آو اللہ کیطرف رجوع کریں ۔

پیر 19 Sep 2016




ہمارا اسلام ایک مکمل دین ہے ۔ جمسیں زندگی گزارنے کے سب شعبوں کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ کہ آپ نے معاشی مسائل کیسے حل کرنے ہیں ۔ معیشتی مسائل کا حل ، سیاسی حالات کا بنانا ، گھر یلو زندگی گزارنے کا طریقہ ، لہذا زندگی کا کوئی ایسا پہلو آپ کو ایسا نہ ملے گا ۔ جمسمیں اسلام نے انسان کی رہنمائی نہ کی ہوں۔ میں ایک چھوٹے سے مثال سے آپ کو یہ بات سمجھاتا ہوں کہ نبی کریم ؐ کے فرمان کا مفہوم ہے کہ آپ جب پانی پیتے ہیں تو بیٹھ کر پیئے اور اُ سے پہلے دیکھ لے کہ کوئی حشرات گند وغیرہ تو پانی میں موجود نہیں ہے۔ اب اگر آپ پانی (Directly) پی لے اور اس میں کوئی گند موجود ہویا کوئی ضرر رساں حشرات موجود ہو تو وہ آپ کو نقصان پہنچاسکتا ہے۔ پچھلے دِنوں میں ایک ورکشاپ میں سُن رہا تھا کہ (Appendix) کا مسئلہ ذیادہ تر پانی کھڑے ہو کر پینے سے (Cause) ہوتا ہےاور اُس بات کی دلیل میں کہا گیا کہ یہ پانی کھبی کھبار اپنی (Track) سے ہٹ کر دوسری غلط (Track) پر جاکر (Intestine) میں اس حصے کو (enlarge) کرتا ہے جو کہ (appendix)بن جاتا ہے ۔ لہذا آج سائنس جن باتوں پر (Research) کر رہی ہے وہ ہمارے آقائے دوجہان حضرت محمد ؐ نے 14 ،15 سوسال پہلے ارشاد فرمایا ہے۔
اسی طرح مُلک کے نظام چلانے کیلئے اسلام نے جو ضابطہ دیا ہے وہ ہے شریعت ، اُس شریعت میں ہر جرم کا سزا ظاہر ہے۔ اگر آپ کوئی غلط کام کریں گے تو آپ کو اس کے بدلے میں یہ یہ سزا دی جائیگی جسکی وجہ سے جرائم خود بخود ختم ہوجاتی ہیں ۔ اس بات کی دلیل میں ،میں آپ کو اپنے والد محترم کا وہ واقعہ سنا تا ہوں جو اُنھوں نے فرمایا ہے کہ آج سے تقریباً 35، 30 سال قبل کھلے عام میدان میں ایک چور سے ہاتھ کاٹا گیا تھا تو اِس بات سے لوگوں میں اتنی خوف پیدا ہوا تھا کہ کہ 15، 10 سال تک کوئی چوری کا مرتکب نہیں ہوا ۔ لہذا اسلام  اس بات پر توجہ دیتی ہے کہ ایک بندے کو تو سزا ملی گی لیکن باقی لوگ آرام سے ہونگے ۔ کوئی چوری ، ڈاکہ ، زنا ، شراب جوئی وغیرہ میں مرتکب نہیں ہوگا ۔ اگر امن وامان قائم کرنا ہو  ، بہترین زندگی گزارنے ہو ، مُلک کی ترقی درکار ہو وغیرہ وغیرہ، مختصراً  یہ کہ زندگی میں جنت کے مناظر دیکھنے ہو تو پورے کے پورے دین میں داخل ہونا ہے۔ کیونکہ قُرآن میں بھی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ "یا ایھاالذین اَمنو اِمنو " کہ اے ایمان والوں تم ایمان  لاو ۔ یہ کیسی بات ہے کہ مومنوں کو کہا گیا ہے کہ تم ایمان لاو ؟ ہاں یہ بات اس لئے فرمایا گیا ہےکہ پوری کے پوری اسلام میں  داخل ہو جاو ایسا نہ ہو کہ غم تو اسلام و شریعت کے مطابق گزارونگا اور پھر شادی میں وہی ہوگا جو میں چاہتا ہو یا  شیطان چاہتا ہے ۔ 
ہائے افسوس ، کتنی شرم کی بات ہے  کہ رسومات و رواج سے ہمارا معاشرہ (Complexity) اور بے چینی کا شکار ہے  جن لوگوں میں دین نہیں ، اصل میں وہ لوگ ناکام ہیں کیونکہ
دین میں ہی میں اِصل کامیابی ہے۔ بات سے بات نکلتی ہے۔ کہ قربان جاو صحابہ کرام  کی زندگیوں پر،ہا ں کیا عجیب لوگ تھے ہ ہ بات یاد آرہا ہے حضرت سلمان فارسی کا ، فارس کا رہنے والا ، ایک عظیم الشان گھرانے سے تعلق رکھنے والا، اُن کے متعلق مشہور تھا کہ وہ ایسی خوشبو استعمال کرنے تھے کہ وہ اُس کی پہچان بن گئی تھی کہ وہ لوگ محسوس کرکے بتاتے تھے کہ اِس راستے سے حضرت سلمان فارسی گزرے ہے اور عالیشان و خوبصورت لباس استعمال کرتے تھے اور جب آپ ؐ کی صحبت اخیتار کی تو پھٹے پورانے کپڑے ، کھبی روٹی ملتی کھبی نہ ، ماں نے کہا اے سلمان کیا مسئلہ آیا ہے تمھیں کہ عالیشان زندگی چھوڑ  کر مشقتوں بھری زندگی کو لے لی۔ حضرت سلمان فارسی نے جواب میں کہا کہ مجھے اس زندگی میں جو مزہ وسکون ہے وہ اورکہا ،   بس میرے ساتھیوں زندگی کا کیا بھروسہ کہ روح اور جسم کا یہ رشتہ کب ختم ہو نیوالا ہے، آو ! آو اللہ کی طرف رجوع کریں ، وہی ہمارا مالک ، رازق وخالق ہے اللہ تعالیٰ نے رزق کا وعدہ کیا ہے اور ضرور دیگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے  خود کو صرف رزق دینے والا نہیں فرمایا ہے بلکہ فرمایا کہ  اللہ بہترین رزق دینے والا ہوں ۔


کہانی کو شیئر کریں۔


آپ یہ بھی دیکھنا پسند کریں گے

اپنی رائے کا اظہا ر کریں۔



Total Comments (0)

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ مانندآئینہ محفوظ ہیں۔

بغیر اجازت کسی قسم کی اشاعت ممنوع ہے

Powered by : Murad Khan