0

گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر طرز کاسیٹ اپ دیا جائے

اسلام آباد(مانند نیوز ڈیسک) جماعت اسلامی آزادجموں وکشمیر کے قائمقام امیر نورالباری نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کو آزادکشمیرطرز کاسیٹ اپ دیا جائے،ریاست کے تمام سٹیک ہولڈز کو اعتماد میں لیا جائے،ہم گلگت بلتستان کو دیگر صوبوں سے بھی زیادہ حقوق دینے کے حق میں ہیں،جی بی کے آنے والے انتخابات کو منصفانہ اور غیر جانبدارانہ بنایا جائے کوئی دباؤ نہ ڈالا جائے،ان خیالات کااظہار انہوں نے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔نورالباری نے کہا کہ گلگت بلتستان کی موجودہ صورتحال کے بارے میں آر پار کشمیریوں سمیت دنیا بھر میں آباد کشمیریوں کو تشویش ہے جی بی ریاست کا ایک حصہ ہے،1947؁ء میں یہاں کے عوام نے خود خطہ کو آزادکروایا،پھر پاکستان نے اس کا نظم ونسق سنبھالا،پاکستان کی بیوروکریسی نے علاقہ کو چراہ گاہ بنارکھا ہے،بیوروکریسی میں مقامی لوگوں کو تعینات کیا جائے تا کہ وہ اپنے لوگوں کی بہترا نداز سے خدمت کریں اور احساس محرومی بھی ختم ہو،انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ آزادکشمیر،مقبوضہ کشمیر کی قیادت اور مسئلہ کشمیر گلگت بلتستان کو حقوق دینے میں رکاوٹ ہیں،جماعت اسلامی قیام کے دن ہی سے آزادکشمیر کیساتھ گلگت بلتستان میں بھی کام کررہی ہے ریاست ایک وحدت ہے حق خودارادیت ہمارا نصب العین ہے اس پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جاسکتا،ہر کشمیری پاکستانی ہے اور پاکستان سے لازوال محبت کرتا ہے حریت رہنماسید علی گیلانی کا یہ واضح بیان ہے کہ ہم پاکستانی اور پاکستان ہمارا ہے،پاکستان سے الحاق ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر تحریک تکمیل پاکستان ہے کوئی کشمیری نہیں چاہتا کہ پاکستان کو کوئی نقصان پہنچے 72سال گزرنے کے باوجود بھی مسئلہ کشمیر کو آڑ بنا کر جی بی کو حقوق سے محروم رکھا گیا یہاں پر 1950سے 1975تک یہاں کالا قانون نافذ رہا ہے اس کے بعد کئی پیکجز دیئے گئے ہمارا موقف ہے کہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ علاقہ ہے یہاں کے لوگوں نے رائے شماری میں حصہ لینا ہے سپریم کورٹ آف پاکستان نے فیصلہ دیا کہ یہ متنازعہ علاقہ ہے یہاں کے عوام کو مسئلہ کشمیر کو نقصان پہنچائے بغیرحقوق دئیے جائیں۔2018؁ء میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے پیکج دیا جس کے خلاف احتجاج ہوا اور عدالت میں چیلنج ہوا،سپریم کورٹ نے 2009؁ء کی صورتحال کو برقرار رکھا،اٹارنی جنرل کے بیان سے واضح ہوا کہ پیکیج کی آڑ میں گلگت بلتستان کو مرحلہ وار صوبہ بنایا جارہا ہے،ناموروکیل اعترازاحسن نے بھی واضح کیا ہے کہ جی بی کو صوبہ بنانا مسئلہ کشمیرکیلئے نقصان دہ ہے،نور الباری کا کہنا تھا کہ یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگلے مرحلے میں آزادکشمیر کو بھی پاکستان کیساتھ ملایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران واضح کیا کہ مودی کا 05اگست2019؁ء کا اقدام یکطرفہ اور قراردادوں کے منافی ہے لیکن اگر وہ خود مودی کے اقدام کا توڑلانے کے بجائے جی بی کو صوبہ بنائیں گے تو یہ اقدام مودی کے اقدامات کو تقویت بخشے گا،اُن کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے عین مطابق گلگت بلتستان کو آزادکشمیر جیسا سیٹ اپ دیا جاسکتا ہے۔جی بی کے عوام کو حقوق کشمیریوں نے نہیں بلکہ پاکستان کے صاحب اقتدار لوگوں نے دینے ہیں،انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں تمام سٹیک ہولڈرز، آر پار،جی بی کی قیادت،اورسیز کشمیری،پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور اداروں کو آن بورڈلیکر ایسا حل نکالا جائے جس سے پاکستان کی سلامتی کو نقصان نہ پہنچائے اور مسئلہ کشمیر بھی متاثر نہ ہو۔اُن کا کہنا تھا کہ آزادکشمیر کے وزیراعظم کانفرنس بلا کر رائے عامہ ہموار کرتے ہوئے مشترکہ اعلامیہ،بیانیہ اور اتفاق رائے سامنے لائیں اگر وزیراعظم نے کانفرنس نہ بلائی تو جماعت اسلامی یہ ذمہ دار نبھائے گی آزادکشمیر اسمبلی سے 2018؁ء میں قرارداد آئی تھی آج کیوں نہیں آسکتی یہ کیوں خاموش ہیں،جی بی سے رابطہ منقطع کرنے کی ذمہ دار آزادکشمیر کی قیادت ہے جی بی کے عوام سے موثر رابطے کیے جائیں،رابطے بحال کرنے کیلئے شونٹر ٹنل بنایا جائے،نوالباری نے مزید کہاکہ گلگت بلتستان کے عوام کو زیادہ حقوق ملنے چاہیے،سی پیک کے ثمرات سے اُن کو محروم نہ رکھا جائے بڑے منصوبے دیئے جائیں،بجلی بنانے کے پوٹینشل کو برؤے کار لائے جائے،سیاحت کو فروغ دیا جائے،عوام کو سہولیات دی جائیں،ملازمتوں میں اُن کو ترجیحی دی جائے،آنے والے انتخابات میں یہ تاثر ختم کیا جائے کہ جوحکومت وفاق میں ہوتی ہے وہی حکومت جی بی میں بنتی ہے الیکشن میں کوئی دباؤ نہ ڈالا جائے لوگوں کو آزادنہ اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنے کا موقع دیا جائے،گلگت بلتستان میں دفاع خارجہ موصلات اور کرنسی کے علاوہ تمام دخلی اختیارات دیئے جائیں،چین ہمارا دوست ہے وحدت کشمیر حق خودارادایت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں