0

سانحہ اے پی ایس نے قوم کومتحد کیا، وزیراعظم

پشاور (مانند نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہسپتالوں میں اصلاحات کا مقصد نجکاری نہیں بلکہ غریبوں کو سہولیات دینا ہے جبکہ حکومت کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ پورے ملک میں ہسپتال بنائے۔ سانحہ آرمی پبلک اسکول افسوسناک تھا لیکن سانحہ اے پی ایس نے قوم کومتحد کیا۔ قوم نے اتحاد سے دہشت گردی کو شکست دی اورفیصلہ کیا کہ مل کردہشت گردی کا مقابلہ کریں گے۔ خیبر پختونخوا کے تمام شہریوں کوہیلتھ کارڈ دیئے جائیں گے۔ان خیالات کااظہار وزیر اعظم عمران خان نے پشاور میں پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم نے پشاورانسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے افتتاح پرخیبرپختونخوا حکومت کومبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پشاورانسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی علاقے کیلئے بہت بڑی نعمت ہے۔ عوام کوامراض قلب کے علاج کی سہولت کیلئے یہ ایک اہم منصوبہ ہے۔ افغانستان سے بھی یہاں مریض علاج کرانے آئیں گے۔ لوگ بار بار پوچھتے ہیں کہ مدینہ کی ریاست کہاں ہے۔ پشاورانسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی مدینہ کی ریاست کی طرف ایک قدم ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے اشرافیہ، وزیراعظم، وزرا علاج کے لیے باہر جاتے ہیں۔ عام آدمی کا نہیں سوچتے کہ وہ کیا کرے گا۔ جب غریب گھرانے میں کوئی بیمارہوتا ہے توپورا بجٹ خراب ہوجاتا ہے۔ ہم نے کورونا کے دوران فنڈ ڈھونڈے اورہسپتال مکمل کیا۔ عمران خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے تمام شہریوں کوہیلتھ کارڈ دیئے جائیں گے۔ ہیلتھ کارڈ سے پرائیویٹ یا گورنمنٹ ہسپتال میں علاج کرایا جاسکے گا۔ پنجاب اورخیبر پختونخوامیں سستے داموں پرائیویٹ ہسپتالوں کیلئے زمین دی جائیگی۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کا سب سے اہم کام لوگوں کی صحت کا خیال رکھنا ہے۔ پمز میں ہسپتال اصلاحات کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے۔ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اصلاحات کا مقصد نجکاری نہیں بلکہ غریبوں کو پرائیویٹ ہسپتال جیسی سہولیات دینا اور نظام ٹھیک کرنا ہے۔ پرائیویٹ ہسپتالوں میں سزا و جزا کا نظام ہوتا ہے۔ اس طرح سرکاری ہسپتالوں کو بھی اصلاحات کے ذریعے بہتر بنایا جائے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ صحت کے شعبے میں سرکاری ہسپتال نجی ہسپتالوں کا مقابلہ کریں۔وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے فیصلے سے سارے شہریوں کو ہیلتھ انشورنس ملے گی۔ لوگوں کو اس بات پر حیرت ہو گی کہ ہم سے امیر ملکوں نے بھی اپنے سارے شہریوں کو اس طرح کی صحت کی سہولیات نہیں دیں۔ اس اقدام سے ہر غریب گھر کے اندر اعتماد ہو گا کہ اگر کسی قسم کی کوئی بیماری ہو تو ان کے پاس ہیلتھ کارڈ ہوگا۔ کے پی حکومت پاکستان میں ہیلتھ کے شعبہ میں انقلاب لے آئی ہے۔ اس سے سارا ہیلتھ سسٹم کھڑا ہو جائے گا۔ حکومت کے پاس تو پیسے نہیں ہیں کہ سارے ملک میں ہسپتال بناتی پھرے۔ہمارے پاس تو وسائل نہیں ہیں۔ ہمارے پاس بدقسمتی سے قرضے اتنے چڑھے ہوئے ہیں کہ ہم ٹیکس کی جو آمدنی اکٹھی کرتے ہیں اس میں سے آدھا تو قرضوں کی قسطوں میں چلا جاتا ہے۔ 22کروڑ لوگو ں کے لئے ہمارے پاس تو وہ فنڈز نہیں کہ ہر جگہ ہیلتھ کوریج دیں لیکن ہیلتھ کارڈ کی وجہ سے نجی شعبہ آئے گا اور نجی شعبہ اب ہسپتال بنانے کے لئے آرہا ہے۔جس کے پاس ہیلتھ کارڈ ہو گا وہ کسی بھی سرکاری یا نجی ہسپتال میں اپنا علاج کروانے جاسکے گا۔ اب نجی شعبہ غریب علاقوں میں بھی ہسپتال بنائے گا۔ ہم نے ہسپتالوں کے ان تمام آلات کی برآمد ڈیوٹی فری کردی ہے جو پاکستان میں نہیں بنتے تاکہ ہم باہر سے ہسپتالوں کے لئے آلات منگواسکیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کی صحت کا خیال رکھے۔ اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں