ایل آرایچ ڈاکٹروں نے میری بچی کی جان لی ہے، طاہرخان صوابی

جمعہ 13 اپریل 2018


(صوابی )LRH پشاور کے نیورووارڈ کے ڈاکٹروں اور عملے نے میری بچی کی جان لی ہے۔مجھے انصاف دلایا جائے۔ طاہرخان کلابٹ صوابی۔ تفصیل کے مطابق صوابی میڈیا سیل کے آفس میں اخباری نمائندگان کو تفصیلات بتائے ہوئے ۔طاہر خان سکنہ کلابٹ صوابی کہاکہ مورخہ 30-03-2018 کی ہم اپنی بچی وریشہ کو LRH پشاوربغرض علاج لے گئے ۔اگلے روز ہماری بچی کی سرکا آپریشن ہوا۔وارڈ منتقل کرنے کے بعد ٹھیک 16 گھنٹے بعد ہماری بچی کو ڈسچارج کیا۔جب ہم نے ڈاکٹر سے استسفار کیا۔کہ بچی کی حالت تو ٹھیک نہیں ہے۔مگر اُس نے ہمارے ساتھ بدتمیزی کی اور کہا کہ آپ لوگ ڈسچارج کردیے ۔اور یہاں سے چلے جائے۔ہم اپنی بچی کو واپس گھر لائے۔ گھر لانے کے بعد اُسکی طبعیت دوبارہ خراب ہوئی اور اُسی شام یعنی 6 گھنٹے بعد ہم پشاور کیلئے دوبارہ روانہ ہوئی۔مگراس بار ایمرجنسی والوں نے ہمیں گائنی وارڈمیں داخل کیا ۔اور ہمیں نیوروسرجن ڈاکٹرکامران کانام دیاگیا۔کہ اُسکوگائنی وارڈمیں بلائیں۔ڈاکٹرکامران نے جب چیک اپ کیا۔تو انہوں نے CTسکین تجویز کی ۔مگر آکسیجن نہ ہونے کی وجہ سے CT سکین کا ٹیسٹ لیٹ ہوا۔ اور جب ہمیںآکسیجن مہیا کیا۔تو ہم اکسیجن کے سلینڈر کو اپنے کندھے پر بچی کیساتھ لیبارٹری لے گئے۔آکسیجن مہیاکرنے والے ایک آدمی نے ہمیں باربار کہا کہ شہرام ترکئی سے آکسیجن لے لو۔ خیر ہماری بچی 02-04-2018 کو اللہ کو پیاری ہوئی۔لیکن ہمیں دُکھ اس بات کا ہے کہ ہماری بچی کو صحیح علاج ومعالجہ مُسیر نہیں ہوا۔اور چونکہ ہمارا تعلق صوابی سے تھا۔ہمیں ہر جگہ اور ہروقت صوبائی وزیر کا طعنہ دیتا رہا۔میں ایک غریب شخص ہوں مجھے انصاف دلایاجائے۔اور LRH پشاور میں ان کالی بھیڑوں کو نکال باہرکیا جائے ۔تاکہ کل کسی اور انکی غفلت سے اپنے جان سے ہاتھ دھونا نہ پڑیں۔


کہانی کو شیئر کریں۔


آپ یہ بھی دیکھنا پسند کریں گے

اپنی رائے کا اظہا ر کریں۔



Total Comments (0)

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ مانندآئینہ محفوظ ہیں۔

بغیر اجازت کسی قسم کی اشاعت ممنوع ہے

Developed by : Murad Khan