0

صدر زرعی ترقیاتی بینک توہین عدالت کے مرتکب ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے قراردیا ہے کہ کس قانون کے تحت صدر زرعی ترقیاتی بینک پالیسی فیصلے کررہے ہیں، صدر زرعی ترقیاتی بینک توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں، بینک کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کا احترام کرنا چاہئے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے نے زرعی ترقیاتی بینک کے  112ملازمین کی تنزلی کے حوالہ سے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے آئندہ سماعت تک وفاقی حکومت کو بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا ہے، جبکہ  عدالت نے ملازمین کی تنزلی کے خلاف جاری حکم امتناع  کی مدت میں بھی توسیع کردی ہے۔ دوران سماعت زرعی ترقیاتی بینک کے وکیل کا کہنا تھا کہ زرعی ترقیاتی بینک کے تمام اختیارات بورڈ کے پاس  ہیں۔ اس پر جسٹس اطہر من اللہ نے برہمی کا اظہار کیا کہ صدر زرعی ترقیاتی بینک کیسے ان اختیارات کو استعمال کرسکتے ہیں۔ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین سال سے وفاقی حکومت بورڈ کو فعال بنانے میں ناکام  رہی ہے، وفاقی حکومت کیوں بینک کا بورڈ تشکیل نہیں دے سکی۔ اس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سمری وفاقی کابینہ کے سامنے رکھی گئی تاہم وہ مستردہو گئی تھی، نئی سمری بنا کر کابینہ کو بھیج دی گئی ہے جوآج (منگل)کو ہونے والے کابینہ اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان کو پیش کی جائے گی۔ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ زرعی ترقیاتی بینک،سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی واضح  خلاف ورزی کررہا ہے، پالیسی فیصلہ کرنے کے لئے تین سال سے بورڈ ہی نہیں بننے دیا گیا۔ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق پالیسی بنانا کس کا کام ہے۔ اس پر بینک حکام نے عدالت کو بتایا کہ پالیسی فیصلہ کرنا بینک حکام کا کام ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 18جنوری تک ملتوی کردی۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں