اصلی اور نقلی چو ہوں کی جنگ اور جیونٹیاں

جمرات 07 اپریل 2016



گزشتہ 2 عشروں سے ملک بھر میں چوہوں کی مجالس منعقد ہو رہی ہیں ۔ اسلام آباد کی طرح ملک کی چاروں صوبوں میں چوہے خود کو بلی سے بچانے کی تدابیر میں مصروف عمل ہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ بلی کی مدت پوری ہورہی ہے ۔’’لہذا سب اچھا ہے ‘‘ ۔ کبھی یہ افوااہ پھیل جاتی ہے ۔ کہ بلی اچانک یوٹرن لے گی اور ہم سب کو اپنے بلوں میں واپس گھسنا پڑے گا کبھی سنا جاتا ہے کہ بلی جمہوریت کی بساط نہیں لپیٹے گی اور باعزت طریقے سے اپنی راہ سدھارے گی ۔ نقلی چو ہے (صاحبان اقتدار) مجالس پر مجالس منقعد کرتی ہیں لیکن اچانک باہر جب بوٹ کی چھاپ سنائی دیتی ہے تو چوہوں کے مجالس پر سناٹے کا راج مسلط ہو جاتا ہے کیونکہ اکثر نقلی چوہوں کی دلوں میں چور بیٹھے ہوتے ہیں ۔ اور اس ظالم چور نے ان بچارے نقلی چوہوں کو کہیں کا نہیں چھوڑا ہے ۔ لیکن دلوں میں چور ہونے کے باوجود وہ روپے ،غلے اور دیگر اشیائے خورد نوش کا چورہ بنا بنا کر باہر کے گوداموں میں منتقل کر رہے ہیں ۔ اور یہاں چیونٹیوں ( عوام) مارے بھوک، پیاس اور پریشانیوں سے زندہ درگور ہو رہے ہیں ۔ دھرتی کے نگر نگر ، گلی گلی ، کو چہ و بازار میں نقلی چوہوں کا راج ہے جبکہ تبدیل شدہ KPK میں( جہاں تھانہ پٹوار کلچر عوام دوست ہیں بڑے نقلی چوہے عوام کے خادم ہیں۔ دودھ اور شہد کی نہریں ہیں)۔ اصلی اور نقلی چوہوں میں گھمسا ن کار ن پڑا ہے ۔ نقلی چوہے خواب غفلت میں پڑے تھے۔راوی ہر طرف چین کی بانسری بجا رہا تھا ۔ نقلی چوہوں نے تبدیلی کا نعرہ لگا کر ایوانوں میں سر پرآرائے اقتدار ہوئے ہیں ۔ KPK میں انقلاب برپا کیا۔ نظام کو عوام دوست بنایا ۔ کرپشن ختم کی ۔ قانون کی بالادستی قائم کی ۔ امن قائم کیا ۔ چوری ڈکیتی کی شرح زیرو کو چھوگئی ۔عوام کو خوشحال بنایا ۔ تیز تر انصاف کو یقینی بنایا ۔ میرٹ کا بول بالا کیا ۔ بے روزگاری کا جن بوتل میں بند کیا ۔ غریب اور امیر کا فرق ختم کیا ۔ اصلی چوہوں کو خوراک کیلئے در بدرگھو منے کی مشقت سے آزاد کیا۔ ان کو بلوں کے اندر تیار خوراک ملنے لگی ۔ تو انکے جسامت بڑھنے لگے اور وہ خوب توانا سے توانا ہوتے گئے ۔ لیکن ساتھ ان کی ہوس کی بھوک نقلی چوہوں کی طرح بڑھتی ہی رہی ۔ آخر کار انھوں نے پڑوس میں پنجاب اورکابل کے چوہوں سے رابطہ کیا۔ آن لائن میٹنگ ہوئی ۔ فیصلہ ہوا اور فیصلے کے مطابق وہ اچانک اپنی بلوں سے ایسے امڈ آئے جیسے پانی کا ایک زور دار چشمہ اچانک ابل پڑتا ہے ۔ انھوں نے پشاور سے اپنے حملے کا آغاز کیا۔ وہ چوہے تھے اور اصلی چوہے ۔ نقلی چوہے صبح خواب غفلت سے بیدار ہوئے ۔ تو انکے بیڈ رومز کے کونے، کچن کے خوارک دانوں، چھتوں کے بالا خانوں اور واش روم کے واش بیسنوں پر ان کا قبضہ تھا۔ نقلی چوہے گھبرائے ، انھوں نے مقابلے کا فیصلہ کیا۔ اپنی صفوں کو درست کیا ۔خود کو مسلح کیا ۔ اور جوابی حملہ کیا۔ گھسمان کارن پڑا۔ لیکن نقلی چوہے مات کھا گئیے۔ پسپائی اختیار کی ۔ شکست خور دہ نقلی چوہے چونکہ صوبے میں ایوان ہائے اقتدار کے مکین تھے ۔ میٹنگز پر میٹنگز کیں اجلاس پر اجلاس منعقد ہوئے ۔ قرار دادیں پاس کیں ۔ 
چونکہ گھبرائے ہوئے تھے ۔ حملے کی قیادت کون کرے گا؟۔ صحت کے چوہوں کے ’’بڑے‘‘ نے کہا کہ اصلی چوہوں کو تلف کرنا بلدیات کے نقلی چوہوں کی ذمہ داری ہے ۔ بلدیات کے چوہوں کے ’’ رہبر‘‘ نے جواب دیا ۔ زندہ چوہا آپ کا او رمردہ ہمارا۔ تنازعہ بڑھ گیا ۔ آپس میں پھرمیٹنگ کی ۔ فیصلہ کیا کہ اس بلا پر آگے سے وار کرنا خطرناک ہے ۔ ذمہ داری ڈسٹرکٹ نقلی چوہے پر ڈال دی ۔ اور کہا کہ ہم پیچھے سے سپورٹ کریں گے ۔ڈسٹرکٹ چوہے نے اجلاس بلایا ۔ چونکہ مقابلہ مشکل تھا ۔ ڈسٹرکٹ چوہے نے صوبائی چوہوں سے مل کر چیونٹی (عوام) کے ذریعے اصلی چوہوں سے لڑنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اسکے لئے چیونٹیوں کو بھی دانہ ڈالنا ضروری تھا۔ لہذا 25 روپے فی اصلی چوہے مارنے کی قیمت مقرر ہوئی چیونٹیاں نہ مانے تو 25 سے100 روپے کر دی ۔ چیونیٹوں کا اصرار تھا کہ’’ یہ بھی کم ہے ‘‘۔ توفی چوہا 300 روپے کا ہو ا۔ چیونٹیوں نے کہا کہ ’’ ایک چوہا مارنے پر 300 روپے تک کا خرچہ آتا ہے ۔ ہمیں کیا بچے گا ‘‘۔۔۔۔ اس تمام منظر نامے میں بلی خاموش تماشائی کا کردار ادا کر کے دور بیٹھی حالات سے محظو ظ ہو رہی تھی ۔ اگر چہ بلی طاقتور ہے ۔ طاقتورکیوں نہ ہو آخر شیر کی تو خالہ ہے ۔چیونیٹوں پر جب کوئی افتاد پڑی ۔ تو یہی’’ بلی‘‘ میدان میں آئی اور بے بس چیونیٹیوں کی خبر گیری کی اور داد رسی بھی۔ سیلاب ہوں یا زلزلے ، طوفان ہو یا بادوباران، اندرونی حملہ ہو با بیرونی جارحیت ، قدرتی آفت ہو یا مصنوعی آفت ۔ یہ ’’بلی ‘‘ ہمیشہ سے چیونیٹیوں (عوام ) کی محسن ثابت ہوئی ۔ لہذا اب کی بار بھی جب معاملہ سنبھالنے ہی نہیں سنھبلا۔ تو ساری نظریں ’’بلی ‘‘کو مرکوز ہوئیں ۔ لیکن ’’بلی‘‘ نے کہا کہ خود نمٹو ۔ حالانکہ چوہا اصلی ہو یا نقلی ۔ ’’بلی ‘‘کی ایک مار کی تاب نہیں لا سکتے ۔ چیونیٹیوں کی بار بار’’ میں نہ مانوں‘‘ کی وجہ سے ریٹ 300 سے500 کرنا پڑا۔ اب چیونٹیاں تیار ہوئیں۔ وہ اصلی چوہوں پر ٹوٹ پڑے ۔ چند لمحات میں ان کا بھرکس نکال دیا۔ انھوں نے اپنے کمین گاہوں میں مردہ چوہوں کے ڈھیر جمع کئیے بلدیاتی اور صحت کے ’’ نقلی چوہوں ‘‘کے سامنے ڈھیر لگالئیے۔ دونوں نے سکھ کا سانس لیا۔ معاوضہ دینے کی بحث ’’ ڈسٹرکٹ نقلی چوہوں ‘‘کے ایوان میں شروع ہوئی ۔ شور مچ گیا ۔ ایوان مچھلی بازاربن گیا ۔ کہا گیا کہ یہ ریٹ بہت زیادہ ہے ۔ کوئی معاوضہ نہیں ملے گا ۔ مردہ چوہے گلی کو چوں ، گھروں اور چوراہوں میں سڑنے لگے ۔ ہر ہر گلی ، ہر ہر بازار اور ہر گھر میں چوہا چوہا کی بحث شروع ہوئی ۔ چیونیٹیاں تعفن سے پاگل ہونے لگے خدشہ تھا کہ اس بلا سے وہ جان سے چلے نہ جائیں ۔ بلدیات اور صحت کے نقلی چوہوں کے ’’سر براہوں ‘‘نے ان کے ساتھ ہاتھ کر گیا تھا ۔ 
اصلی چوہے (جو وبال جان بن گئے تھے ) دوسری جہا ن کو سدھار گئے تھے اب میدان میں ظالم ’’نقلی چوہے ‘‘اور بچارے مظلوم چیونیٹیاں ہی بچے تھے چیونیٹیوں نے کہا کہ’’ یہ نقلی چوہے ہمیشہ ہم سے ہاتھ کر جاتے ہیں او ر ہماری سادہ لوحی پر ماتم کرنا چاہےئے کہ ہم ہیں کہ ہر بار ان کے ڈسنے کے باجود دوبارہ ہاتھ باندھے زانوئے تلمذ کئیے ان کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں ۔ آئندہ ہم ان پر اعتبار نہیں کریں گے انھوں نے ہمیشہ ہم سے ہاتھ کیا ہے ۔ لیکن ابھی ہمارے ، ہاتھ میں ایک کارڈ باقی ہے جسکا استعمال ہم 2018 میں کریں گے اور اصلی چوہوں سے حساب کتاب بے باق کرنے کے بعد نقلی چوہوں سے بھی حساب کتاب بے باق کریں گے ۔


کہانی کو شیئر کریں۔


آپ یہ بھی دیکھنا پسند کریں گے

اپنی رائے کا اظہا ر کریں۔



Total Comments (0)

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ مانندآئینہ محفوظ ہیں۔

بغیر اجازت کسی قسم کی اشاعت ممنوع ہے

Powered by : Murad Khan