نواز حکومت ہوش کے ناخن لیں

ہفتہ 16 اپریل 2016


مئی 2013 کا الیکشن دراصل پی پی پی کی بدترین طرز حکمرانی کا عوام کے شدید رد عمل کا عکاس تھا۔ جب عوام نے سب پر بھاری کے اس قول پر عمل کر د کھا یا ۔ کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے ۔ 2013 کے الیکشن کمپین میں نواز شریف اور اسکے بھائی خادم اعلیٰ نے پنجاب اور ملک بھر کے دورے کئیے۔ بڑے بڑے جلسوں سے خطاب کیا اور قوم کی ڈوبتی ناؤ کو بچانے کیلئے ایک منشور پیش کیا ۔ جس پر عوام نے بڑی حد تک اعتماد کر کے ان پر ووٹوں کی بارش کی۔اور ان کو بھاری مینڈیٹ سے نواز ا۔ اب کی بار عوام ایک بہترین اور شفاف طرز حکمرانی کو ترس رہے تھے ۔ نواز شریف نے قوم کی نبض پر ہاتھ رکھ کرپشن کے خلاف نعرہ لگا کر قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ نہ صرف ایک شفاف طرز حکمرانی کی داغ بیل ڈالیں گے ۔ بلکہ PPP دور میں لوٹی ہوئی دولت کو واپس لے کر قوم کی خزانے میں جمع کرائیں گے ۔ کرپشن کی بیخ کنی ، عوام دوست نظام، میرٹ کی بالا دستی ، تیز تر انصاف کی فراہمی، روزگار کی فراہمی اور دہشت گردی کی بیح کنی کو اپنا مشن قرار دیا ۔ مسئلہ کشمیر ،ہمسایوں خصوصاً افغانستان سے تعلقات خارجہ پالیسی کے اہم ستون ہیں۔ مسئلہ کشمیر کو وہاں کے عوام کے امنگوں کے مطابق حل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اور بتایا کہ ایٹمی پروگرام پرکوئی سودے بازی نہیں کریں گے ۔ پاک بھارت تعلقات میں مسئلہ کشمیر کو اولیت حاصل ہوگی ۔ انھوں نے ملک بھر میں بھارتی دراندازی پر PPP حکومت کی خاموشی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ بھارت کا مکروہ چہرہ اقوم عالم کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا۔ او ریوں بلند بانگ دعوؤں ، جھوٹے وعدوں کے ذریعے مئی 2013 میں عوام سے مینڈیٹ چرایا ۔ 
اپنی دور حکومت کے پہلے سال نوازحکومت کی کارکردگی کسی حد تک تسلی بخش رہی ۔ لیکن پھر ملک کی داخلی معاملات میں انکی سوچ پر انتہائی متازع شخصیت او رمعاشی جادوگر اسحاق ڈار چھا گئیے ۔ اور انھوں نے ورلڈ بینک اور IMF کے کہنے پر نواز شریف سے مکمل عوام کش فیصلے کرائے جسکی وجہ سے حکومت کا ستارہ کئی بار گردش میں رہا ۔ لیکن خوش قسمتی سے وہ ہر بحران سے سرخرو ہو کر نکلی لیکن وہ فوج سے شاکی رہے اور عوام سے ناراض دکھائی دےئے جو اسکے خیال میں اسکے تمام قومی مفاد کے پر اجیکٹس میں کیڑے نکالتے ہیں ۔ 
نواز شریف کا مزاج و سیع تر مشاورت کے خلاف رہا ہے ۔ وہ حسب سابق سارا انحصار قومی کابینہ اور پارلیمنٹ کی بجائے اپنے چند رشتہ داروں اور کچن کا بینہ پر کرتے ہیں۔ پارلیمنٹ عموماً اسکی دیدار کو ترس جاتی ہے ۔ لیکن وہ عوام کی ایوان کو اپنا چہرہ دکھانے کا روادار نہیں رہتا۔ جسکی وجہ سے اندرونی محاذ پر وہ کمزور سے کمزور تر ہوتے جا رہے ہیں۔ لیکن خارجہ محاذ پر بھی اسکی پالیسیاں عوام کے امنگوں کے برعکس نظر آتی ہیں ۔ بلکہ خارجہ محاذ پر اگر نواز حکومت یہودی ساہوکاروں کے علمبردار ورلڈ بینک اور IMF کے دباؤ میں نظر آتے ہیں تو یہ سمجھنے والی بات ہے کیونکہ قرض کے ٹکڑوں پر معاملات حکومت چلانے والا حکمران قومی غیرت و حمیت سے کوسوں دور ہوتا ہے۔ اور یہی حال موجودہ نواز حکومت کی ہے ۔ قوم سب کچھ برداشت کرتی ہے لیکن انڈیا کے سامنے مدافعانہ انداز ہر گز برداشت نہیں کرتی جبکہ نواز حکومت نامعلوم وجوہ کی بناء پر انڈیا کے سامنے بھیگی بلی بنی ہوئی ہے ۔ ہندوستان کی بنیاد پرست حکومت کھلے عام پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے اور 1971 میں دولخت کرنے پر فخر کرتی ہے اور نواز شریف انڈیا کے پاکستان دشمن وزیر اعظم کو اپنی نواسی کی دعوت ولیمہ پر بلاتے ہیں۔ ہندوستان کے کئی اعلیٰ حکام کئی مواقع پر کراچی اور بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کا اعتراف کرتے ہیں۔ اور نواز شریف کسی فورم پر انڈیا سے احتجاج کی بجائے دوستی کی باتیں کرتے ہیں۔ مودی کی بنیادپرست حکومت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتے ہیں او رنواز شریف بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعے کشمیر کو پس پشت ڈال کر تجارت کی یقین دہانی کرتے ہیں ۔ انڈیا میں پٹاخہ پھٹے تو تحقیق کئے بغیر الزام پاکستان پر دھرلیا جاتا ہے ۔ اور پاکستان کی قابل ترین سیکورٹی ایجنسیاں دھڑا دھڑ پاک دھرتی سے را کے ناپاک ایجنٹس گرفتار کر کے حکومت کے ہاتھ میں انڈیا کی دراندازی کی ناقابل تردید ثبوت دے دیتے ہیں۔ لیکن حکمران احتجاج کا ایک لفظ زبان پر لانے پر تیار نہیں ہوتے ۔ انڈیا اجمل قصاب نامی مہرے کو دوسرے ملک سے اغواء کر کے انڈیا ہی میں پاکستان کے خلاف منظم ڈرامہ سٹیج کر کے پاکستان کے خلاف عالمی رائے عامہ میں واویلا مچا دیتے ہیں ۔ اور نواز حکومت انڈیا کی حکومت کو ایک بڑی دہشت گردی سے بچانے کیلئے ان کیلئے مخبر کا کردار ادا کر تی ہے۔ مودی کی کافر حکومت پٹھان کوٹ فلم چلا کر اپنے کچھ بندوں کو قربانی کا بکرابنا کر پاکستان کے خلاف اقوام متحدہ کے دروازے پر دستک دیتا ہے اور پاکستان کی مایہ ناز انٹیلی جنس ایجنسیاں جان جھوکوں میں ڈال کر انڈیا کی حاضر سروس انٹیلی جنس افسر گل بھوشن کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر کے بھی نواز حکومت احتجاج کا ایک لفظ بھی زبان پرنہیں لاتی۔ احتجاج تو کیا ایٹمی طاقت کی حا مل اس ملک کی بے غیرت حکمرانوں کی غیرت اس وقت بھی نہیں جاگتی ۔ جب پاکستان کی ازلی دشمن ملک بھارت اپنے ہاں ہونے والے معمولی واقعے کا الزام پاکستان پر تھوپتی ہے تو ساتھ دھمکی آمیز انداز میں پاکستان کو مطالبات کی ایک فہرست تھمادیتے ہیں۔ اور نواز حکومت آؤ دیکھا نہ تاؤمن و عن دشمن کے مطالبات پر پاک دھرتی میں کاروائی شروع کرتی ہے ۔ گرفتاریاں کرتی ہیں۔ FIR درج کرتی ہے ۔ اور تفتیش میں مکمل تعاون کی یقین دھانیاں کرتی ہے ۔ دوسری طرف کشمیر میں بھارتی مظالم ، پاکستان میں کھلی اور باثبوت دراندازی پر حکومت پاکستان اپنی آنکھیں بند رکھتی ہے ۔ اس تمام منظرنامے میں مبینہ طور پر جب فوج کی اعلیٰ ترین قیادت سیاسی قیادت سے اپنی ملاقات میں یہ مطالبہ کرتی ہے کہ اقوام عالم میں انڈیا کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا جائے ۔ تو حکومتی عمال ایک آدھ بے ضرر جھوٹا بیان انڈیا کے خلاف داغتی ہے ۔ کئی مواقع اس بات کی شاہد ہیں کہ نواز شریف نے اخبار کی شہ سرخی پر اعلان کیا کہ پاکستان میں انڈیا کی دراندازی کی ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں ہم اقوام متحدہ ، امریکی حکومت اور انڈیا کے ساتھ بات چیت میں ہندوستان کی حکومت کے تمام معاملات اٹھائیں گے لیکن نواز حکومت کی تاریخ میں ایک موقع ایسا نہیں آیا جب اس نے اپنے اعلان کے مطابق انڈیا کی پاکستان دشمن سر گرمیوں کو کسی بھی بین الاقوامی فورم پر اٹھایا ہو۔
اسی طرح خارجی محاذ پر افغانستان کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں۔ ایران کے ساتھ تناؤ کا شکار ہیں۔ خلیجی ممالک کے ساتھ بداعتمادی کی فضا ہے ۔ ہر مشکل وقت میں ساتھ دینے والے ملک سعودی عرب کے ساتھ سرد مہری ہے ۔ بلکہ اب تو کئی اسلامی ممالک میں بھارتی را کے بیس کمیپس قائم ہیں ۔ امریکہ ہماری حکومت پر اعتماد کو تیار نہیں ۔ خود اسکی جیل میں قوم کی عزت کی نشانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی گل سڑ رہی ہے ۔ لیکن وقت کے فرعون صفت حکمرانوں کو امریکہ سے بات کرنی کی جرأت نہیں ۔ایسا نظر آتا ہے کہ موجودہ حکومت اور اسکے تمام بڑوں کے منہ کو بھی سابقہ زرداری حکومت کے بڑوں کی طرح کافر ڈالر کی لت پڑی ہے جنہوں نے اپنی کاروباری مفادات کیلئے مبینہ طور پر ملک کے سلامتی سے متعلق تمام معاملات کو داؤ پر لگالیا ہے ۔ حکمرانوں اور اسکے کارندوں کو اپنی عیاشیوں سے فرصت ملے تو وہ عوام کی خبر لیں ۔ جو بے روزگاری ، بد امنی اور نا انصافی کے کئی چکیوں کے درمیان پس رہی ہے ۔ بد قسمتی یہ ہے کہ عوام نہ صرف موجودہ حکمران قیادت سے مایوس ہیں بلکہ وہ ملک کی تمام سیاسی اشرافیہ سے انکی بد اعمالیوں کی وجہ سے دن بہ دن متنفر ہوتے جا رہے ہیں ۔ جسکی وجہ سے ملک و قوم کے اندر ایک خطرناک سیاسی خلا جنم لے رہا ہے ۔ لہذا حکمرانوں اور سیاسی اشرافیہ کو زمینی حقائق کے مطابق اور سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر عوام کی بے لوث اور بے لاگ خدمت کی طرف متوجہ ہونا چاہئے ورنہ وہ دن دور نہیں جب ’’تمھاری داستان تک ہی نہ ہوگی داستانوں میں ‘‘ والی صورتحال پیدا ہونے کا اندیشہ ہے ۔


کہانی کو شیئر کریں۔


آپ یہ بھی دیکھنا پسند کریں گے

اپنی رائے کا اظہا ر کریں۔



Total Comments (0)

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ مانندآئینہ محفوظ ہیں۔

بغیر اجازت کسی قسم کی اشاعت ممنوع ہے

Powered by : Murad Khan