0

موٹروے زیادتی کیس‘7 ملزمان کا ڈی این اے ٹیسٹ

 لاہور (مانند نیوز ڈیسک) پنجاب پولیس کی جانب سے موٹروے زیادتی کیس میں گرفتار 15مشتبہ افراد میں سے7 کا ڈی این اے ٹیسٹ کرا لیا گیا، ملزمان کی گرفتاری کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔واقعے کی تحقیقات میں روایتی اور جدید دونوں طریقہ تفتیش کا استعمال کیا جارہا ہے اور آئی جی پنجاب کیس میں پیش رفت کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔ زیادتی کا شکار خاتون کا میڈیکل کوٹ خواجہ سعید اسپتال سے کرایا گیا جس میں خاتون سے زیادتی ثابت ہو گئی۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں نیکھوجیوں کی مدد سے جائے وقوعہ کے اطراف 5کلو میٹر   علاقے میں سرچ اینڈ سوئپ آپریشن کرکے مشتبہ پوائنٹس مارک کر لئے۔ ایف آئی آر میں نامزد ملزمان سے ملتے جلتے حلیے کے حامل15مشتبہ افرادکی پروفائلنگ کی گئی ہے۔مختلف شواہد پر مشتبہ افراد محمدکاشف، عابد، سلمان، عبدالرحمن، حیدر سلطان، ابوبکر، اصغر علی کو حراست میں لے کر ان کے ڈی این اے ٹیسٹ کروائے گئے ہیں جن کی رپورٹس کا انتظار ہے۔تین مختلف مقامات سے جیو فینسنگ کیلئے موبائل کمپنیوں کے حاصل کردہ ڈیٹاکا تجزیہ کیا جارہا ہے۔ لوکل کیمروں سے مشتبہ افراد کو ویڈیو ریکارڈنگ حاصل کرکے شناخت کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔پولیس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایسٹرن بائی پاس پر جس جگہ خاتون کی گاڑی کھڑی تھی وہاں کوئی باڑ نہیں تھی، سی سی ٹی وی فوٹیجز سے بھی کوئی مدد نہیں ملی تاہم تین مقامات کی جیو فینسنگ کرکے ریکارڈ یافتہ ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔  آئی جی پنجاب پولیس انعام غنی نے کہا ہے کہ درندہ صفت ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں پیش کیا جائے گا۔متاثرہ خاتون اوراسکے اہل خانہ کو انصاف کی فراہمی کیلئے پولیس ٹیمیں شب و روز متحرک ہیں۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں