0

لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری تحائف کی خفیہ نیلامی کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا

لاہور (مانند نیوز ڈیسک) چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے وفاقی حکومت کی جانب سے 23 نومبر تک سرکاری تحائف کی خفیہ نیلامی کرنے کے حوالہ سے جاری نوٹیفکیشن معطل کر دیا۔جبکہ عدالت نے اٹارنی جنرل سمیت دیگر فریقین کونوٹسز بھی جاری کر دیئے۔منگل کو چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے عدنان احمد پراچا کی سرکاری تحائف کی خفیہ نیلامی روکنے  کے حوالے سے دائر درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے توشہ خانہ کے سرکاری تحائف کو قانونی جواز دیئے بغیر ہی خفیہ طور پر نیلام کیا جارہا ہے اور خفیہ نیلامی میں عوام الناس کی بجائے صرف سرکاری افسروں کو خفیہ طور پر خطوط لکھے گئے ہیں کہ وہ اس نیلامی میں حصہ لے سکتے ہیں۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ سرکاری دوروں پر ملنے والے تحائف توشہ خانہ میں جمع ہوتے ہیں۔ توشہ خانہ کے تحائف کو قانونی جواز کے بغیر خفیہ طور پر نیلام کیا جارہاہے، عدالت غیر قانونی خفیہ نیلامی روکنے کا حکم دے۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے توشہ خانہ کے سرکاری تحائف کی خفیہ نیلامی کانوٹیفکیشن معطل کر دیا اور فوری طور پر خفیہ نیلامی کرنے کے لئے تمام تر انتظامات کو روکنے کے احکامات جاری کر دیئے۔چیف جسٹس محمد قاسم خان نے خفیہ نیلامی کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیئے کہ کیا یہ آئین کے آرٹیکل 25کی خلاف ورزی نہیں ہے، حکومت کا تو یہ حال ہے کہ اندھا بانٹے ریوڑیاں اور اپنوں کو دے، کیا یہ شفاف بڈنگ ہے اس کے تو پہلے ہی قدم پر شفافیت نہیں رہی، کیا یہ سب کچھ صرف سول  بیوروکریسی کو ہی دینے کے لئے کیا جارہا ہے۔دوران سماعت وفاقی حکومت کے وکیل ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد باجوہ اپنے دلائل سے عدالت کو مطمئن نہ کر سکے جس پر عدالت نے اس نوٹیفکیشن کو معطل کر دیا آئندہ سماعت تک توشہ خانہ کے سرکاری تحائف کی خفیہ نیلامی روکنے کے احکامات جاری کر دیئے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان بیرسٹر خالد جاوید خان سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے تین ہفتوں کے اندر تحریری طور پر وضاحت طلب کر لی ہے۔ ZS

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں