0

شانگلہ میں سڑکوں کی صفائی کا ٹنڈر تاخیر کا شکار ہے

   الپوری (مانند نیوز ڈیسک) شانگلہ میں دوسری برف باری ہونے کے باوجود محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے زیرنگرانی سڑکوں کی صفائی کا ٹنڈر تاخیر کا شکار ہے جسکی وجہ سے ان سڑکوں کی صفائی نہ ہوسکی جو محکمہ سی اینڈ ڈبلیو شانگلہ کی بد عنوانیوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں اور ان سے کوئی پوچنے والا نہیں۔برف صفائی ٹھیکہ میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کچھ منظور نظر ٹھیکداروں سے ملی بھگت کرکے فائدہ پہنچارہے ہیں۔ٹھیکداروں کا الزام۔موسم سرما کی دوسری شدید برفباری بیشتر سڑکوں کی صفائی کا ٹنڈر التواء کا شکار ہیں پی ڈی ایم اے کے بار با ر الرٹ جاری ہونے کے باوجود محکمہ سی اینڈڈبلیو ٹھس سے مس نہیں ہورہی رواں سال شانگلہ جیسے بالائی علاقوں میں سخت برف باری متوقع ہے بیشتربالائی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ سے لنکس سڑکیں بند پڑی ہے جس میں بیشتر لنک سڑکوں کو کھولنے کیلئے مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کام شروع کردیا ہے اندیشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ ہمیشہ کی طرح عوام کی اپنی مدد آپ کے تحت لینڈ سلائیڈنگ اور برف سے کھلنے والی سڑکوں کاکام محکمہ سی اینڈ ڈبلیو اپنے کھاتے میں ظاہر کرے گی اور بھاری رقوم ہڑپ کرے گی۔ ضلعی انتظامیہ شانگلہ عوامی شکایت پر اپنے پٹواریوں کو متعلقہ موضع جات برف سے متاثرہ سڑکوں کی حالت زار دیکھنے کیلئے اکثر ا وقات بھیج دیتے ہیں یہ سرکاری اہلکار وہاں کسی سے ٹریکٹر مانگ کر فوٹو سیشن کرتے ہیں اور مقامی انتظامیہ کو رپورٹ سب ٹھیک ہونے کا دیا جاتا ہے جبکہ یہ کا م پٹواریوں،ویلج کونسل سیکرٹریوں کا نہیں بلکہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو،ٹی ایم اے اور ان سے برف کا صفائی کا ٹھیکہ لینے والے ٹھیکداروں کا ہے مگر ضلعی انتظامیہ شانگلہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ساتھ ملکر یہ معاملہ رفعہ دفعہ کرجاتے ہیں۔ شانگلہ جو مسلسل قدرتی آفات اور حادثات کی ضد میں رہنے کیوجہ سے باربار متاثر ہورہاہے اور گزشتہ حالیہ طوفانی بارشوں نے یہاں تباہی مچا دی تھی تاہم صوبائی حکومت نے ضلع شانگلہ کو آفت ذدہ قرار دینے کے باوجود نظر انداز کیا صرف سیلاب سے جاں بحق ہونے والے ورثاء کے علاوہ کسی قسم کی مدد نہ ہوسکی لینڈ سلائیڈنگ سے بیشتر سڑکیں خراب ہوئے لوگوں کے مکانات تباہ ہوگئے نہ ہی ان مکانات والوں کی نقصانات کا اذالہ کیاگیا اور نہ ہی انفراسٹرکچر کی دوبارہ تعمیر نو کردی گئی ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ آفت زدہ ضلع کو فوری طور پر ایمر جنسی فنڈ ریلیز کردیا جاتا۔شانگلہ میں اس وقت یہ بھی ایک المیہ ہے کہ یہاں ٹھیکداروں کا ایک مخصوص ٹولہ سیاسی اثر رسوخ کی بدولت مختلف تعمیری محکموں میں ایک مافیا کی شکل اختیار کرچکی ہے جو ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکے اکثر پچاس دفیصد سے زیادہ بلو ریٹ پر لیتے ہیں جس سے کام کی کوانٹٹی کسی حد تک پوری کی جاتی ہے لیکن کوالٹی اور معیار انتہائی ناقص ہوتا ہے جس پر ضلع انتظامیہ شانگلہ کے حکام اور ان تعمیری محکموں کے افیسران خاموشی سے یہاں اپنا مدت ملازمت پوراکرکے چلے جاتے ہیں اور یہی پسماندہ ضلع شانگلہ کی ترقی میں سب سے بڑی روکاٹ بن جاتی ہے۔۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں