0

گلگت بلتستان کوعبوری صوبائی حیثیت دینے کا فیصلہ، عمران خان

گلگت (مانند نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دینے   کا فیصلہ کرلیا ہے تاہم صوبے کیلئے مراعات اور پیکیج کا اعلان الیکشن کے باعث ابھی نہیں کر رہا، انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دینی ہے جو یہاں کے لوگوں کا مطالبہ تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ فیصلہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔ اتوار کوگلگت بلتستان کے 73 ویں یوم آزادی کی  گلگت میں مرکزی تقریب  سے  خطاب کرتے ہوئے  وزیر اعظم نے  کہا کہ آنے والے دنوں میں دیکھیں گے کہ کس کی ٹانگیں کانپتیں ہیں اور کس کو پسینہ آتا ہے، میں ان چوروں اور ڈاکوؤں کو نہیں چھوڑوں گا، منصوبے کے تحت پاکستان کیخلاف دہشتگردی کی جارہی ہے،اب تک میرا پورازور پاکستان کی معیشت ٹھیک کرنے پر تھا، کیونکہ ہمارے ملک کی معیشت کا بہت برا حال تھا، معیشت کے اوپر میں ابھی بھی زور لگاؤں گا اور اللہ کا کرم ہے وہ صحیح طرف نکل گئی ہے، لیکن اب میں قانون کی بالادستی کے اوپر اتنا ہی زور لگاؤں گا، جو ریاست کے ادارے ہیں اب میں ان کو خود دیکھوں گا کہ اس  ملک میں قانو ن کی بالادستی قائم کریں اور اس ملک کے طاقتور مجرم جو ملک کو بلیک میل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ان کو قانون کے نیچے لے کر آئیں۔ہ تقریب سے نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان میر افضل خان نے بھی خطاب کیا۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ یہاں کے گلگت اسکاؤٹس نے اپنی جان کی قربانی دے کر گلگت بلتستان کو آزاد کروایا،مجھے بڑی خوشی ہے کہ میں آج دوسری مرتبہ پھر آپ کے ساتھ یہاں خوشی منانے آیا ہوں اور جب تک میں وزیر اعظم رہوں گا میر ی ہمیشہ کوشش ہو گی کہ یہ جو یکم نومبر کا دن ہے میں آپ کے ساتھ گزاروں۔ میں 15سال کی عمر میں پہلی مرتبہ گلگت آیا تب یہ قراقرم ہائی وے بن رہی تھی،میں اپنے اسکول کی ٹریکنگ ٹیم کے ساتھ آیا اور وہ جو 15سال کی عمر سے مجھے ٹریکنگ کا شوق ہوا وہ آج تک ہے وہ اس لئے کہ اس سارے علاقہ میں جو ٹریکنگ ہے وہ دنیا میں کہیں نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس علاقہ میں جو خوبصورتی دی ہے اور اس طرح کے جو پہاڑ ہیں اور پہاڑوں کے اندر جو علاقے ہیں وہ کہیں دنیا میں نہیں، میراوزیر اعظم بننے کا ایک نقصان ہوا کہ میں اب ٹریکنگ نہیں کرسکتا لیکن جب بھی موقع ملا تو ٹریکنگ کرنے کے لئے پھر یہاں آؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ آج ایک تو گلگت اسکاوئٹس اور ان شہداء کو خراج تحسین پیش کرنا تھاجنہوں نے قربانیاں دے کر اس علاقہ کو آزاد کروایا اور میں نے گلگت بلتستان کے لوگوں کو دوسری بھی مبارک دینا تھی وہ یہ ہم نے گلگت بلتستان کوعبوری صوبائی حیثیت  دینے کا فیصلہ کیا ہے، جو بڑی دیرسے ان کا مطالبہ تھا اور یہ ہم نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بیچ میں رکھتے ہوئے ہم نے فیصلہ کیا ہے، وہ جو سیکیورٹی کونسل کی قراردادیں ہیں اس کے بیچ میں ہم نے فیصلہ کیاہے لیکن مجھے پتہ ہے کہ یہاں کے نوجوانوں کا بڑی دیر سے مطالبہ تھا تو میں آج اس کی بھی مبارک دیتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو پیکج اور ڈویلپمنٹ کی بات کی وہ میں اس لئے نہیں کرسکتا کہ الیکشن کے دن ہیں، لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ خاص طور پر ہماری حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ اپنے کمزور طبقہ کو اٹھایا جائے جو ہمارے غریب ہیں جو پیچھے رہ گئے ہیں، جو 25فیصد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے ہیں، سب سے پہلی ترجیح ہے کہ ہم ان کو اوپر کیسے لے کر آئیں اور دوسری جو پاکستان کے علاقے پیچھے رہ گئے ہیں، جس طرح گلگت بلتستان پیچھے رہ گیا ہے اور اس کی بہت بڑی وجہ یہ تھی یہ کٹ آف تھا، جب تک قراقرم ہائی وے نہیں بنا، شاید ہی یہاں کوئی آتا تھا اور ترقی کا امکان نہیں تھا، اس لئے یہ پیچھے رہ گیا، ہماراقبائلی علاقہ بھی پیچھے رہ گیا، بلوچستان بھی پیچھے رہ گیا ہے، پنجاب کے سارے مغربی اضلاع اور اندرون سندھ کے اضلاع وہ پیچھے رہ گئے،ہماری پوری کوشش ہے کہ سارے علاقوں کو اٹھایا جائے اور ہمارا کمزور طبقہ اور غریب لوگ جو اس وقت دو وقت کی روٹی صحیح طرح نہیں کھا سکتے ان کو اوپر اٹھایا جائے۔ آنے والے دنوں میں  ہم جس طرف جارہے ہیں اور  ہمارا سارا ڈویلپمنٹ پروگرام ان علاقوں میں جائے گا جو پیچھے رہ گئے۔ میرے فوجی جوان بھی سامنے کھڑے ہیں، میں ساری قوم کو اہمیت بتانا  چاہتا ہوں کہ ایک مضبوط فوج کتنی ضروری ہے اور ایک مضبوط فوج کا  ہونا پاکستان کے لئے کتنا ضروری ہے۔ آج آپ ساری مسلمان دنیا کو دیکھیں شروع کریں لیبیاسے، پھر صومالیہ جائیں، پھر شام جائیں، پھر یمن جائیں، پھر افغانستان کو دیکھیں پھر عراق کو دیکھیں، تباہی مچی ہوئی ہے، یاجنگیں ہو چکی ہیں یا ہو رہی ہیں،لیکن عوام مشکل میں ہے، لوگ مشکلوں کا سامنا کررہے ہیں، اس کے بعد دیکھیں کہ ہمارے ملک کا جو ہمسایہ ہے، بھارت میں آج وہ حکومت آئی ہے جو گزشتہ73سال میں سب  سے زیادہ انتہاپسند، مسلمانوں اور پاکستان سے نفرت کرنے والی، جو وہ ہندوستان میں مسلمانوں سے کررہے ہیں، انہوں نے دو قانون بنائے، یہ ہیں ہی مسلمانوں کے لئے کہ انہیں ہندوستان میں برابر کا شہری نہ سمجھا جائے اور جو انہوں نے پانچ اگست2019کو کشمیر میں کیا کسی بھارتی حکومت نے وہ نہیں کیا کہ جو کشمیر کے لوگوں سے اس انتہاپسند، نسلی تعصب کا شکار اور مطلق العنان، جو نسلی بڑائی میں یقین رکھتی ہے  اور باقی انسانوں کو برابر نہیں سمجھتی، جو ہندوتا کا نعرہ لے کر آئی ہے، انہوں نے کشمیریوں پر جس طرح کا ظلم کیا اس کا ظلم پہلے کبھی نہیں ہوا۔ اس تناظر میں دیکھنا چاہیئے کہ کتنی ضرورت ہے آج ہمیں  ایک مضبوط پاکستان کی  فوج اور سکیورٹی فورسز کی۔ کوئی ہفتہ نہیں گزرتا جب ہماری سکیورٹی فورسز اپنی جان کی قربانیاں نہیں دیتیں، پرانے قبائلی علاقہ جو ضم شدہ اضلاع ہیں وہاں سے لے کر بلوچستان اور کراچی میں بھی کبھی کبھی ایک پورے منصوبہ کے تحت پاکستا ن میں دہشت گردی کی جارہی ہے اور کون ان کے سامنے کھڑا ہے ہمارے فوجی، ہماری سکیورٹی فورسز، جو اپنی جان کی قربانیاں دیتی ہیں اور ہم وہ خوش قسمت ملک ہیں کہ جس طرح کی دہشت گزشتہ15سال کے دوران پاکستان میں ہوئی اور جوہمارے دشمنوں نے اس سے پورا فائدہ اٹھایا اور ہمیں عدم استحکام کا شکارکرنے کی کوشش کی، ہم اپنی سکیورٹی فورسز کو آج داد دیتے ہیں کہ ان کی وجہ سے آج پاکستان محفوظ ہے اور ان کی قربانیوں کی وجہ سے ہمارا وہ حال نہیں ہے جو کئی اور مسلمان ملکوں کا حال ہے۔ ہمیں یہ بھی پتہ ہے کہ یہ جو نریندرمودی کی حکومت ہے یہ  ہر قسم کا اندر انتشار صرف دہشت گردی کے زریعہ نہیں ، جو کلبھوشن یادیو نے بتایا کہ کیسے بلوچستان اور کراچی میں اس کا دہشت گردی کرنے کا  مشن تھا، یہ اندر اور انتشار پھیلارہے ہیں، شیعہ، سنی کی لڑائی، منصوبہ بنایا ہوا تھا کہ شیعہ اور سنی عالموں کو قتل کروائیں تاکہ انتشار پھیلے۔ میں اپنی انٹیلیجنس ایجنسیز کو آج داد دیتا ہوں کہ انہوں نے ان کے بہت سے انتشار پھیلانے کے پروگرام پاش پاش کئے۔آج کل کے دنوں میں ایک پورا منصوبہ بنا ہوا ہے، ہمارے وہ لوگ جو کہ اپنے آپ کو جمہوری کہتے ہیں، سیاستدان کہتے ہیں وہ پوری طرح آج ہماری فوج کے اوپر اور پاکستان کی عدلیہ کے اوپر ان کو ڈس کریڈٹ کرنے کا پورا پروگرام بنایا ہوا ہے، لیکن یہ کیوں ہے، میں آج اپنی ساری قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ کیوں ہو رہا ہے،جب میں وزیر اعظم بنا تو میں نے اپنے خطاب میں خاص طور پر  دو چیزیں کہیں، میں نے یہ کہا کہ جن لوگوں نے 30سال سے اس ملک کو لوٹا ہے،30سال سے اس ملک کا پیسہ چوری کر کر کے باہر لے کر گئے ہیں یہ  سب اکٹھے ہو جائیں گے، یہ میرے خلاف اکٹھے اس لئے ہوں گے کہ ان کو پتہ ہے کہ میری 24سال کی مہم ہی یہ تھی کہ جب تک ملک میں کرپشن ہے ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، اور میں نے دوسری بات کہی کہ جس چیز میں پاکستان کا فائدہ ہے اس چیز میں ان کا نقصان ہے اور جس چیز میں ان کا فائدہ ہے وہ پاکستان کو نقصان ہے، یہ یہ چاہتے ہیں کہ جو ساری کرپشن جو یہ اس ملک کا سارا پیسہ لوٹ کر باہر لے کر  گئے، یہ چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح مجھے بلیک میل کریں اور میں ان کو این آر او دے دوں، یعنی کہ ان کو معاف کردوں جو انہوں نے اس ملک کا پیسہ چرایا ہے۔ پاکستان کا فائدہ ایک چیز میں ہے کہ یہاں قانون کی بالادستی قائم ہو، طاقتور اور کمزور کے لئے ایک قانون بنے،یہ نہیں کہ جو بیچارے لوگ مجبوری میں چوری کرتے ہیں وہ جیلوں میں جائیں اور بڑے بڑے ڈاکو ان کو این آراو مل جائے اور وہ دندناتے پھریں اور وہ بار بار آکر پھر ملک کو لوٹیں، قانون کی بالادستی کا مطلب کہ طاقتور اور کمزور کے لئے ایک قانون اگر طاقتور چوری کرتا ہے تو اس کا بھی اسی طرح  احتساب ہو جس طرح عام عادمی کا ہوتا ہے۔ میں نے کہا کہ ان کا مفاد پاکستان کے مفاد کے خلاف ہے اور یہ آج ثابت ہو رہا ہے، سب اکٹھے  بھی ہو گئے ہیں، انہوں نے پہلے مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کی، الیکشن کی بات کی میں نے کھول دو ادھر سے بھاگ گئے اور جدھر یہ معیشت چھوڑ کر گئے تھے ملک کا دیوالیہ نکلا ہوا تھا اللہ کا کرم ہے کہ وہ بھی صیح طرف لگ گیا ہے۔ پھر انہوں نے کوروناکے اوپر کوشش کی،اللہ کا شکر ہے دنیا تسلیم کرتی ہے کہ کوروناوائرس سے پاکستان ایسے باہر نکلا ہے شاید ہی کوئی اور ملک نکلا ہو۔ فیٹف کے معاملہ پر بھارت چاہتا تھا کہ پاکستان کو بلیک لسٹ کرائے اور اس معاملہ پربھی مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن میں بلیک میل نہیں ہوا۔ اب انہوں نے پاکستان کی فوج کی طرف اور پاکستان کے آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے چیف کے اوپر بندوقیں تانی ہوئی ہیں، پہلے تو میں آج اللہ کہ یہ شکر ادا کرتا ہوں کہ اگر یہ آئی ایس آئی کے چیف اور آرمی چیف کے خلاف بات کررہے ہیں تو اس کا مطلب ہے میں نے ان کو ٹھیک منتخب کیا، یہ میری سلیکشن بالکل ٹھیک تھی کیونکہ اگر یہ ڈاکو ان کے خلاف بول رہے ہیں اس کا مطلب ہے یہ بالکل ٹھیک لوگ ہیں۔ میں اپنی قوم کے لئے ایک چیز کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ اگر اسلام کی تاریخ پڑھیں، برصغیر میں مسلمانوں کی تاریخ پڑھیں تو جب مسلمانوں کا اور دشمن کا مقابلہ ہوتا تھا تو مسلمان ڈٹ کر مقابلہ کرتا تھا لیکن مسلمانوں کو سب سے زیادہ  نقصان مسلمانوں کے میر جعفر اور میر صاد ق نے پہنچایا، یہ میر جعفر اور میر صادق وہ غدار تھے جنہوں نے اندر سے سازش کر کے ان قوموں کو صرف ذاتی فائدوں کے لئے غلام بنادیا۔ آج ہم پاکستان کے میر جعفر اور میر صادق اور میر ایاز صادقوں کو دیکھ رہے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو آج نریندر مودی کی زبان بول رہے ہیں۔ دنیا نے کہا کہ جس طرح پاکستان نے پلوامہ کے بعد کنڈکٹ کیا مجھے ساری دنیا کے سربراہوں کے مبارکباد کے پیغام آئے اور یہ آج کہہ رہا ہے کہ پاکستان نے ڈر کے کیا جو کہ نریندرمودی نے ساری الیکشن مہم چلائی تھی۔ اور ان کا سارا مقصد ہے کیا، ان کا سارا مقصد ہے کہ کسی نہ کسی طرح عمران خان بلیک میل ہو کر ان کی اربوں روپے کی لوٹی ہوئی دولت جو یہ باہر لے کر گئے ہیں اس کے لئے کسی طرح این آر اودے دے معاف کردے۔ میں آج اپنی ساری قوم کو کہنا چاہتا ہوں کہ عمران خان کبھی ان ڈاکوؤں کو معاف نہیں کرے گابلکہ جس طرح انہوں نے ہماری عدلیہ پر حملہ کیا، عدلیہ کے اندر بھی کوشش کررہے ہیں کہ ایک جج کو اوپر چڑھا دیں، جب ان کو حدیبیہ پیپر مل کیس سپریم کورٹ نے معاف کیا تو تب  عدلیہ ٹھیک تھی لیکن جب ان کے خلاف پانچ رکنی بینچ کا فیصلہ آتا ہے، جو آج باہر بھاگا ہوا ہے اس کے اوپر منی لانڈرنگ کا فیصلہ آتا ہے تو تب عدلیہ بری ہے۔ اسی طرح جو فوج کے اوپر دباؤ ڈالا ہوا ہے یہ صرف اور صرف کوشش ہے کہ کسی  طرح اتنے پریشر میں آئیں کہ ہم ان کو معاف کردیں۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں