عبرت ناک منظر

بدھ 16 مارچ 2016


عبرت ناک منظر آواز حق
کرپشن ، بدعنوانی اور عوامی کشی کا ہرسو راج تھا۔ عوام سیاسی گرؤں کی بد اعمالیوں سے اتنے عاجز آ چکے تھے کہ کسی بھی وقت تنگ آمد بہ جنگ آمد والی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ تھا ۔روزانہ موجودہ اور سابقہ حکمرانوں کے میگا کرپشن سکینڈلز اخبارات کی زینت بن جاتے تھے ۔ حکمران بانی پاکستان قائد اعظم کے فرمودات اور علاقہ اقبال کے اشعا ر کو اپنی مطلب بر اری کیلئے استعمال کرتے تھے ۔ ملک کے تمام اداروں کے بڑے صرف مال کمانے کو اپنا نصب العین بنائے ہوئے تھے ۔ ہر طرف ایک افراتفری کا سماں تھا ۔ حکمرانوں کے دعوؤں کے برعکس ملک دیوالیہ ہونے کو تھا ۔ اسی اثناء میں اچانک ملک بھر میں ایک پر سکون سکوت چھا گیا ۔ لوگوں کے مرجھائے ہوئے زرد چہرے چمک اُٹھے تھے ۔ باہر نکلا تو بازاروں ،چوراہوں اور پارکوں میں عوام بھنگڑے ڈال کر ناچ رہے تھے ۔ خوشی انکے چہروں سے ٹپک رہی تھی۔ مٹھائیاں تقسیم ہو رہی تھیں ۔ اچانک ایک شور مچ گیا اور ہجوم نے ایک قافلے کی شکل اختیار کی اور پھر یہ خبر آگئی کہ کچھ انہونی ہوچکی ہے اور ملک بھر سے عوام کے بڑے بڑے قافلے شاہراہ دستور کی طرف چل پڑے تھے ۔ ہمارا لاکھوں کا قافلہ بھی جلد ہی شاہراہ دستور پہنچا ۔ چونکہ یہاں کراچی سے لے کر خیبر تک اور گوادر سے لے کر جنوبی پنجاب کے دور دراز اضلاع تک لاکھوں افراد پر مشتمل بیسیوں قافلے پہلے ہی پہنچے ہوئے تھے ۔ جب ہم نے نظر اٹھا کر دیکھا تو اندازہ لگایا کہ ہجوم 10 کروڑ سے زیادہ ہے ۔ معاً ایک میل پر محیط ایک بڑے سٹیج کے اوپر ایک پر عز م خاکی وردی والا نمودار ہوا تو عوام ایسے خاموش ہو گئے جیسے قبرستان میں مردے ۔ خاکی وردی والے نے عوام کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر پر ایک مشفقانہ نظر ڈالی ۔ اور کہاکہ ’’ عزیز ہم وطنو! کل رات سے ہم نے پاکستان کے کروڑوں بے بس عوام کو ڈاکو ں ، چوروں اور قومی لٹیروں کی قید سے آزاد کیا ہے ان سب کو پا بند سلاسل کیا ہے۔میں سابقہ فوجی حکمرانوں کی طرح کوئی ایجنڈا لے کر نہیں آیا ۔ مجھے آ پ کے سروں کی قسم !کہ آج میں قوم کے سامنے جو کہونگا وہ انشاء اللہ میں کر کے د کھا ؤنگا۔ میں نے آج بھاری دل کے ساتھ اس عظیم چیلنچ کو قبول کیا ہے ۔ میں عوام میں سے ہوں میں آپ ہی کی طرح سوچتا ہوں ۔ میں لگی لپٹی بغیر کہتا ہوں کہ میں ایسی لوٹ مار والی جمہوریت پر لعنت بھجتا ہوں جس میں جب بھی کسی بڑے قومی ڈاکو پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے تو یہ علی بابا اور چالیس چوروں کا ٹولہ جمہوریت خطرے میں ہے کے نعرے لگا کر عوام کو گمراہ کر دیتے ہیں ۔ ہم نے اس ملک سے کرپشن اور بد عنوانی کو جڑ سے اکھاڑنے کافیصلہ کیا ہے ۔ ہمارا خیال تھا کہ اقتدار میں آئے بغیر ہم سیاسی حکمرانوں سے مل کر اس ناسور کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ لیکن ہماری خوش فہمی اس وقت کافور ہو گئی جب مفاہمت کے نام پر ملک کے دو بڑے نام نہاد جمہوری پارٹیوں نے اپنی صفوں میں قومی لٹیروں کو تحفظ دینے کیلئے مک مکا کر لیا ۔ اب میں سابقہ حکومت کی سر پرست اعلیٰ’’ سب پر بھاری‘‘ کے کارہائے نمایاں کی چندفیصد واقعات آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں۔ اپنے دور حکومت سے قبل مسٹر10% کا نام کمانے والا اب بر ا ہ ر است حکومت میں 10% سے سینٹ پرسنٹ بن گیا تھا جس نے مفاہمت کے نام پر انت مچا کر لوٹ مار کی داستانیں رقم کیں۔ ملک بھر میں ہر میگا پراجیکٹ میں اپنا حصہ وصول کیا ۔ سو سے زیادہ کاغذی پراجیکٹس کی اربوں کی رقم اپنی جیب میں ڈال دی ۔ بلڈنگز کی تعمیر میں کمیشن، روڈز بنانے میں کمیشن ، ایک خاص منصوبے کی منظوری میں کمیشن، بجٹ میں کمیشن ، بیرونی سودو ں میں کمیشن ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے بھاری قرضوں میں کمیشن، اندرونی قرضوں میں کمیشن ، غریبوں کی خون پسینے کی ٹیکسسز میں کمیشن ، اس نے گینگ بنائے ،ان سے پیسہ لیا ، سمگلروں سے کروڑوں اربوں لے کر ان کو تحفظ دیا ۔ ٹارگٹ کلر زسے بھاری رقم لے کر انکو فری ہینڈ دیا ۔ بھتہ خوروں سے حرام کی مال لے کر انکی سر پرستی کی ۔قاتلوں کو پیسوں کی عوض کھلے عام چھوڑا ، اداروں کے سربراہوں کو یر غمالی بنا کر اور ان سے بھاری رقم لے کر انکو ملک میں لوٹ مار کی کھلی چھو ٹ دیدی۔ سندھ حکومت سے سالانہ ایک کھرب کا بھتہ وصول کیا ۔ا لغر ض پیسہ اور ڈالرز انکا ایمان بن چکا تھا ۔ اور عوام کی خون کا آخری قطرہ بھی چوس لیا اور جب دم پر معمولی پاؤں آگیا تو عوام کو فی کس ایک لاکھ بیس ہزار روپے سے زیادہ کا مقروض چھوڑ کر اینٹ سے اینٹ بجا نے کی دھمکی دی اور رفو چکر ہوگیا ۔ ہم نے اسکو گرفتار کرنا چاہا ۔ لیکن اسکے مفاہمتی بھائی نے اسکو جانے دیا کچھ اربوں ڈالر کا مال تو وہ دنیا کے مختلف بینکوں میں رکھ چکے تھے ۔ جبکہ ڈالرز اور روپے سے بھرے کچھ بریف کیس انکے دبئی محل میں انکے پاس نقد پڑے تھے ۔دیگر ڈالرز کی کچھ بریف کیس ملک میں رہ گئے جن کو ایان علی ٹائپ منی لانڈرنگ کے ذریعے ملک سے باہر لے جانے کی کوششیں کیں ۔ یہی صورتحال سب پر بھاری کے دوست شیر کی بھی تھی ۔ہم نے ’’ شیر ‘‘ کو گڈ گور ننس کا مشورہ دیا لیکن وہ اس مشورے پر سیخ پا ہوئے بڑے شریفوں پر بھی میگا پرپشن سکینڈلز ہیں۔ ان کے خلاف نیب میں کئی سالوں سے اہم کیسسز زیر التو ا ہیں۔ اپنے دھندوں کو چھپانے کیلئے میرٹ سے ہٹ کر اہم ترین پوسٹو ں پر اپنوں کو لگایا ۔ ان کے دور میں بھی سریوں کے قصے ، سیمنٹ کے قصے ، منی لانڈرگ کے قصے ، میٹرو اور اورنج کے قصے ، اپنو ں کو بڑے ٹھیکے دینے کے قصے ، بڑے سودوں میں بھاری کمیشن کے قصے ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قرضوں میں کمیشن کے قصے اپنے لٹیروں کو بچانے کیلئے ٹیکس ایمنسٹی کے قصے ، پلی بارگین کے نام پر ملک کے سیاسی لٹیروں کو دوبارہ واردات کرنے کیلئے فری ہنڈ دینے کے قصے ۔رشتہ داروں کے شہزادوں اور شہزادیوں کی کرپشن کے قصے ۔۔۔ آخر کیا وجہ ہے کہ مملکت خداداد کی معیشت 1990 تک روبہ ترقی تھی ۔ اس وقت جب ملک کے دیگر ترقی پذیر ممالک ترکی ، سری لنکا ، برازیل وغیرہ کی معیشتیں روبہ تنزل تھیں۔ جبکہ ایسا واضح نظر آرہا تھا کہ ہمارا ملک آئندہ دس سالوں میں یقینی طور پر ایشین ٹائیگر بنے گا ۔لیکن ہم دھڑام سے گر گئے اور شاندار مستقبل سے مایوس ممالک ترکی وغیرہ کی معیشتوں کو پہے لگ گئے ۔یہ سب ان جمہوری سیاسی لٹیروں کی وجہ سے ہوا ۔
محب وطن ہم وطنو ! اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں۔ کسی سیاسی لٹیرے پر ہاتھ ڈالنے کے نتیجے میں تمام سیاسی لٹیرے یک جان اور دو قالب ہو کر جمہوریت کو خطرہ ہے کے نعرے لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی مذہبی رہنماء کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا جائے تو وہ اسلام خطرے میں ہے کے نعرے لگانا شروع کر دیتا ہے ۔ حقیقت میں کرپشن کے حوالے سے تیر ، شیر ، بیٹ ، لال ٹین، اور کتاب والے سب ایک پیج پر ہیں۔ ہم نے گزشتہ چار ماہ میں بڑی راز داری سے ان تمام لوگوں کے کرپشن کے ناقابل تر دید ثبوت حاصل کرلئے ہیں اور گزشتہ رات موجودہ حکومت کو سابقہ بناتے ہی ملک کے دیانتدار اور با کردار بیس افراد پر مشتمل ایک کمیشن بنائی ہے جن سے اللہ تعالیٰ کے پاک کلام پر حلف لیا گیا ہے کہ وہ ذاتی اناؤں کی تسکین سے ہٹ کر تمام قومی لٹیروں کا تین دن کے اندر اندر فیصلے کو یقینی بنائے اپنی پہلے گھنٹے کی سماعت کے نتیجے میں ہم نے ان کے حکم کے مطابق زیادہ تر قومی لٹیروں کو انکے گھروں کے دروازوں کے سامنے الٹا لٹکایا ہے ۔ سندھ اور بلوچستان کے چند ایک کو نیٹو کے اسلحے سے بھرے کنٹینرز میں بند کر دیا ہے ۔اور کے پی کے کے ایک بڑے کو نوشہرہ کی پہاڑیوں میں ایک مائنز کمپنی کی ایک دفتر میں مقید کیا ہے ۔ ان سب کا نظارہ میں آپکو دکھا ؤنگا ۔ سر دست آپ وزیر اعظم او ر صدر ہاؤس ، اور پارلمنٹ کی راہداریوں پر اپنے قومی لٹیروں کو دیکھنے چلئے میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ ان قومی لٹیروں کا شفاف انداز میں ٹرائل کر کے تین دنوں میں ان کو عبرت کا نشان بنائینگے ۔ اور کسی بھی لٹیرے کو دبئی ، سعودی عرب ، انگلینڈ اور امریکہ نہیں جانے دینگے ۔ اور آپ ہی کی اُمنگوں کے مطابق اس سیاسی گند کو اسکی گراس روٹ لیول سے لے کر اوپر تک مکمل صفائی کرئینگے قومی لٹیروں سے کھربوں ڈالرز کی لوٹی ہوئی رقم واپس کرئینگے ۔ جسکے لئے ہم نے سختی سے تین مہینے کا ٹائم فریم مقرر کیا ہے ۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں اللہ کی نصرت سے پاکستان میں امریکی ، بھارتی اور اسرائیلی مداخلت کو سو فیصد ختم کرونگا ۔ اور اس ٹارگٹ کے حصول کیلئے میں نے بیس دن مقرر کئے ہیں۔ ا للہ ہمارا اور آپ کا حامی و ناصر ہو ۔ والسلام
خاکی وردی والے کے ہدایت کے مطابق عوام کا ٹھاٹیں مارتا ہوا سمندر وزیر اعظم ، صدر ہاؤس اور پارلیمنٹ کی طرف بڑی بے ہنگم طریقے سے بڑھنے لگا میں بھی ان کے درمیان تھا مجھے بے ہنگم ہجوم کی وجہ سے آگے پیچھے سے دکھے لگے اس ہجوم اور دھکم پیل میں کافی لوگ زمین پر گر گئے میں بھی دھکوں سے نڈھال ہو کر زمین پر گر پڑا مجھے شدید چوٹیں لگی ایک بھاری بھر کم شخص کا بھاری پاؤں میرے سر کے اوپر آگیا اور مارے درد کے میں چیخ اٹھا اور نیند سے جا گ کر اپنی خواب پر ہنسنے لگا ۔


کہانی کو شیئر کریں۔


آپ یہ بھی دیکھنا پسند کریں گے

اپنی رائے کا اظہا ر کریں۔



Total Comments (0)

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ مانندآئینہ محفوظ ہیں۔

بغیر اجازت کسی قسم کی اشاعت ممنوع ہے

Powered by : Murad Khan