0

پختونخوہ میں ہرخاندانوں کوصحت کارڈدیاجارہاہے،عمران خان

پشاور (مانند نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہخیبر پختونخوا پہلا صوبہ ہے جہاں تمام خاندانوں کو صحت کارڈدیاجارہاہے،  صحت انصاف کارڈ کے ذریعے صوبے کے ہر خاندان کو 10لاکھ روپے تک مفت علاج کی سہولت میسر ہوگی،خیبر پختونخوا کے ہر خاندان کو صحت  انصاف کارڈ کے اجراء پر میں بہت خوش  ہوں  اس کیلئے کے پی کے حکومت کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق  کی اس سے بڑھ کر کوئی خدمت نہیں ہوسکتی کہ استطاعت نہ رکھنے والوں کو صحت کی بہترین  سہولیات  مہیا کی جائیں مشکل  معاشی حالات کے باوجود  خیبرپختونخوا حکومت نے احسن اقدام  اٹھایا ہے جس سے عوام کیلئے مفید  نتائج  سامنے آئیں گے۔پشاور میں ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخواہ اور اسٹیٹ لائف کے درمیان معاہدے پر دستخط کے بعد   خیبرپختونخوا میں  ہر خاندان کوصحت انصاف کارڈ کا اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہر خاندان کو صحت انصاف کارڈ کی فراہمی پر کے پی کے کی صوبائی حکومت کو مبارکباد دیتاہوں، انسان کی خدمت کرنا اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ صحت انصاف کارڈ کے ذریعے صوبے کے ہر خاندان کو 10لاکھ روپے تک مفت علاج کی سہولت میسر ہوگی۔جب غریب کیلئے کام کیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈالتا ہے بیماری کے علاج معالجے پر خاندان کا بھاری خرچ ہوتا ہے کورونا کی وجہ سے معاشی مشکلات کے باوجود خیبرپختونخوا حکومت  کا ہر خاندان کو مفت علاج کی دستیابی انقلابی قدم ہے۔ دکھی انسان کی خدمت سے اللہ تعالیٰ  کی رحمتیں اوربرکتیں ہوتی ہیں۔ کے پی کے حکومت کے اس اقدام کو دیکھ کر باقی صوبوں  پر دباؤ پڑے گا۔ ان صوبوں  کے لوگ  کہیں گے کہ اگر کے پی کے کرسکتا ہے تو ہمارے صوبے کیوں نہیں کرسکتے۔ میں باقی صوبوں  بالخصوص پنجاب  جہاں ہماری حکومت ہے اس پر سب سے پہلے دباؤ ڈالوں گا کہ وہ بھی یہ قدم اٹھائے اور پنجاب میں بھی ہر خاندان کو مفت علاج کی سہولت دستیاب ہو۔ اس کے بعد بلوچستان حکومت پر بھی زور لگائیں گے جہاں ہماری مخلوط حکومت ہے اس کے بعد سندھ حکومت پر خودبخود  دباؤ بڑھ جائے گا۔  گلگت بلتستان کی آبادی چونکہ کم ہے اس لئے وہاں صحت انصاف کارڈ کا اجراء مشکل نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ  ہیلتھ کارڈ  چھوٹے شہروں اوردیہاتی علاقے کے لوگوں کو بھی  دئیے جائیں گے۔ ہیلتھ کارڈ کی وجہ سے ہسپتالوں میں مقابلے کا رجحان  پیدا ہوگا۔ سرکاری ہسپتال بھی  اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کریں گے کیونکہ لوگ وہاں جائیں گے بہتر علاج ہوتا ہو ملک میں ہیلتھ سیکٹر کی بہتری کے لئے  یہ کارڈ بنیاد ہے۔پرائیویٹ ہسپتالوں  کیلئے طبی مشینری اور طبی آلات  کی درآمد  پر ٹیکس صفر کردیا گیا ہے تاکہ ان کے لئے پاکستان میں ہسپتال بنانا  آسان ہو۔ ہم نے اوقاف اورا ویکیو ٹرسٹ  کی زمین پر ہسپتال بنانے کیلئے کم نرخوں پر زمین دینے کا بھی کہہ رکھا ہے۔ ہیلتھ کارڈ کی وجہ سے دیہاتی علاقوں اور چھوٹے شہروں میں بھی ہسپتال قائم ہوں گے ہماری کوشش ہے کہ لوگوں کو صحت و انصاف کی سہولیات مہیا کریں۔ انہوں نے  انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ سب کے پاس ہیلتھ کارڈ ہونا چاہیے اس سے آپ کے پاس پورا ڈیٹا آجائے گا۔مانیٹر کرنے کیلئے  ڈیٹا بہت ضروری ہے۔ انفارمیشن  ٹیکنالوجی کا کمال  یہ ہے کہ آپ با آسانی  مانیٹر کرسکتے ہیں۔ پاکستان کو فلاحی ریاست  بنانے کا ہمارا جو وژن ہے ہم اس سمت کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اس منزل کی طرف ہمارا سفر جاری ہے جو ملک اپنے غریب طبقے کی ذمہ داری لیتا ہے وہی تہذیب یافتہ ہوتا ہے۔ دنیا میں صرف چندملک ہیں جو مہذب ملکوں کی صف میں آتے ہیں  مجھے ترقی پذیر ملکوں میں جو واحد صوبہ پوری طرح اتر رہا ہے وہ خیبرپختونخوا ہے۔ جب فلاحی کاموں کا آغاز ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی برکتیں آتی ہیں۔ پیسہ کم ہونے کے باوجود  ہم نے اس کا آغاز کیا ہے جب مدینہ کی ریاست بنی تو ان کے پاس بھی  پیسہ نہیں تھا لیکن ہمارے نبیﷺ نے غریب طبقے کی ذمہ داری  لی جب ایک انسانیت کا نظام پیدا کرنے  کا  معاشرہ فیصلہ کر دیتا ہے تو اللہ کی برکتیں  نازل ہوتی ہیں۔ شروع شروع میں جنگوں کی وجہ سے ریاست مدینہ  اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی تھی  دنیا کی تاریخ  گواہ ہے  کہ 20 سال کے بعد انہوں نے  دنیا کی اما مت کرنی شروع کی۔ اس  لئے  قرآن میں اللہ فرماتا ہے  کہ نبیﷺ کی زندگی سے سیکھو مدینہ کی ریاست ہمارے لئے ماڈل ہے جو اس پر چلے گا اللہ ا سے  نوازے گا۔ آخر میں محمود خان آپ کی حکومت کو پھر سے خراج تحسین پیش  کرتا ہوں پرویز خٹک کو اس  لئے خراج تحسین پیش کرتا  ہوں کہ آپ نے  ہیلتھ کارڈ کی  شروعات کی تھیں۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں