لوئر دیر، پاک افغان بارڈر، قبائلی علاقوں میں سہولیات کا شدید فقدان

منگل 13 فروری 2018


لوئر دیر(نمائندہ مانند) پاک افغان بارڈر پر رہائش پذیر قبائلی علاقوں میں سہولیات کا شدید فقدان ، منتخب ممبران اسمبلی بارڈرپر موجود علاقو ں کا دورہ تک گواراں نہیں کرتے ، قربانیوں کے باوجود شہریت پر بھی اعتراضات اٹھائیں جا رہے ہیں ۔میڈیا ں سے گفتگو کرتے ہوئے قبائلی ملک و ممبر ضلعی کونسل ملک احمد شاہ مشوانی کا کہنا تھا کہ پاک افغان بارڈر کے اس پر پٹی پر باجوڑسے لیکر مسکینی درہ اور بنشاہی تک قبائل آباد ہیں ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ لوگ ایک طرف بارڈر کے حفاظت میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کیساتھ صف اول میں کھڑے ہوتے ہیں تو آئے روز یہ لوگ اندھے گولیوں کا شکار بھی بن جاتے ہیں اور ان کے مویشی بھی محفوظ نہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ بارڈر پر رہائش پذٰیرپاکستانی علاقہ کے ان لوگوں کے پاس زراعت اور مویشی پالنے کے علاوہ کوئی دوسرا روزگار اور ذریعہ معاش موجود نہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ان علاقوں میں تعلیمی ادارے اور وسائل موجود نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے لوگ نا خواندہ ہیں جس کی وجہ سے کسی بھی شخص کے پاس سرکاری ملازمت موجود نہیں ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ قبائل علاقوں بنشاہی ،مسکینی درہ و گرد و نواح میں حکومت کی جانب سے ہسپتال سکول و کالج ڈاک خانہ ٹیلی فون بجلی سمیت کسی قسم کے وسائل دستیاب نہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اس کے باوجود ان علاقوں کے لوگوں کو حکومت مشکوک نظر سے دیکھتا ہے اور اکثر لوگوں کے شناختی کارڈ تک مشکوک قرار دیکر بلاک کر دیئے گئیں ہیں اور ویری فیکیشن کا عمل پیچیدہ ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کو شناختی کارڈ بنوانے میں مشکلات کا سامنا ہے ، احمد شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت کا کام عوام کیلئے وسائل پیدا کرنا ہوتا ہے مگر مذکورہ قبائلی لوگ حکومت کے ظلم و جبر کا شکار ہیں ۔ انہوں نے مرکزی و صوبائی حکومت اور منتخب ممبران اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پران علاقوں کے لوگوں کے شناختی کارڈ جاری کرائے جائے اور انہیں شہری علاقوں کی طرح بنیادی سہولیات سے آراستہ کیا جائے۔
 


کہانی کو شیئر کریں۔


آپ یہ بھی دیکھنا پسند کریں گے

اپنی رائے کا اظہا ر کریں۔



Total Comments (0)

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ مانندآئینہ محفوظ ہیں۔

بغیر اجازت کسی قسم کی اشاعت ممنوع ہے

Developed by : Murad Khan