0

کراچی، مسکن چورنگی پر رہائشی عمارت میں دھماکا

کراچی (مانند نیوز ڈیسک) کراچی کے علاقے گلشن اقبال بلاک 7 میں مسکن چورنگی کے قریب بدھ کی صبح ساڑھے نو بجے کے قریب رہائشی عمارت میں  دھماکے سے عمارت کا ایک حصہ منہدم ہو گیا۔ دھماکے کی آواز اتنی زور دار تھی کہ دور دور تک سنی گئی، قریبی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے، دھماکے کے بعد لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ دھماکے میں  23  افراد زخمی اور 5  افراد جاں بحق ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق گلشن اقبال ابوالاصفہانی روڈ کے قریب واقع چار منزلہ عمارت میں صبح تقریباََ ساڑھے نو بجے زور دار دھماکہ ہوا۔ عمارت کے گراؤنڈ فلور پر ایک نجی بینک بھی قائم تھا، دھماکے سے  بینک بھی شدید متاثر ہوا۔ دھماکے سے بینک کا سامان اور دستاویزات بھی دور تک جا گرے  جبکہ   دھماکے سے 4 منزلہ عمارت کی پہلی اور دوسری منزل اور گراؤنڈ فلور کی دو دکانیں  منہدم ہو گئی۔ عمارت کے چار پلرز بھی تباہ ہو گئے۔ دھماکے کے زخمیوں کو گلشن اقبال میں واقع پٹیل اسپتال، عباسی شہید اسپتال اور جناح اسپتال لایا گیا جبکہ دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کی لاشوں کو عباسی شہید اور جناح اسپتال میں منتقل کیا گیا۔ دھماکے سے 3گاڑیاں اور 6 موٹر سائیکلوں کو نقصان پہنچا۔دھماکے کی شدت سے بینک کی کرسیاں اور موٹر سائیکلیں دوسری سڑک پر اڑ کر جا گری ہیں، دیواروں کا ملبہ بھی دور تک جا گرا ہے، بینک کا سامان باہر گرنے سے معلوم ہو رہا ہے کہ دھماکا بینک کے اندر ہی ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق  دھماکیکے زخمیوں میں ٹریفک اہل کار بھی شامل ہے جو شدید زخمی ہو گیا ہے، ٹریفک پولیس اہل کار بینک کے باہر ٹریفک کلیئر کرتے ہوئے زخمی ہوا۔دریں اثناوزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مسکن چورنگی دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ مسکن چورنگی میں واقع عمارت میں  دھماکے  کے  مقام پر صوبائی وزیر سعید غنی نے  دورہ کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ دھماکے سے شدید  متاثر عمارت اب رہنے کے قابل نہیں رہی جس کو گرایا جائے گا۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ متاثرہ عمارت سے تمام لوگوں کو نکال لیا گیا ہے، یہ عمارت اب رہنے کے قابل نہیں رہی اسے گرایا جائے گا۔سعید غنی نے بتایا کہ فلیٹس میں رہنے والے دیگر افراد کو دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا ہے۔دھماکے کی نوعیت سے متعلق پوچھے گئے سوال پر صوبائی وزیر نے کہا کہ اس وقت کچھ نہیں کہہ سکتا۔ رہائشی عمارت میں دھماکے کے حوالے سے  ترجمان سوئی سدرن نے کہا ہے کہ دھماکا گیس پائپ لائن لیکیج کا نتیجہ نہیں ہے جب کہ دھماکے سے متاثرہ عمارت کی گیس بند کردی گئی ہے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں