زیادہ باتونی لوگوں کا دماغ دیر سے مردہ ہوتا ہے، تحقی

اتوار 17 جنوری 2016


(ویب ڈیسک )جن لوگوں کے دماغ زیادہ متحرک ہوتے ہیں انہیں بوش کرنے کیلیے دوا کی زیادہ مقدار دینا پڑتی ہے، ماہرین،
لندن: عام طور پر لوگ زیادہ باتیں کرنے والے لوگوں سے تنگ رہتے ہیں اورجلد ان سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اب طبی ماہرین نے ایسے لوگوں کی ایک نئی خصوصیت کا انکشاف کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آپریشن سے پہلے اگر دیکھ لیا جائے کہ مریض کا دماغ کتنا متحرک ہے یعنی باتونی ہے تو ڈاکٹروں کو اس بات کا اندازہ کرنے میں آسانی ہو جاتی ہے کہ مریض کو بےہوشی کی دوا کی کتنی مقدار درکار ہو گی۔
برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کی نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ لوگ جن کے دماغ زیادہ متحرک ہوں یا ایسے مریض جن کے دماغ کے مختلف حصے میں آپس میں زیادہ ’’چٹرپٹر‘‘ کرتے ہیں انہیں بے ہوش کرنے کے لیے زیادہ مقدار میں دوا دینا پڑتی ہے۔ تحقیق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مدنظر رکھا جائے کہ مریض کا دماغ کتنا باتونی ہے تو ڈاکٹروں کو اس بات کا تعین کرنے میں آسانی ہو گی کہ مریض کو کتنی دوا دینی ہے جب کہ کسی مریض کے لیے بے ہوشی کی دوا کی مقدار کا تعین اس کے وزن کے لحاظ سے کیا جاتا ہے۔
اور طب کے شعبوں میں اعداد و شمار کے استعمال پر ہونے والی اس نئی تحقیق میں 20 صحت مند افراد پر تجربات کرکے دیکھا گیا کہ جب انہیں بے ہوشی کے لیے عام طور پر استعمال ہونے والی دوا ’’پروپوفول‘‘ دی گئی تو ان کے دماغ سے نکنے والے برقی پیغامات پر اس کے اثرات کیا تھے جب کہ آہستہ آہستہ بے ہوشی کی دوا کی مقدار میں اضافہ کرنے سے پہلے ان افراد کو بتایا گیا تھا کہ دوا دیئے جانے کے بعد انہیں مختلف آوازیں سنائی جائیں گی اور ہر آواز پر انہیں مختلف بٹن دبانے ہوں گے۔
اس تجربے میں دیکھا گیا کہ جب تمام لوگوں کو دوا کی مکمل خوراک دے دی گئی تو ان میں کچھ لوگ اس کے بعد بھی آوازیں سننے پر مختلف بٹن دباتے رہے جب کہ باقی بے ہوش چکے تھے۔ ماہرین کے مطابق جو افراد ابھی تک ہوش میں تھے ان کے دماغ کے مختلف حصوں میں حرکت محسوس کی جارہی تھی۔
ماہرین کے مطابق مشاہدے سے یہ بات سامنے آئی  کہ جب یہ تمام افراد ہوش میں واپس آ گئے تو اس وقت بھی ان کی ای سی جی ایک دوسرے سے مختلف تھی اور جو لوگ دیر سے بے ہوش ہوئے تھے ان کے دماغ دوسروں سے زیادہ متحرک تھے۔ تحقیقی ٹیم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ بے ہوشی کا عمل شروع کرنے سے پہلے مریض کا دماغ چیک کرلیا جائے کیونکہ دماغ جتنا زیادہ متحرک ہوتا ہے اسے بے ہوش کرنے کے لیے اتنی ہی زیادہ دوا درکار ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق دماغ کے ’’باتونی‘‘ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس شخص کا دماغ زیادہ مضبوط ہے کیونکہ ہر شخص کا دماغ دن کے مختلف حصوں میں زیادہ متحرک یا غیر متحرک ہوتا رہتا ہے اور اس کا انحصار اس پر بھی ہوتا ہے کہ آپ نے کتنی کافی یا چائے پی ہوئی ہے اور آیا آپ کی نیند پوری ہو چکی ہے یا نہیں۔


کہانی کو شیئر کریں۔


آپ یہ بھی دیکھنا پسند کریں گے

اپنی رائے کا اظہا ر کریں۔



Total Comments (0)

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ مانندآئینہ محفوظ ہیں۔

بغیر اجازت کسی قسم کی اشاعت ممنوع ہے

Powered by : Murad Khan