ملاکنڈ موٹر وے

اتوار 07 فروری 2016


ملاکنڈ موٹر وے
سابقہ حکومت نے ایک منصوبہ بنایا جس کا نام سوات ایکسپریس وے رکھا گیا۔اس ایکسپریس وے کا مقصد مردان ،تخت بھائی،شیرگڑھ،سخاکوٹ درگئی اور بٹ خیلہ سے ٹریفک کا دباؤ کم کرنا ہے۔کیونکہ اس سٹرک پر جس کو Na-35 کہا جاتاہیپر گھنٹوں ٹریفک جام رہتاہیاس کے علاوہ اس وقت اس سٹرک کی گنجائش آنے والے دس سال کے آبادی اور ٹریفک کے لئے مناسب نہیں ہے۔اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے PKHA,NHA وغیرہ کے ساتھ ایک اپشن موجودہ سڑک کو 33,33فٹ چوڑا کرنا تھا جس کپر درگئی تک کا مکمل ہوچکا ہے صرف ملاکنڈ پاس اور بٹ خیلہ سے پل چوکی تک اس کو چوڑا کرنا باقی رہ گیا ہے۔دوسر یہ اپشن ان اداروں کے پاس ملاکنڈ ٹنل اور بٹ خیلہ بائی پاس ہے۔جس میں ملاکنڈ ٹنل کیلئے سابقہ حکومت نے کوریا سے معاہدہ کیا تھا۔جس پر کام جاری ہے مگر بٹ خیلہ بائی پاس ابھی تک ایک منصوبہ کا منتظرہے۔مالاکنڈ ایکسپریس وے کو موجودہ حکومت کے کئی لوگوں نے موٹروے کا نام بھی دیا اور اس کی چوڑائی 150 فٹ تک بڑھا دی جو کے ایک خوش شگون بات ہے مگر اس منصوبہ موٹر وے کی شکل میں نہیں بنایا جا رہا جس سے لوگوں کے خدشات میں آضافہ ہورہا ہے اس وقت ڈاول کیریج وے کی شکل میں بنایا جا رہا ہے ۔اگریہ منصوبہ M1 موٹروے کی طرز پر بن جا ئے تو اس سے قمتی قومی وسائل کی بچت ہوگی ۔
اس کے ساتھ ساتھ دوسرا اہم سوال کو کہ صوبائی حکومت سے کیا جارہا ہے کہ اس حکومت کے پاس بہت کم وقت رہ گیا ہے اس کے باوجود نئے منصوباجات تو درکنار پرانے منصوبوں پر بھی بہت سستی سے کیا جا رہا ہے ۔جس سے اس حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اُٹھایا جا رہا ہے۔
ملاکنڈ موٹروے بھی تخت بھائی کے ایک فلائی اور کی طرح ایک لمبے عرصہ کیلئے تاخیر کا شکار نہ ہو جائے۔
ملاکنڈ موٹروے صوابی میں کرنل شیر خان انٹرچینج سے چکدرہ تک ہے اس میں پانچ مقامات پر چڑھنے اترنے کے انٹرچینج ہونگے اس میں مردان کو بھی ایک انٹرچینج اترے گا۔
مگر اس میں پلئی کے پسماندہ علاقے کیلئے انٹرچینج کو نظرانداز کیاگیا ہے جس پر اس کے علاقے کے لوگوں کو کافی خدشات ہیں۔اس کے ساتھ ساتھاابھی تک منصوبہ بنانے والوں نے واضح نہیں کیاہے کے اس کے دونوں اطراف پر سروس روڈ کے ساتھ ابلیاشر کیلئے کو انتظام ہو گا تاکہ اس پلئی میں بنجر زمین زیر کاشت لائی جاسکے یا کمیشن نہ ہونے کی وجہ سے اس کے بے شمار پہلوں جو کہ نظرانداز کردیے گئے ہیں اس کو بھی نظر انداز کردیا گیا ہے۔


کہانی کو شیئر کریں۔


آپ یہ بھی دیکھنا پسند کریں گے

اپنی رائے کا اظہا ر کریں۔



Total Comments (0)

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ مانندآئینہ محفوظ ہیں۔

بغیر اجازت کسی قسم کی اشاعت ممنوع ہے

Powered by : Murad Khan