ادب صرف شعر وشاعری کانام نہیں،یہ پورے زندگی پر محیط ہونے کانام ہے

اتوار 08 مئی 2016


بٹ خیلہ(بیورورپورٹ) ادب صرف شعر وشاعری کانام نہیں،یہ پورے زندگی پر محیط ہونے کانام ہے۔اگر شاعرجو لکھتا ہے اور ان کی زندگی میں وہ نظر نہ آئے تو یہ ادب کے ساتھ مذاق ہے۔نثری اصناف میں لکھائی بہت کم ہے ان پر توجہ دینی چاہئے۔ان خیالات کااظہار پروفیسر کریم جان نے ملاکنڈا دبی سنگر درگئی کے زیر اہتمام بمقام ہیڈے سکول اینڈ کالج درگئی میں منعقدہ مشاعرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس کی صدارت محمد زیب منصور نے کی۔ جبکہ سٹیج کے فرائض نیازک خان نے سر انجام دئیے۔ اس موقع پر فیض محمد مظلوم نے یوم مزدور کے حوالے سے تاریخی حوالوں کے ساتھ اپنے خیالات کااظہار کیا جبکہ موجودہ دور کو مزدور کیلئے انتہائی سخت اور مشکلات سے بھرپور دور قرار دے دیا۔اجلاس سے ممتاز شاعر اور ادیب امیر رزاق امیر نے اپنا افسانہ بہ عنوان آفسانہ اور تصور پیش کیا۔ جیسے حاضرین نے کھل کر داد دی اور اسے پشتو جدید ادب میں ایک نیا اضافہ قرار دے دیا۔ بعد میں ایک غیر طرحی مشاعرہ ہوا جس میں نیازک خان، حیات شلمانے ، عمران خان عمران، محمد زیب منصور،یعقوب اعوان، پیر غفران مجاہد، عاصم علی احسان، حیات افغان، احسان اللہ محسن، سعادت سادہ، شاکر بہار، شاہد خیال، سی ایم شہزاد، فیض محمد مظلوم، سید لطیف لطیف، زیراب گل گل، سہراب دلگیر، فضل داد فضل، سید امیر قاسم ہاشمی ، پروفیسر کریم جان،امیر رزاق امیراور دیگر نے اپنے کلام سے حاضرین کو خوب محظوظ کیا۔


کہانی کو شیئر کریں۔


آپ یہ بھی دیکھنا پسند کریں گے

اپنی رائے کا اظہا ر کریں۔



Total Comments (0)

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ مانندآئینہ محفوظ ہیں۔

بغیر اجازت کسی قسم کی اشاعت ممنوع ہے

Powered by : Murad Khan