عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں دس سال کی کم ترین سطح پر

جمرات 26 نومبر 2015


لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں دس سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہیں لیکن ٹیکسوں کی بھرمار اور حکومت کی عوام کو ریلیف نہ دینے کی پالیسی کی وجہ سے عوام اس کمی سے مستفید ہونے سے محروم رہے ، ایک اندازے کے مطابق عالمی منڈی میں قیمتوں کے حساب سے پاکستان میں فی لٹرپٹرول کی قیمت 65روپے ہونی چاہیے تھے لیکن حکومت فی لٹر پٹرول پر 24روپے ٹیکس وصول کررہی ہے جس کے بعدپٹرول کی قیمت 76.26روپے تک جاپہنچی جبکہ 83.79روپے فی لٹر فروخت ہونیوالے ڈیزل پر 35روپے ٹیکس وصول کیاجارہاہے جبکہ صرف اکتوبر میں پڑوسی ملک بھارت میں تین مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہوچکی ہے ۔ 
نجی ٹی وی چینل پر اپنے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے سینئر صحافی کامران خان نے بتایاکہ حکومت کو چارماہ کے دوران دوارب ڈالر یعنی تقریباً210ارب روپے سے زائد کی بچت ہوچکی ہے مگر اس کا فائدہ صرف حکومتی خزانے یا جیبوں کو ہواہے ۔ حکومت کے وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق رواں سال جولائی سے اکتوبر تک چارماہ کے دوران 2.9ارب ڈالر کا خام تیل درآمد کیاگیا جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں پانچ ارب ڈالر کا تیل منگوایاگیاتھایعنی کل ملاکر دوارب سے زائدکی بچت ہوئی ہے ۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی اوسط قیمتیں 35ڈالر فی بیرل بھی رہیں تو اس سال کے آخر تک حکومت کو پانچ ارب ڈالر سے زائد کی بچت ہوئی ، گزشتہ ہفتے عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آٹھ ڈالر کی کمی کے بعد چالیس ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی تھیں جو کہ دس سال کے دوران کم ترین سطح ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت پاکستان نے گزشتہ ماہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقراررکھ کر عوام کو ریلیف دینے کا ڈھنڈواپیٹا لیکن اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو دیکھیں تو حکومت نے کچھ ریلیف نہیں دیاجبکہ پڑوسی ملک بھارت میں صرف اکتوبر میں تین بار پٹرولیم مصنوعات سستی کی گئیں ، اگست سے لے کر اب تک چھ بار کمی کی گئی اور عوام کو فی لٹر 9روپے36 پیسے کا فائدہ پہنچایاگیاجوپاکستانی روپے میں 16 روپے فی لٹر بنتاہے ۔


کہانی کو شیئر کریں۔


آپ یہ بھی دیکھنا پسند کریں گے

اپنی رائے کا اظہا ر کریں۔



Total Comments (0)

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ مانندآئینہ محفوظ ہیں۔

بغیر اجازت کسی قسم کی اشاعت ممنوع ہے

Powered by : Murad Khan