0

کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال حوصلہ افزا نہیں

انسانی حقوق کا عالمی دن

10 اسلام آباد(نمائیدہ مانند)دسمبر کو انسانی حقوق کا عالمی دن پاکستان سمیت دنیا بھر میں بنایا جاتا ہے تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے پہلی بار اس دن کو منانے کا فیصلہ انیس سو اڑتالیس میں کیا،اس دن کو منانے کا مقصد دنیا بھر کے لوگوں کی انسانی حقوق کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ڈیکلیریشن کی جانب توجہ دلانا تھا۔
آج سے 72 برس قبل ہیومن رائٹس تھری سکسٹی فائیو کے نعرے کا مقصد یہ باور کرانا تھا کہ سال کا ہر دن انسانی حقوق کا دن ہے، کشمیر سمیت دنیا کے کئی ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال حوصلہ افزا نہیں،سیاسی صحافتی، عدالتی، معاشرتی مذہبی اور دیگر حوالوں سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں معاشرے میں بگاڑ کا بہت بڑا سبب ہیں۔
جیلوں میں قید عدالتی فیصلوں کے منتظر افراد پر جیل انتظامیہ کا تشدد، خواتین کی عصمت داری کے بڑھتے ہوئے واقعات، حق رائے دہی کے استعمال سے روکنے کے لیے سیاسی کارکنوں کے قتل، لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ اور اس قسم کے بے شمار واقعات کسی بھی معامشرے کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا ہیں۔ معاشرے کے سدھار کے لیے سرکاری، عوامی اور تنظیمی سطح پر کوششیں بہتری کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہیں۔
پاکستان میں رواں سال انسانی حقوق کے عالمی دن کو کشمیر کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے جس کا مقصد عالمی برداری کو یہ یاد دلانا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی ادارے کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل اور مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں رکوانے کیلئے اس کے موثر کردار کے منتظر ہیں
گمنام قبروں کی دریافت،خواتین کی عصمت دری، حق خودارادیت مانگنے والے کشمیریوں پر مظالم کی انتہا ہو چکی ہے ہزاروں لاپتہ افراد اور آدھی بیوہ خواتین ،یتیم بچے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ کشمیر میں دوسرا سال کرفیو کو جاری ہے دوسری طرف کرونا جیسی وبا نے زندگیاں اجیران بنا دی ہیں جس پر دنیا بھر میں موجو دحو
کشمیری نواجونوں کی منظم تنظیم آل کشمیر فورم نےسوشل میڈیا کو بطور ٹول استعمال کرتے ہوۓ تمام عالمی اداروں تک اپنا احتجاج ریکارڈ کراویا کشمیر کاز پر کشمیری نوجوانوں کا کردار باعث فخر ہے
عالمی دن کی مناسبت سے عالمی اداروں سے یہی مطالبہ ہے کہ بھارتی افواج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے اندر جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کا فی الفور نوٹس لیا جائے
اور وہاں پر کشمیری قیادت سید علی گیلانی ، یسن ملک ، میر واعظ عمر فاروق ، شبیر شاہ اور دیگر شخصات عوام تک رساٸی دی جاۓ تاکہ وہ بھی باآسانی اپنی زندگی بسر کر سکیں

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں