پانچ سرکاری یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کے پوسٹ خالی

ہفتہ 04 فروری 2017


پانچ سرکاری یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کے پوسٹ خالی، ملاکنڈ یونیورسٹی بھی وائس چانسلر کا منتظر
مالاکنڈ یونیورسٹی، جہاں تمام طاقت وائس چانسلر کو مرکوز ہے ہیں میں صورت حال بہت خراب ،زرائع
یونیورسٹی وائس چانسلرز کے تقرری کے قانون پر بھی تاحال کو عمل درآمد نہ ہو سکا، صوبائی اسمبلی کے قوانین بھی بے سود
بٹ خیلہ (نمائندہ مانند)پانچ سرکاری یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کے پوسٹ خالی، ملاکنڈ یونیورسٹی بھی وائس چانسلر کا منتظر
ہوگیا۔ اس وقت پشاور یونیورسٹی، باچا خان یونیورسٹی چارسدہ، صوابی یونیورسٹی اور مالاکنڈ یونیورسٹی وائس چانسلر کے بغیر ہیں۔ پشاور یونیورسٹی 16 جنوری کے بعد سے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹررسول کی ریٹائرمنٹ اورباقی تین جامعات میں وائس چانسلر کے پوسٹ24 جنوری کو خالی ہوئی ہے۔ہری پور یونیورسٹی کے وائس چانسلر، خوشحال خان یونیورسٹی کرک اور سائنس اور ٹیکنالوجی بنوں یونیورسٹی بھی 16 جنوری سے خالی ہوگئی۔مالاکنڈ یونیورسٹی، جہاں تمام طاقت وائس چانسلر کو مرکوز کر رہے ہیں، صورت حال بہت خراب ہے۔ اس یونیورسٹی میں کسی بھی مکمل وقت رجسٹرار اور خزانچی اور وائس چانسلر نہیں ہے۔ انتظامیہ ماہرین تعلیم سے متعلق بھی معمولی فیصلہ نہیں لیا جا سکتا۔ یا د رہے خیبر پختونخواہ ایکٹ میں صوبائی حکومت (ترمیم شدہ) 2016 خاص طور پر پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں پرو وائس چانسلرز کے عہدہ تخلیق کیا اور پیشگی اس کی تکمیل سے چھ ماہ ایک مکمل وقت کے وائس چانسلر کی تقرری کے عمل کو شروع کرنے کے لئے پابند بنا دیا ۔ تاہم اس پر بھی عمل نہیں ہو سکا۔یونیورسٹی وائس چانسلرز کے تقرری کے قانون پر بھی تاحال کو عمل درآمد نہ ہو سکا، صوبائی اسمبلی کے قوانین بھی بے سود رہے گئے ہیں۔


کہانی کو شیئر کریں۔


آپ یہ بھی دیکھنا پسند کریں گے

اپنی رائے کا اظہا ر کریں۔



Total Comments (0)

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ مانندآئینہ محفوظ ہیں۔

بغیر اجازت کسی قسم کی اشاعت ممنوع ہے

Powered by : Murad Khan