۔ ڈینگی وائرس پراجیکٹ ہے یا خطر ناک بیماری ؟ 

بدھ 13 Sep 2017


 
3۔ آر ایچ سی ککی میں 2008میں بجلی کا قیمتی جنریٹر اور ٹیوب ویل کو ابھی تک چالو نہیں کیا گیا۔ نوٹس لیا جائے۔
بنوں (ڈسٹرکٹ رپورٹر)ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر بنوں ڈاکٹر محمد دراز خان نے کہا ہے کہ ضلع بنوں میں ڈینگی وائرس بخار اگاہی مہم بڑے زور وشور سے جاری ہے۔ٹی ایم اے ڈومیل اور ڈپٹی کمشنر بنوں فضل اکبر خان کو تعاون کرنے پر زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں جبکہ ٹی ایم اے بنوں انتظامیہ کسی قسم کا تعاون نہیں کررہا۔ ہم نے بنوں شہر ؍ ڈومیل اور مختلف یونین کونسلز میں ڈینگی وائر س کو ختم کرنے کے لئے سپرے کا سلسلہ بڑے پیمانے پر شروع کیا ہے۔ضلعی حکومت بنوں نے ابھی تک کوئی فنڈ ریلیز نہیں کیا ہے۔ کم وسائل کے باوجود ہم بنوں میں ڈینگی وائرس بخار اگاہی مہم کے لئے مختلف ٹیمیں تشکیل کی ہے۔ جو کہ مختلف علاقوں میں اپنے خدمات خوش اسلوبی سے سرانجام دے رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر بنوں ڈاکٹر محمد دراز خان نے ڈی ایچ او آفس بنوں میں میڈیا کے نمائندوں کو تفصیلات بتاتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ملک پختون یار خان ،ملک عدنان خان، ملک اقبال خان جدون ، تحصیل ممبر اقلیم خان ککی اور دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔ ڈی ایچ او بنوں ڈاکٹر محمد دراز خان نے ڈپٹی کمشنر بنوں فضل اکبر خان، ٹی ایم اے ڈومیل انتظامیہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ وہ ہمارے ساتھ مکمل تعاون کررہے ہیں۔ جبکہ ٹی ایم اے انتظامیہ بنوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ابھی تک ہمارے ساتھ کوئی تعاون کیا ہے۔ ڈی ایچ او بنوں نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے علاقے میں گند الود پانی جو کھڑا ہوکر اس سے ڈینگی وائرس مچھر کی افزائش ہوتی ہے اس کو فوری طور پر ڈھانپ لیں۔اور ڈی ایچ او افس بنوں سے ملنے والی ہدایات پر عمل درامد کریں۔ اور اگر کسی علاقے میں ڈینگی وائرس بخار کے مریض کا تشخیص ہو تو فوری طور پر ڈی ایچ او افس بنوں کا اطلاع دیں ۔ انہوں نے میڈیا کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے ڈی ایچ او بنوں نے کہا کہ ار ایس سی ککی بنوں میں قیمتی جنریٹر کو 2008سے لیکر اب تک استعمال میں نہیں لایا گیا ہے۔ اسی طرح ککی ار ایس سی ہسپتال میں 2008سے تعمیر شدہ ٹیوب ویل کو ابھی تک چالو نہیں کیا گیا ہے۔ان کے خلاف اعلی سطح تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے ۔ جو اس بات کی نشاندہی کریں کہ اس قیمتی جنریٹر کو استعمال میں لانے میں کونسی قوت ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ڈی ایچ او کی حیثیت سے چارج سنبھالتے ہی بنوں میں بی ایچ یوز اور ارایچ ایز ہسپتالوں کو چیک کیا ۔ غیر حاضر ملازمین اور دیگر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی ۔ اس سلسلہ میں ضلعی ناظم اعلی ملک عرفان خان درانی سے ان کے تاثرات معلوم کئے تو انہوں نے کہا کہ ضلعی حکومت بنوں کو صوبائی حکومت کی احکامات کی روشنی میں اور محکمہ بلدیات کے پی کے ، کے ہدایات اور رولز کے مطابق چلایا جاتا ہے جبکہ ہمیں ضلع کونسل بنوں کے لئے 16 ملازمین کے لئے تنخواہ دی جاتی ہے۔ جبکہ ہمارے پاس 59ملازمین کام کرتے ہیں۔ ہمیں صوبائی حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی سپیشل گرنٹ وغیرہ نہیں ملا ہے۔ بجلی ٹیلی فون، گاڑیوں کے لئے پٹرول اور دیگر مراعات ابھی تک نہیں ملا ہے۔ ہم نے فنڈ نہ ہونے کے باوجود ڈی ایچ او افس کے ساتھ مکمل تعاون کررہے ہیں۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ممبر ملک حشمت علی خان ، تحصیل ممبر ملک ثنان خان درانی ایڈوکیٹ بھی موجود تھے۔


کہانی کو شیئر کریں۔


آپ یہ بھی دیکھنا پسند کریں گے

اپنی رائے کا اظہا ر کریں۔



Total Comments (0)

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ مانندآئینہ محفوظ ہیں۔

بغیر اجازت کسی قسم کی اشاعت ممنوع ہے

Powered by : Murad Khan