0

موجودہ حکومت عوام دشمن اور اے ٹی ایف کی غلام ہے

 سرائے نورنگ (مانند نیوز ڈیسک) جماعت اسلامی خیبرپختونخواکے صوبائی امیرسنیٹرمشتاق ا حمدخان نے کہاہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ایف اے ٹی اے بل پاس کرکے قوم کی آزادی کوگروی رکھ دی موجودہ حکومت عوام دشمن اور اے ٹی ایف کی غلام ہے اُنہوں نے کہاکہ اپوزیشن کی اے پی سی صرف اسٹبلشمنٹ پردباوبڑھاناہے اُنہوں نے کہاکہ جماعت اپنی پلیٹ فارم سے احتجاج جاری رکھیں گی،ان خیالات کااظہاراُنہوں نے گذشتہ روزیہاں گنڈی چوک پرمیڈیاکے نمائندوں سے گفتگوکرتے ہوئے کیااس موقع پرجماعت اسلامی کے ضلعی امیرحاجی عزیزاللہ سمیت دیگرمقامی قائدین موجودتھے۔اس سے مشتاق احمدخان گنڈی چوک پہنچنے پرکارکنوں نے پرتپاک استقبال کیاسنیٹرمشتاق احمدخان کاکہناتھاکہ موجودہ حکومت کی غلط اورناکام پالیسیوں کے دولت ملک میں مہنگائی،بدامنی اورخواتین اورکمسن بچوں کے ساتھ روزانہ جنسی زیادتی ہورہی تھی اسی طرح کراچی میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرکے زندہ جلادیتے ہیں تاہم بدقسمتی سے حکومت کواب تک اس ظلم اوربربریت کے خلاف کوئی قانونی سازی کاسوچ بھی نہیں ہے لیکن تحریک انصاف کی حکومت نے  بغیرمشاورت جلدبازی میں ایف اے ٹی اے بل کوپاس کرکے ملک کی آزادی کوگروی رکھ دی ہے موجودہ حکومت عوام دشمن اور اے ٹی ایف کی غلام ہے موجودہ حکومت کے پاس ملک چلانے کیلئے کوئی منصوبہ نہیں اُنہوں نے کہاکہ  غلط اقدامات کی وجہ سے ملک اندورنی اور بیرونی خطرات سے دوچار ہے     اُنہوں نے سوال کے جواب میں کہاکہ جماعت اسلامی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت نہیں کر رہی۔اے پی سی صرف گفتا برخاستا ہے،اپوزیشن صرف فرینڈلی ہے جماعت اسلامی اپنی سیاست اور اپنا احتجاج اپنے پلیٹ فارم سے کرے گی۔اُنہوں نے مزیدکہاکہ جماعت اسلامی تین شرائط کی بنیاد پر اے پی سی کا حصہ بنے گی اے پی سی میں شامل جماعتیں خصوصا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ حکومت گرانے کیلئے واضح احتجاج اور منصوبہ لائیں اس منصوبے میں اسمبلیوں سے استفے اور بڑے بڑے احتجاج اور لاک ڈاؤن شامل ہوں س حکومت کے خاتمے کے بعد جو حکومت بنے گی اس میں آئی ایم ایف کا خاتمہ،ورلڈ بینک سے چٹکارا،مہنگائی اور غربت کا خاتمہ شامل ہوں حکومت میں سود اور پروٹوکول کلچر کا خاتمہ اور  چوروں کے احتساب کا معاہدہ شامل ہوتیسری شرط یہ ہے کہ نواز شریف لندن میں بیٹھ کر اپوزیشن چلانے کی روش ترک کرکے پاکستان آ:جائیں صف زرداری بھی عیش و عشرت کی زندگی ترک کرکے حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے،اگر اپوزیشن پارٹیاں ان شرائط کو تسلیم کرتی ہیں تو جماعت اسلامی حکومت کے خلاف فرنٹ فٹ پر ہوگی۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں