0

پبی میں ناقصں آشیاء سرکاری نرخناموں سے زائد نرخوں پر فروخت

پبی (نما ئندہ ) ناقصں آشیاء سرکاری نرخناموں سے زائد نرخوں پر آشیاء خوردونوش کی فروخت عوام الناس کو سرعام لْوٹا جارہاہیے ضلعی انتظامیہ نوشہرہ کے جاری کردہ سرکاری نرخناموں کے باوجود تخصیل پبی سمیت پورے نوشہرہ میں ناقص آشیاء اور سرکاری نرخناموں سے زائد قمیت پر فروخت جاری سرکاری نرخناموں کو اگر دیکھا جائے تو گوشت بڑا 350 جبکہ فروخت ہو رہا ہیے 400 چھوٹا گوشت 650 جبکہ 1100 روپے کلو فروخت ہورہا ہیے اسی طرح کباب جس کو اشیاء خوردونوش میں اعلٰی مقام حاصل کو دو کیٹیگری میں تقسیم کیا گیا اے کلاس کا سرکاری نرخ نامے کے مطابق نرخ 430 روپے کلو اے کلاس کے حساب سے اگر دیکھا جائے تو ضلعی محکمہ خوراک نوشہرہ کے مطابق پورے نوشہرہ میں اے کلاس کباب کی دوکانیں سات سے آٹھ ہیے باقی مانندہ بی کلاس کباب فروش بھی اپنے کباب 400 سے 460 روپے کلو فروخت کررہیے ہیے دودھ 100 کی بجائے 120 دہی 110 سے 130 روپے کلو کھلے عام فروخت رہا ہیے اسی طرح اگر سویٹس مٹھائیوں کی دوکانوں کو لے اس کو بھی دو کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہیے ضلعی محکمہ خوراک نوشہرہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد شمار کے مطابق اے کلاس کی دوکانیں پورے ضلعے میں آٹھ سے دس ہیے جنکے سرکاری نرخنامے کے مطابق گلاب جامن کا فی کلو نرخ 350 جبکہ بی کلاس سویٹس دوکانوں کے سرکاری نرنامے کے مطابق گلاب جامن 280 جبکہ فروخت 350 مکس مٹھائی 200 جبکہ فروخت 300 کررہیے ہیں سرکاری نرخنامے کے مطابق ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کرنے پر ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ 2019 والے نرخنامے تاحال چل رہیے ہیے گاہکوں اور دوکانداروں کے درمیان لڑائی جھگڑے معمول بن چکی ہیے دوکانداروں سے بخث پر دوکانداروں کا موقف یہی ہوتا ہیے کہ ہمارے پاس نرخنامے 2019 والے ہیے جبکہ مہنگائی آسمان پر پہنچ چکی ہیے جس پر ہمیں بیچنا وارے میں نہیں۔جبکہ دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو ضلعی محمکہ خوراک نوشہرہ ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر اور ڈپٹی کمشنر نوشہرہ کی خاموشی سمجھ سے بالا تر ہیے عوام الناس نے مشیر خوراک کے پی کے ضلعی محمکہ خوراک کے آفیسر و ڈپٹی کمشنر نوشہرہ سے درخواست کی ہییکہ خدارا اپنے دفاتر سے نکل کر کم از کم اپنے جاری کردہ سرکاری نرخناموں پر عمل درآمد کو یقینی بنائے

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں