سوشل میڈیا ایک طاقت

جمرات 28 Sep 2017



آج سے چند سال قبل اکثر افراد سوشل میڈیا کو محض ریفریشمنٹ یا ٹائم پاس یا چند غیر اہم امور کے لیے استعمال کیا کرتے تھے لیکن اب بہت کچھ بدل چکا ہے، موجودہ سائنسی دور میں سوشل میڈیا کافی زیادہ مقبول ہوچکا ہے اس کے استعمال کرنے والوں کی تعداد میں روزانہ لاکھوں کے حساب سے اضافہ ہورہا ہے۔کہا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا ایک چھری کی مانند ہے یعنی چھری سے اگر چاہیں تو کسی کو قتل کر دیں اگر مثبت استعمال کریں تو اس سے سبزی کاٹیں۔
سوشل میڈیا مختلف عقائد و نظریات کے لوگوں سے رابطے کے لئے بہت ضروری ہے، کیونکہ کسی بھی معاشرے میں رائے عامہ کی بہت اہمیت ہے رائے عامہ آجکل سوشل میڈٰیا سے بھی سامنے آرہی ہے۔ تاہم اسکے ساتھ ساتھ یہ نقصان بھی ہے کہ مشہور افراد کے ساتھ تعلقات کے ساتھ اور بات چیت کے دوران نہ تو مراتب کا خیال رکھا جاتا ہے اورنہ اپنے مقام کی پروا کی جاتی ہے جسکی وجہ سے کئی شخصیات کی مقبولیت کا بھانڈا بھی پھوٹ جاتا ہے کئی بار باعزت لوگوں کی عزتیں تار تار کردی گئی ہیں۔
فیس بک نے ہمارے کئی نوجوانوں کو بزرگان دین، شعرا اور نامور صحافیوں کے قریب بھی کر دیا ہے وہ بڑے بڑے اہل قلم جن کے مضامین پڑھنے اور ان کو دیکھنے کے لیے اخبارات چھاننے پڑتے تھے آج ایک عام فرد بھی براہ راست ان کے تحاریر پر کمنٹس کرکے ان کے سامنے اپنے رائے کا اظہار بھی کرستکا ہے، ایسے افراد جو کبھی کتاب بھی کھول کر نہیں دیکھتے تھے اب فیس بک پر کافی معلومات حاصل کر لیتے ہیں، لیکن یہیں اس کا نقصان یہ بھی ہے کہ ہمارے کتب خانے ویران ہو چکے ہیں، فیس بک پر کئی احادیث، بزرگان دین سے منسوب اقوال کا کوئی مستند حوالہ نہیں، اکثر عام باتوں کو حدیث لکھ دیتے ہیں صحابی کے طرف منسوب کردیتے ہیں جو یقیناًگمراہی کا سبب بن رہا ہے۔ 
سوشل میڈیا کا استعمال آج کل سیاسی سرگرمیوں میں بھی ہو رہا ہے بلکہ سیاسی جماعتوں نے باقاعدہ سوشل میڈیا ٹیمیں بنائی ہیں جن کو پارٹی کے جانب سے مستقل تنخوا ملتی ہے جبکہ کارروباری ویب سائٹس بھی موجود ہیں جس کی وجہ سے نئے نئے بزنس کرنیوالوں کو اچھا رسپانس مل جاتا ہے لیکن یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ کئی صفحات اصلی نہیں جس سے بجائے فائدے کے نقصان ہو سکتا ہے، اسی طرح سیاسی سرگرمیوں نے ایک طرف سوشل میڈیا پر عدم برداشت کوبھی فروغ دیا ہے کم عمر سیاسی کارکنوں کا کام دوسرے پارٹی کے افراد پر گالیوں کے برسات کرنا ہے رہ گیا ہے۔
اب ایک عام کارکن جلسہ جلوسوں میں نہیں جاتا بلکہ صرف اپنے صفحات کی تزئین آرائش ہی کرتا رہتا ہے۔ ایک پارٹی کو نیچا دکھانے کے لئے گندی زبان کا استعمال، مغلظات بکتا ہے اور غیر مناسب کمنٹس کرنا اس کے لیے ایک معمول سا بن گیا ہے۔سوشل میڈیا پر جعلی اکاوئنٹس کی وجہ سے، حسد و رقابت، انتقام اور اسی طرح کیدوسرے منفی رحجانات پروان چڑھ رہے ہیں جس سے نوبت عشق و عاشقی سے شروع ہو کر قتل و غارت تک پہنچ چکی ہے۔ڈیجیٹل ٹیکنالوجی غیر معروف افراد کو مشہور بنانے کا کام بھی کر رہی ہے اس کی ایک جھلک گذشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک غریب مزدور 146146چائے والا 145145 کی شہرت تھی۔ سیلفی لینے کا رحجان جو صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں ہے، نے کئی سانحات کو جنم دیا ہے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں سوشل میڈیا پر اپنے سیلفی تصاویر اپلوڈ کرنے کو بے تاب رہتی ہے۔
کمپیوٹر، موبائل، ٹیب اور اس طرح کی چیزوں نے ہماری زندگی کو اس طرح مصروف بنا دیا ہے کہ ہم اپنے گھر والوں، دوستوں سبھی کو بھلا چکے ہیں اور وقت کی کمی کے باعث ہم انہیں موبائل اور دیگر ذرائع سے ہی مبارکباد، افسوس اور تعزیت کے پیغامات بھیج دیتے ہیں۔سوشل میڈیا پر بلیک میل کرنا بھی کسی سے پوشیدہ نہیں، کئی افراد کی جانب سے خواتین کو ہراساں کرنے کا سلسلہ کم تو ہوا ہے لیکن ابھی بھی جاری ہے، ہراساں کرنے کا یہ عمل اس لیے بھی جاری ہے کہ اکثر خواتین اپنی معلومات سوشل میڈیا پر آزادنہ طور پر شیئر کرنے سے گریز نہیں کررہی۔۔
اگر ہم دنیا بھر میں انٹرنیٹ صارفین کے بارے میں بات کریں تو ہندوستان جیسے بڑے ملک میں 2011تک انٹرنیٹ صارفین کی تعداد ستر لاکھ تھی، اب یہ تعداد کرڑوں میں ہے پاکستان میں انٹرنیٹ کے استعمال میں بے پناہ تیزی دیکھنے میں آئی ہے گذشتہ تین سالوں میں پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد پندرہ لاکھ سے بڑھ کر تین کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔اب سوشل میڈیا کی طاقت سے انکار ممکن نہیں رہا، ایک سیاسی لیڈر بہت زیادہ کوشش کریں تو 10 ہزار سے زائد افراد ایک جلسے میں جمع نہیں کرسکتا جو اس کی باتیں سن سکیں، جو اس نظریات کو سنے جو اس کے خیالات کو جانچے لیکن سوشل میڈیا پر تھوڑا مذہب انسان اگر کوشش کریں تو لاکھوں افراد اس کے ویڈیوز دیکھتے ہیں، اس کی تحاریر پڑھتے ہیں جو یقیناً ایک بڑی بات ہے لاکھوں لوگ آپ کی تحاریر، آپ کے دلائل اور آپ کے ویوز سے چند لمحات میں باخبر ہوجاتے ہیں۔ مجھ جیسا کم علم جسے ہر وقت اپنی کم مائیگی اور کم علمی کا احساس رہتا ہے ہر ہفتہ تقریباًٍ لاکھوں لوگ میرے پوسٹیں پڑھتے ہیں، اس لیے میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ آپ سوشل میڈیا کو سیریس لیں۔۔
رہے نام اللہ کا۔


کہانی کو شیئر کریں۔


آپ یہ بھی دیکھنا پسند کریں گے

اپنی رائے کا اظہا ر کریں۔



Total Comments (0)

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ مانندآئینہ محفوظ ہیں۔

بغیر اجازت کسی قسم کی اشاعت ممنوع ہے

Powered by : Murad Khan