ملاکنڈتحصیل ہیڈکوارٹرہسپتال درگئی میں ڈینگی وائرس کاشکارایک اورمریض داخل

منگل 04 اکتوبر 2016


درگئی(نامہ نگار) ملاکنڈتحصیل ہیڈکوارٹرہسپتال درگئی میں ڈینگی وائرس کاشکارایک اورمریض داخل ۔ڈینگی وارڈزمیں اب تک متاثرہ تین خواتین سمیت چھ افراد جالی نشین ۔ علاج میں صرف نارمل سیلائن ڈریپس،پیناڈول کوگولی تجویز۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسیر ملاکنڈ،ڈینگی پروگرام فوکل پرسن اورہسپتال ہذاکے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے باہمی مشاورت سے بین الاضلاعی متاثرہ مریضوں کو انکے متعلقہ مراکزصحت اورہسپتالوں کوواپس بھیجنے کی تجویزپر عمل درآمدجاری تھی کہ مقامی میڈیاکے مداخلت پر انکاانخلاء روک دیاگیا۔ایک ہفتہ گزرنے کے باوجودتحصیل درگئی کے کسی علاقے میں ڈینگی وائرس سے بچاؤ کیلئے حفاظتی سپرے کااہتمام نہیں کیاگیا۔اس سلسلے میں محکمہ صحت ملاکنڈکی مسلسل خاموشی معنی خیزہے ۔ڈینگی سے بچاؤ اورمتاثرہ امریضوں کیلئے مختص لاکھوں روپے کاخطیرفنڈزمتاثرہ مریضوں کے علاج معالجے پرصرف ہونے کے بجائے سیاست کی نظر۔ڈی ایچ اوملاکنڈاپنی کرسی بچانے کیلئے ڈینگی جیسے وبائی مرض کی روک تھام کی بجائے نام نہاد آگاہی مہموں اور برسراقتدارحکمران جماعتوں سے تعلق رکھنے والے باآثر شخصیات کے حجروں میں حفاظتی سپرے،ادویات اوردیگر سازوسامان تقسیم کرنے پر اکتفا کرتے نظر آرہے ہیں ۔متاثرہ مریضوں کے لواحقین کے مطابق زنانہ وارڈمیں لگے پنکھوں کو صرف اس وقت چالوکیاجاتاہے جب کسی منتخب نمائندے ،حکام صحت یامیڈیاٹیم کے آنے کاخطرہ سرپر منڈلارہاہوجبکہ فی میل وارڈمیں ڈینگی سے متاثرہ زنانہ مریضوں کو عام مریضوں کے ساتھ داخل کرالیاگیاہے جوکہ دوسرے عام داخل مریضوں اورانکے لواحقین کیلئے کسی بڑے خطرے سے کم نہیں ۔متاثرہ مریضوں کے لواحقین کے مطابق ہسپتال ہذامیں داخلے کے پہلے دودنوں تک ہم نے تمام ادویات یہاں تک کہ ڈسپوزیبل سرنج کو بھی باہربازارسے لاناپڑتاتھا،مریض کامعائنہ کرانے اورطبیعت زیادہ خراب ہونے کی صورت میں ڈاکٹرزتودرکنارمیڈیکل ٹیکنیشن کو لانابھی جوئے شیر لانے کامترادف تھاجبکہ صفائی کی ابترصورتحال اوران سے ممکنہ خدشات کے پیش نظر ہم اپنے مریضوں کو لیکرخودیہاں سے بھاگنے پر مجبورتھے جبکہ بعدآزاں یہاں کے مقامی صحافیوں نے ہسپتال میں قائم ڈینگی وارڈزکادورہ کیااورانکے مسائل کو ٹی وی اوراخبارات کی زینت بنادی تو اسکے بعد ڈاکٹروں کابروقت آنااورتمام تر ادویات سرکاری طور پرملنے کاسلسلہ شروع ہواجبکہ صفائی وستھرائی پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ۔متاثرہ مریضوں کے لواحقین اور علاقے کے سیاسی ،صحافتی اورسماجی حلقوں نے صوبائی وزیراعلیٰ ،وزیرصحت،سیکرٹری ہیلتھ ،کمشنر ملاکنڈ،ڈپٹی کمشنر ملاکنڈاوردیگر حکام سے پرزورمطالبہ کیاہے کہ ہسپتال میں داخل ڈینگی وائرس سے متاثرہ مریضوں کیساتھ نامناسب رویہ،فرائض میں غفلت اورعلاقہ میں حفاظتی تدابیر کے عدم فراہمی پر محکمہ صحت ملاکنڈکے ذمہ داروں کیخلاف تادیبی کاروائی کریں۔


کہانی کو شیئر کریں۔


آپ یہ بھی دیکھنا پسند کریں گے

اپنی رائے کا اظہا ر کریں۔



Total Comments (0)

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ مانندآئینہ محفوظ ہیں۔

بغیر اجازت کسی قسم کی اشاعت ممنوع ہے

Powered by : Murad Khan