تکبر نا کر

ہفتہ 11 Jun 2016


اے انسان ذات ایک نا ایک دن مرنا زور ھین موت کا مظر نا راھا ھی کوئی نا رھی گا کوئی مرنا ھی ایک نا ایک دن دستور اے دنیان موت کے بعد تھا مین ننید مین اور مجھے اتنا سجھا یا جارھا تھا بڑے ھی پیار سے نھلایا جارھا تھا نا جانے تھا وھی کون سا عجب کے میری گھر مین بچون کی طرح مجھے کندے پے اٹھایا جارھا تھا تھی پاس میرے اپنی اس وقت فر بھی مین ھر کسی کے مون سے بولا یا جار ھا تھا جو کبھی دیکتے بھی نا تھے محبت کی نگھا ھون سے ان کے بعد دل سے پیار مجھ پر لٹا یا جا رھا تھا معلو م نھین حیران تھا ھر کوئی مجھے سو تے ھوتے دیک کے زور زور سے رو کر مجھے حسایا جارھا تھا تڑپ اٹھی میری روح وھی مقام دیکھ کے پتا چلا جب دفنا یا جارھا تھا رو پڑا مین بھی دکھ کر مجھے ھمیشا کے لئے سلا یا جارھا تھا یے عجب کے دنیا ھے تماشا تو نھین ملے


کہانی کو شیئر کریں۔


آپ یہ بھی دیکھنا پسند کریں گے

اپنی رائے کا اظہا ر کریں۔



Total Comments (0)

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ مانندآئینہ محفوظ ہیں۔

بغیر اجازت کسی قسم کی اشاعت ممنوع ہے

Powered by : Murad Khan