ملاکنڈ لیویز کی کارکردگی پر سوالیہ نشان؟

اتوار 08 نومبر 2015


                بٹ خیلہ سے حسن خان
                                                        ملاکنڈ لیویز کی کارکردگی پر سوالیہ نشان؟

جب ہم بچے تھے تو آرمی کے جوانوں کو ٹیلی ویژن اور تصاویر میں دیکھا کیا کرتے تھیں۔  اور سکول کی کتابوں میں جب بھی پاک آرمی کے بارے میں کوئی بات ہوتی تھی تو دل میں جنون سا پیدا ہوا کرتا تھا۔ لیکن آج جب ہم اپنے  چھوٹے بہن بھائیوں کوپاک آرمی کے قصے سناتے ہیں۔ تو وہ ہنس ہنس کے ہمارا مذاق اٌڑاتے ہیں۔کہ آپ اٌس پاک آرمی کی بات کرتے ہو جو کہ دن رات گلیوں، کوچوں اور بازاروں میںکل نظر آتے ہیں؟ یہ تو مجھے پتا تھا کہ پاک آرمی کی ضرورت  ملک میں جہاں بھی پڑتی ہے توپاک آرمی کے جوان  وقت ضائع کیے بغیر خدمت کے لئے حاضر ہوجاتے ہیں۔ خواہ  وہ کراچی کو ٹارگٹ کلرز سے پاک کرنا ہو، وزیرستان کے لوگوں کی خدمت ہو، سوات کو خوارج سے پاک صاف کرنا ہو،سیلاب زدگان کی مدد کرنا ہو،زلزلہ زدگان کی خدمت ہو،حساس پولنگ سٹیشن کی نگرانی ہواور یا پھر دہشت گردی کی خلاف عدالت ہو۔ لیکن آج کچھ عجیب سا دیکھ کر  شرم محسوس ہونے لگا، اپنے انتظامیہ کے کردار پر  اور فخر بھی محسوس ہوا اپنے جوانوں کی خدمت دیکھ کر۔ آج میں اپنے گھر سے ڈیوٹی کے لئے روانہ ہوا تو بٹ خیلہ شیل پٹرول پمپ کے  قریب دو موٹر سائیکلوں پر سوار  آرمی کے جوانوں کو دیکھا تو سمجھاکہ شائد بٹ خیلہ میں کوئی سپیشل آپریشن ہو رہا ہوگا، لیکن جب کچھ دیر کے لئے رکا  تو معلوم ہواکہ بٹ خیلہ بازار میں جو گاڑیاں غلط جگہ پارک کی گئی ہو  تو آرمی کے جوان  اٌن گاڑیوں کو ہٹانے اور ٹریفک لیویز کی ڈیوٹی سر انجام دینے میں مصروف تھیں۔بٹ خیلہ کے لوگوں کے لئے تو یہ اقدام بہت اچھا ہے آرمی کی وجہ سے بٹ خیلہ بازار کا ٹریفک جام نہیں ہوگا۔ لیکن سوالیہ نشان ملاکنڈ کے انتظامیہ پر آتا ہے کہ یہاں جو ملاکنڈ میں (اے۔سی، اے۔اے۔سی اور ڈی سی) اور سینکڑوں کی تعداد میں لیویز  جو کہ بڑے بڑے  تنخواہیں لے رہے ہیں۔  اور (اے۔سی، اے۔اے۔سی۔ڈی سی)  جو کہ بڑی بڑی گاڑیوں میں پھرتے رہتے ہیں،تو اٌن کا کیا کام باقی رہ گیا جو صرف اور صرف ایک بٹ خیلہ بازار کو لیویز کے ذریعے  سنبال نہیں سکتے۔ آرمی کی عزت تو ہمارے لوگوں کے دلوں میں اور بھی بڑھ  رہی ہے، لیکن یہ انتظامیہ کے بڑے بڑے لوگ ہمارے عوام کی نظرسے  اور بھی بری طرح گِر گئے کہ آخر یہ لوگ کب تک پاک آرمی  کے کندھوں  پر سوار ہونگے۔ اور اِس ملک کے نظام کو کب تک پاک آرمی چلاتے رہینگے؟ اگر یہ سیاستدان اور  انتظامیہ  اس ملک کو نہیں چلا سکتے تو چھوڑ دے اِس نظام کو  اور دفعہ ہوجائے۔  
اور سارا ملک پاک آرمی کے حوالے کر ے تا کہ وہ اِس ملک کے نظام کو اِحسن طریقے سے چلا لیں۔ لیکن ایک بات کہ میں ایک جمہوریت پسند پاکستانی باشندہ ہوں اور پاک آرمی کو باڈرز تک محدود رکھنے کا قائل ہوں۔  


کہانی کو شیئر کریں۔


آپ یہ بھی دیکھنا پسند کریں گے

اپنی رائے کا اظہا ر کریں۔



Total Comments (0)

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ مانندآئینہ محفوظ ہیں۔

بغیر اجازت کسی قسم کی اشاعت ممنوع ہے

Powered by : Murad Khan