شعبہ حادثات اتفاقیہ کو کیسے بہتر بنایا جائے۔تحریر ڈاکٹر سراج خالد ڈی ایم ایس بٹ خیلہ

اتوار 13 دسمبر 2015



اچھی صحت انسانی زندگی کیلئے انتہائی ضروری ہے اچھی صحت صحتمند معاشرے کی عکاسی اور ترقی کا ضامن ہوتا ہے بیماری کی صورت میں علاج معالجہ اسلام میں فرض عین کادرجہ رکھتاہے۔عوام کو دوسری سہولتوں کے علاوہ علاج معالجہ کی مفت سہولیات فراہم کرنا ریاست کی اولین ترجیح ہوتی ہیں ۔صوبہ خیبر پختوانخوا میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے ہر ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال میں آنے والے مریضوں کو بلا امتیاز رنگ ونسل اور غریب وامیر کے ضروری سہولیات اور مفت ادویات کی فراہمی کاکام کا آغاز کیاہے۔اور گزشتہ دوسالوں سے صوبائی حکومت نے ہر ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال کو کروڑوں روپے کے فنڈزجاری کرچکی ہیں۔مثبت سوچ رکھنے والے لوگ محکمہ صحت اور خبیر پختوانخوا حکومت کی اس کاوش کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔کسی بھی مریض کے ساتھ آنے والے تیماردار اور مریض کے عزیزواقارب ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال میں شعبہ حادثات میں مفت اور بروقت علاج اور ادویات کی فراہمی پر مسُرت کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ صحت اور حکومتی اقدامات کو سراہتے ہیں۔اور اس سہولت کی وجہ سے شعبہ حادثات میں مریضوں کے اموات میں کافی کمی بھی آچکی ہیں۔اور اسطرح مفت اور بروقت علاج کی فراہمی مریضوں کو بہت سے دوسرے مسائل اور پریشانیوں سے بچاتی ہے۔صوبائی حکومت وقت نے مثبت سوچکے تحت صحت کی مد میں اچھے اقدامات اُٹھائے ہیں۔ان اقدامات کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے ہم کو بھی اپنا اپناکردار ادا کرنا ہوگا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مثبت رحُجان رکھنے کے باوجود انسان سے بعض پروگراموں کے انتظامی امور اور قواعد وضوابط وضع کرتے وقت کچھ خامیاں وکمیاں رہ جاتی ہیں ۔جیسے دور کرنا ضروری ہوتا ہے۔بحثیت ڈی۔ایم۔ایس ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرہسپتال بٹ خیلہ ایمرجنسی یونٹ کی بہتری کیلئے چند گزارشات خیبر پختوانخوا حکومت اور محکمہ صحت کے گوشہ گزار کرنے کو اپنا فرض اولین سمجھتا ہوں۔
۱۔شعبہ حادثات میں کام کرنے والے ڈاکٹروں،پیرامیڈیکل اور نرسنگ سٹاف کیلئے ایمرجنسی پروسیجرز،انٹراینشن،ادویات سے مکمل آگاہی کیلئے باقاعدگی سے لائق ترین لوگوں کے زیرنگرانی تربیتی ورکشاپ منعقد کئے جائے۔
۲۔اسی طرح مریضوں کے Refernl system کو بہتر کیا جائے اور ڈسٹرکٹ اسپشلیسٹ ڈاکٹروں کو مریضوں کے Refferredکرنے کیلئے واضح گائیڈلائن دی جائے ۔تاکہ غیرضروری Refferred میں کمی آجائے۔اور شہر کے بڑے ہسپتالوں پر رش کم ہوجائے۔
۳۔ہر ایمرجنسی یونٹ کے ساتھ ٹرامایونٹ کا قیام عمل میں لائی جائے اور ضروری او۔ٹی بھی بنائی جائے۔تاکہ بروقت سرجری one window operation کے طور پر ہوسکے اور یوں پیچیدگیوں سے بچا جاسکے۔
۴۔چونکہ حادثات میں مریضوں سے بہت سارا خون بہہ کر ضائع ہوجاتا ہے۔اس لئے ایمرجنسی یونٹ کے ساتھ بلڈبینک کا قیام لازمی قرار دی جائے۔
۵۔ایمرجنسی یونٹ میں منی میڈیسن اسٹور (Mini Medicine Store) کا قیام ہوتاکہ دوائیاں بروقت مل سکے۔
۶۔ایمرجنسی دوائی کاٹھیکہ ،میڈیسن پراڈکٹ کے لحاظ سے ایک ٹھیکہ دار کی جگہ زیادہ ٹھیکہ داروں کو دی جائے،تاکہ وہ دوائیوں کے دستیابی میں دیر نہ کرے ۔
۷۔قابل اعتبار حضرات پر مشتملChaek and Balanceکیلئے دوائیوں کی ایک Pysical verifiction committeeکو نہ صرف عمل میں لایا جائے ۔بلکہ اُن کو با اختیار بھی بنایا جائے اور اُن کی باقاعدگی سے میٹینگ بھی ہو۔
۸۔باولے کُتے کے کاٹے کے ویکسن ،دل کے دور ے کے صورت میں استعمال ہونی والی دوا،سانپ کے کاٹے کے تریافت وغیر ہر صورت میں دستیاب ہو۔
۹۔تھیلسمیاں مریضوں کیلئے تمامScreeing testsاورACDبیگز کی مُفت فراہمی ممکن بنائے جائے۔
۱۰۔حکومت کے ساتھ ساتھ OPD Patientsکیلئے بھی ادویات کے فنڈزمیں اضافہ کرے۔تاکہ ایمرجنسی یونٹ پر رش کم ہو۔


کہانی کو شیئر کریں۔


آپ یہ بھی دیکھنا پسند کریں گے

اپنی رائے کا اظہا ر کریں۔



Total Comments (0)

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ مانندآئینہ محفوظ ہیں۔

بغیر اجازت کسی قسم کی اشاعت ممنوع ہے

Powered by : Murad Khan