کہا جاتا ہے کہ غم و خوشی بہن بھائی ہیں

منگل 14 نومبر 2017


تھانہ ( نامہ نگار) کہا جاتا ہے کہ غم و خوشی بہن بھائی ہیں۔ کھبی غم کھبی خوشی۔ اور کھبی کھبی دونوں ایک ساتھ ایک ہی گھر پر مہمان بن آکر آتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ تھانہ میں اُس وقت پیش آیا جب سلیم نامی شخص کے تین بیٹوں شہزاد ، مراد ، اور سجادکی شادی کا پروگرام تھا۔ لیکن قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔ جو چاول ، گھی اور دیگر سامان بیٹو ں کی شادی کے مہمانوں کے لئے لایا گیا تھا۔ سلیم کو کیا معلوم کہ وہی چاول ولیمے کی بجائے اُس کی اپنی ہی موت پرتعزیت کے لئے آنے والوں کے لئے خیرات میں پکائے گئے۔ واقعات کے مطابق تھانہ کے علاقہ تیرونہ میں سلیم نامہ شخص جو گزشتہ کچھ عرصہ سے بیمار تھا۔ گھر والوں نے مناسب سمجھا کہ بیٹوں کی شادی کرائی جائے تاکہ والدین اُن کی خوشیاں دیکھ سکیں۔ لیکن مدعی لاکھ بُرا چاہے تو کیا ہوتا ہے وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ کے مصداق ڈولیاں آنے سے قبل باپ کو دل کا دورہ پڑ گیا اور بیٹو ں کی دلہنیں دیکھنے کی آرمان دل میں لئے آبدی نیند سوگئے۔ مرحوم حبیب الرحمٰن مرحوم کے بیٹے جمیل اور کلیم کے بھائی تھے۔ علاقے کے لوگوں نے اس اتفاقی اور اچانک موت پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا لیکن اللہ کے کاموں میں کسی کو دخل اندازی کی اجازت نہیں ہوتی۔


کہانی کو شیئر کریں۔


آپ یہ بھی دیکھنا پسند کریں گے

اپنی رائے کا اظہا ر کریں۔



Total Comments (0)

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ مانندآئینہ محفوظ ہیں۔

بغیر اجازت کسی قسم کی اشاعت ممنوع ہے

Powered by : Murad Khan