاق

اتوار 08 نومبر 2015


سیاسی پارٹیاں اور اتفاق
جاوید مصطفی بنگش

اتفاق میں برکت ہے،  ہا جی! یہ تو ہر پاکستانی بچے بچے کو علم ہے، ہر تعلیم یافتہ اور ان پڑھ ماں باپ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ اتفاق ایک با برکت چیز ہے، ہر مزدور، کسان، دوکاندار، تاجر، ڈاکٹر، انجینیر،استاد اور معاشرے کا بندہ بندہ جانتا ہے کہ اتفاق ہی وہ بابرکت چیز ہے جو دشمن کی کمر توڑ سکتی ہے۔
تاریخ ہمیں جہاں اتفاق وہا ں فتح، جہاں اختلاف وہاں تقسیم کا سبق دیتا ہے،  لیکن اختلاف کی اہمیت سے بھی ہم منکر نہیں ہو سکتے کیونکہ فتح اور تقسیم دونوں کی ضرورت پڑتی ہے، کسی بھی جمہوری ملک کیلئے اتفاق اور اختلاف دونوں کی دستیابی ضروری ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے پر منحصر ہے، اختلاف سے اتفاق اور اتفاق ہی سے اختلاف کی پہچان ہوتی ہے، کوئی بھی ان دونوں کی ضرورت سے اختلاف نہیں کر سکتا، بات واضح ہے کہ ضرورت دونوں کی ہے لیکن اپنے اپنے وقت پر۔
بات آتی ہے پاکستان پر،اور جب پاکستان کی بات چیت ہوتی ہے تو دہشتگردی، غربت، بے روزگاری،سیلاب، فرقہ وریت، مہنگائی، بھتہ خوری، ڈاکہ زنی، سیاسی بحران جیسے عناصر سر فہرست آتے ہیں، ان مسائل کیخلاف جنگ ۷۴۹۱ء سے جاری ہے، ایک طرف مسائل کے خلاف جنگ اور دوسری طرف جو جنگی دستے ان مسائل کے خلاف لڑ رہے ہیں ان کا آپسمیں جنگ جاری ہے۔ اور حیران کن بات تو یہ ہے اس جنگ میں صرف اندرونی نہیں بلکہ اب تو بیرونی طاقت کی بھی ملوث ہونے کے الزامات لگائیں گئیں ہیں،  جنگ کی صورتحال کچھ یو ہے کہ ملک کے وزیرعظم جناب میاں محمد نواز شریف ثابت قدمی کا مظاہرہ کرکے مسائل کے خلاف لڑ رہے ہیں اور دوسری طرف ملک کے وزیرعظم کے تخت پر بیھٹنے کے لئے تحریک انصاف کے چیئر مین جناب عمران خان وزیرعظم سے جنگ پر تلے ہوئے ہیں،  پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ جناب آصف علی زرداری اور متحدہ قومی مومنٹ کے سربراہ جناب الطاف خان صاحب وفاق اور رینجرزکے خلاف اپنی ا پنی دفاعی جنگوں میں مشغول نظر آتے ہیں۔  جمیعت علامہ اسلام کے سربراہ جناب مولانا فضل رحمٰن صاحب ایک زاوئے سے بہت عاجز سکرین پر نظر آتے ہیں جب وہ وفاق اور متحدہ قومی مومنٹ کی حالیہ مزاکرات کی بات کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف پر خوب برستے ہیں،  امیر جماعت اسلامی جناب سراج الحق صا حب شاید یہ سمجھنے میں مشقت محسوس کرتے ہیں کہ اتفاق کریں تو کس سے کریں، اور اس اتفاق اور اختلاف کی سوچ کو لے کر نہ ادھر کے اور نہ ادھرکے رہے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہمارے تجربہ کار سیاست دان دوسروں کے لئے مشورے اور خود ہر چیز پر حملہ اور ہوتے ہیں،  جو جس چیز سے اتفاق کرتے ہیں تاریخ میں کہی نہ کہی کسی نہ کسی صورت میں اختلاف کر چکے ہوتے ہیں اور جس چیز سے اختلاف کرتے ہیں تاریخ میں  اتفاق کر چکے ہوتے ہیں، متحدہ قومی مومنٹ کے استعفوں کے حوالے سے عمران خان اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کے بیانات نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ اس قسم کے کارنامے تحریک انصاف خود کر چکی ہے اور خود متحدہ قومی مومنٹ تحریک انصاف کے اس عمل سے متفق نہیں تھی۔مسلم لیگ (ن) عمران خان کی گستاخ تقاریر سے تنگ آکر عمران خان کو احترام کی زبان استعمال کرنے کا مشورہ دیتی ہے اور خود آصف علی زرداری کے خلاف چور، لٹیرے وغیرہ کے نعرے لگا چکے ہیں۔اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دوسروں سے اتفاق کرنا تو درکنار وہ تو خود سے بھی اتفاق نہیں کر رہے۔
پاکستان میں ابھی تک تو ایک بھی ایسی پارٹی نہیں بنی جودوسری سیاسی پارٹیوں کی اصلاح کے لئے جدو جہد کر سکے۔اور اس سے بھی پہلے اپنی پارٹی کی اصلاح کر سکے،جو غل غپاڑے کی سیاست سے نکل کر ملک کے لئے ترقی یافتہ منصوبے بنا سکیں، اپنی پارٹی کے ساتھ ساتھ ملک کا بھی خیال رکھ سکے، اچھی بات کو اچھی اور بری کو بری کہہ سکے، جو ایک دوسرے کے سوال کو جواب دینے کو سیاست نہیں بلکہ سیاست کو ہی سیاست کہا جا سکے، طعنوں اور جگھڑوں کی سیاست کو چھوڑ کر روشن خیالی سے کام لیا جا سکیں۔ یہ تب ممکن ہے جب اتفاق ہو۔
 


کہانی کو شیئر کریں۔


آپ یہ بھی دیکھنا پسند کریں گے

اپنی رائے کا اظہا ر کریں۔



Total Comments (0)

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ مانندآئینہ محفوظ ہیں۔

بغیر اجازت کسی قسم کی اشاعت ممنوع ہے

Powered by : Murad Khan