0

کیوں آخر مجھے شیطان کہتے ہیں،حامد


کیوں آخر مجھے شیطان کہتے ہیں

یہ سارے لوگ

کیوں آخر مجھے شیطان کہتے ہیں

اگر گنجا کوئی ہو سامنے چندیا چمکتی ہو

تو کیا یہ دل نہیں کہتا

چپت اک آدھ جڑنے کو

ہتھیلی جب کھجاتی ہے

میں ایسا کر گزرتا ہوں

مری بلڈنگ کا چوکیدار

سو جاتا ہے دن میں بھی

وہ خراٹے بھی لیتا ہے

جو اس کی ناک پر

اک ٹیپ چپکانے کو جی چاہے

میں ایسا کر گزرتا ہوں

پڑوسن آنٹی کی

مرغیاں انڈے جو دیتی ہیں

میں اکثر سوچتا ہوں

ان سے چوزے کیوں نکلتے ہیں

مری خواہش یہ ہوتی ہے

انہیں میں توڑ کر دیکھوں

میں ایسا کر گزرتا ہوں

گلی کے موڑ پہ

بیٹھا ہوا موٹا سا اک کتا

اگر دوڑے تو کیسا ہو

اگر بھونکے تو کیسا ہو

پٹاخہ اس کی دم پر باندھ کر

ماچس دکھانے کو

مرا جی چاہتا ہے گر

میں ایسا کر گزرتا ہوں

بزرگو مجھ کو بتلاؤ

یہ سب کرنے کو آخر کیا

کسی کا دل نہیں کہتا

کیا میں سب سے انوکھا ہوں

یہ سب شیطان کرتے ہیں

کوئی انساں نہیں کرتا

یہ سارے لوگ

کیوں آخر

مجھے شیطان کہتے ہیں

حامد اقبال صدیقی

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں