0

سوات میں ٹریفک کے شدید مسائل و مشکلات

سوات (مانند نیوز ڈیسک) تحصیل کبل اور تحصیل مٹہ دیگر مسائل کے علاوہ دور حاضر میں ٹریفک کے شدید مسائل و مشکلات سے دوچار ہیں مذکورہ تحصیلوں خصوصا تحصیل کبل کے عوام کا سوات کے مرکزی شہرمینگورہ جانا جوئے شیر لانے کے مترادف بن چکا ہے جہاں پر روزانہ کے بنیاد پر ہزاروں گاڑیوں میں لاکھوں لوگ لمبی لمبی قطاروں اور گھنٹوں انتظار کی وجہ سے ذہنی اذیت کا شکار ہوتے رہتے ہیں جس کے اہم وجوہات میں سب سے اہم واحد پل ایوب بریج کانجو ہے جو زمانہ قدیم میں محدود آبادی کے آمد رفت کی ضروریات کو پوری کرنے کے لئے تعمیر کیا گیا تھا چونکہ آبادی میں انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ اضافہ ہوا ہیں اور ہو رہا ہے لیکن آبادی  میں ہونے والے اس اضافہ کے لئے درکار ٹریفک نظام کے لئے کوئی پلاننگ نہیں کی گئی ہے اور جو پل محدود آبادی کے ٹریفک ضروریات کو پوری کرتا تھا آج وہ لوگوں کے لئے وبال جان بن چکا ہے کیونکہ مذکورہ پل روزانہ کے بنیاد پر ہزاروں گاڑیوں کو مینگورہ پہنچانے کے لئے ناکافی ہے اسی وجہ سے چینو بابا علی گرامہ،ائیر پورٹ روڈ کانجو اور مینگورہ بائی پاس روڈ مکمل طور پر جام رہتا ہے اور لمبی قطاروں،گھنٹوں انتظار،ایک دوسرے سے سبقت لے جانے،ذہنی دباؤ اور دیگر مشکلات کی وجہ سے لوگوں کے مابین تلخ کلامیاں اور جھگڑے روز کا معمول بن گئے ہیں دوسری طرف جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ باقی دنیا میں سفری سہولیا ت بہتر بنانے کے لئے کام ہورہا ہے اسی طرح پاکستان کے بڑے شہروں میں بھی یہ روش دیکھنے کو ملتا ہے جس میں لاہور،اسلام آباد،ملتان میٹرو بس،لاہور میٹرو ٹرین،پشاور BRT وغیرہ سر فہرست ہیں دوسری طرف سوات کے عوام کے لئے مینگورہ کانجو ایوب بریج درد سر بن چکا ہے اور تحصیل مٹہ خصوصا تحصیل کبل کے عوام بری طرح متاثر ہیں کیونکہ ان علاقوں کے عوام کا ذیادہ تر انحصار مینگورہ شہر پر ہے جہاں پر  سرکاری اور پرائیویٹ علاج معالجہ کے لئے سیدو شریف ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے لیکن شدید ٹریفک کی وجہ سے اکثر مریض راستے میں دم توڑ جاتے ہیں اس کے علاوہ تمام بڑے سرکاری دفاتر سیدو شریف میں واقع ہیں جو بھی رش کا اہم ذریعہ ہے اس کے علاوہ مینگورہ شہر سوات کا سب سے بڑا تجارتی مرکز ہے جہاں تک رسائی لوگوں کی مجبوری بن چکی ہے زمینداروں کو بھی اپنی پیداوار منڈیوں تک پہنچانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ٹریفک جام کی وجہ سے دیگر ان گنت مسائل و مشکلات سے دوچار عوام کی قوت برداشت جواب دے چکی ہے اور کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔ سوات کے مقامی سیاست دان ہر الیکشن کے دوران بلند وبانگ دعوے کرتے ہیں کہ وہ کامیابی کے بعد ٹریفک جام کے اس اہم مسلے کو اپنے منشور میں سر فہرست رکھ کر جنگی بنیادوں پر حل کرنے اور عوام کو اس اذیت سے نجات دلانے کے اعلانات کر چکے ہیں لیکن ووٹ بٹورنے اور الیکشن میں کامیابی کے بعد منتخب ممبران کے وعدے زبانی جمع خرچ ثابت ہوتے ہیں اور مذکورہ مسلے کو حل کرنے کے بجائے راہ فرار اختیار کرنے اور چشم پوشی پر اکتفا کرتے ہیں آج ایک مرتبہ پھر عوام منتخب ممبران کو ان کے وعدے یاد دلاتے ہوئے تجویز دیتے ہیں کہ اگر وہ قوم کے ساتھ مخلص ہیں تو کبل اور امام ڈھیرئی کے مقام پر دو پل تعمیر کرنے کے لئے سنجیدہ اقدامات کریں بصورت دیگر ٹریفک جام کا یہ مسلہ اتنا سنگین ہوجائے گا کہ دور قریب میں ممکن ہے کہ مذکورہ دونوں تحصیلوں کے عوام کا رابطہ ٹریفک جام کی وجہ سے مینگورہ سے منقطع ہوجائے گا اور ان علاقوں کے لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی مینگورہ میں پائی جانے والی سہولیات سے محروم رہ جائیں۔۔۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں