0

پولیس کا کم عمرلڑکوں پر تشدد کا معاملہ

سوات (مانند نیوز ڈیسک) تحصیل کبل کے علاقہ ورسکے برہ بانڈئی میں چوری کا واقعہ۔کانجو پولیس نے کم عمرلڑکوں کو گرفتار کرکے ان پر بے تحاشہ تشدد کردی۔کم عمرگرفتارلڑکوں کے والدین شاہ روان،شاہ ادریس،مسلم خان،سیراج خان،گل زادہ اور دیگر نے کبل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ 4 دن قبل ورسکے برہ بانڈئی میں کپڑے کے دکان سے چوری کاواقعہ پیش ایا۔تو اس واقع کے بعد کانجو پولیس کے ہمراہ ایس ایچ اومجیب عالم نے ہمارے گھروں پر چھاپے مارکرچادراور چاردیواری کا تقدس پامال کرکے ہمارے بچوں عرفان ولدسیراج الدین،اعزازولدشاہ ادریس،امان خان ولدمسلم خان،علیم اللہ ولد گل زادہ جس کی عمریں بارہ سال سے پندرہ سال کے درمیان ہیں کو تحویل میں لیکرنامعلوم مقام پر منتقل کیا۔دودن سرتوڑکوشش کی لیکن کانجو پولیس نیبچوں کا کوئی معلومات فراہم نہیں کیا۔جس کے بعد ہم لوگوں نے مقامی عدالت میں درخواست گزاری لیکن اس کے باجود کانجو پولیس نے بچوں کے ساتھ ملاقات نہیں کرائی اور نہ عدالت میں پیش کیا۔اس کے بعد ہم نے ڈی پی اوسوات کو درخواست گزاری تو اس کے بعد پتہ چل گیا کہ تمام گرفتارلڑکے کانجو پولیس کی زیر حراست ہے۔اس دوران پولیس نے اپنی ناکامی چھپانے کیلئے بچوں پر بے تحاشہ تشدد کرکے زبردستی جرم تسلیم کرنے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ  ایس ایس پی، ڈی ایس پی،ڈی پی او کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم بنائی جاکر تحقیقات کروا کر ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔متاثرین نے کبل پریس کلب کے سامنے احتجاج کرتے ہوئیکہاکہ یہ سراسرپولیس گردی ہے۔انہوں کہا کہ پولیس گردی نامنظور ہے۔انہوں نے وفاقی وزیر مراد سعید، صوبائی وزیر محب اللہ خان،  وزیراعلیٰ اورآئی جی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی،ڈی پی اواور ایس ایس پی سوات سے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے بچوں کو بازیاب کرایاجائے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں