0

وفاقی دارالحکومت میں ریاست نام کی چیز موجود ہی نہیں، ہائی کورٹ

 اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اسلام آباد میں ریاست نام کی چیز سرے سے موجود ہی نہیں،ریاست جب کرپٹ ہو جائے تو اسے بلیک میل بھی کیا جاتا ہے ورنہ کس کی جرات ہے کہ ریاست کو بلیک میل کرے۔پیر کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے وفاقی دارالحکومت میں نئے سیکٹرز کی تعمیر سے بے گھر ہونے والے شہریوں کی درخواستوں پر سماعت کی۔دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے حکومت اور سی ڈی اے پر ایک بار پھر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ریمارکس دیئے کہ کچھ عرصے سے ہمیں پتہ چلا کہ اسلام آباد میں تو ریاست نام کی چیز سرے سے موجود ہی نہیں، اس شہر کے منتخب نمائندوں کو شامل کر کے کمیشن بنایا وہ بھی مسائل حل نہیں کر سکے، ریاست جب کرپٹ ہو جائے تو اسے بلیک میل بھی کیا جاتا ہے ورنہ کس کی جرات ہے کہ ریاست کو بلیک میل کرے۔جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ سی ڈی اے صرف ایف سکس اور ایلیٹ کلاس کی خدمت میں لگی ہے باقی اسلام آباد کا حال جا کر دیکھیں، بااثر لوگوں نے معاوضے بھی لے لیے لیکن عام شہریوں کو نہ تو معاوضہ ملا نہ ہی متبادل پلاٹس، نیب سے پلی بارگین کرنے والے کرپٹ بھی بعد میں سرکاری پلاٹس لیتے رہے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں