0

عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدا میں آکر کشمیر کے سفیر بنیں گے، سراج الحق

سرائے نورنگ (مانند نیوز ڈیسک) جماعت اسلامی کے مرکزی امیر و سینیٹر سراج الحق نے وزیر اعظم عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدا میں آکر کشمیر کے سفیر بنیں گے تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے اِسی سفیر نے کشمیر کو مودی سرکار کے سپرد کر دیابھارتی وزیر اعظم نریندرمودی نے اپنی قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ کشمیر کو بھارت کا حصہ بنائیں گے اور اس وعدہ کو ایفاء کر نے میں عمران خان ہی اُن کا سہرا بنیں، وہ یہاں لکی مروت کی تحصیل سرائے نورنگ میں جنو بی اضلاع کے حقوق سے متعلق منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔اس موقع پر صوبائی امیر سنیٹر مشتاق احمدخان،مرکزی نائب امیر پروفیسرمحمد ابراہیم خان،سابق صوبائی وزیرعنایت اللہ،جنوبی اضلاع حقوق کونسل کے صدرحاجی عزیزاللہ،جنرل سیکرٹری اخترعلی، صوبائی جنرل سیکرٹری عبدالواسع اورنائب امیر مولاناتسلیم اقبال نے خطاب کئے جب کہ اُ اس موقع پر ضلعی جنرل سیکرٹری عبدالغفارفریادی،حاجی عبدالصمدخان،مفتی عرفان اللہ، اور مولانااسعداللہ سمیت بڑی تعدادمیں کارکنوں اور عام شہریوں نے شرکت کی۔ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی، پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کی سیاست میں واضح فرق ہے جماعت اسلامی چیف جسٹس آف پا کستان کے ہاتھوں میں آنگریزی کتاب کی بجا ئے قرآن کریم دینا چاہتی ہے ہم چاہتے ہیں ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے سروں پر دو پٹہ آکر جنت کی حوریں بن جائیں جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ مملکت خداداد پا کستان میں عدل و انصاف کا نظام آئے جہاں غریب کی قدر ہوں اور کوئی بچہ بھوکا نہ سو پائے اُ نہوں نے کہا کہ پاکستان پر دبا ؤ ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کر کے بیت المقدس کے کیس سے دستبردار ہو جا ئے لیکن ہم بتانا چاہتے ہیں کہ بیت المقدس وہ گھر ہیں جہاں رسول ؐ نے مسجد اقصیٰ میں تمام انبیاء کرام کی امامت کی تھی اِسی پاک اور مقدس جگہ سے حضور ؐ میراج پر گئے تھے ہم کسی صورت قبلہ اول سے دستبردار ہونے کے لئے تیار نہیں ہیں چاہے ہماری جانیں کیوں نہ چلی جائے اصحابہ کرام کے دور میں یو نیورسٹیاں تھیں نہ ہی اُن کے پاس کوئی جنگی جہاز اور ٹینک تھے اُ نہوں نے صرف اور صرف اللہ کے پیغمبرؐ کی اطاعت کی اور دُنیا اور آخرت میں کامیابی ملی ہمیں بھی باطل کو شکست دینے اور غلامی کی زنجیروں سے خود کو آزاد کر نے کے لئے اصحابہ کرام کی نقش قدم پر چلنا ہو گا اُ نہوں نے کہا کہ جما عت اسلامی کو دعوت دی گئی کہ وہ پی ڈی ایم کا ساتھ دیں کیوں ہم ایسے لوگوں کا ساتھ دیں جو آج تک غریب عوام کا خون چوستے آئے ہیں میں ایسے لوگوں کا ساتھ نہیں دیں سکتا جہاں میرے طرف بلاول جبکہ دوسری جانب مریم نواز بیٹھی ہوں اِن لوگوں نے کئی مرتبہ اس ملک وقوم پر حکمرانی کی ہے تاہم آج جب اقتدار سے باہر ہیں تو اِن لوگوں کو غریب عوام کا خیال آیا اُن کا مزید کہنا تھا کہ آج ایک جلسہ لاڑکانہ میں بھی ہورہا ہے جہاں موجود لوگ رو رہے ہیں کہ 12سال گزرنے کے با وجود شہید بے نظیر بھٹو کے قاتل گرفتار نہ ہوسکے تاہم یہ فلسفہ میری سمجھ سے باہر ہے کہ پیپلز پارٹی اِن 12سالوں میں کئی مرتبہ بر سر اقتدار آئی تاہم اس کے باوجود وہ شہید بی بی کے قاتل گر فتار نہ کر سکے۔ آج تک جنرل ضیاء الحق، بے نظیر بھٹو، جنرل فضل الحق اور لیاقت علی کے قاتل گر فتار نہ ہو سکے کیوں؟ کیونکہ یہ حکمران اور ادارے قاتل کو گر فتار کر نے کی بجائے تحفظ فراہم کر تی ہے شہر قائد کراچی میں ایک پولیس آفیسر نے چار سو سے زائد بے گناہ لوگوں کو اِنکاونٹر ز میں مار دیا جن میں وزیر ستان کا فرزند نقیب اللہ شہید بھی شامل تھا تاہم جب اس پولیس آفیسر کو عدالت میں پیش کیا گیا تو اُن نے ویکٹری کا نشان بنایا کیونکہ اُ نہیں معلوم تھا کہ وہ ایسے ملک میں ہے جہاں گناہنگار کو بے گناہ اور بے گناہ کو گناہنگار ٹھہرایا جاتا ہے پا کستان تحریک انصاف کی نااہل حکو مت نے فوج کو بدنام کیا غریب عوام پر نت نئے ٹیکس نافذ کر کے اُن کے کندھوں پر مزید بوجھ ڈال دیا آج لوگ دو وقت کی روٹی کے لئے ترس رہے ہیں آٹے کی حصول کے لئے پورا دن قطاروں میں کھڑا رہتے ہیں اگر اسی کو تبدیلی کہتے ہیں تو اِس تبدیلی کو کل بھی ٹکرایا تھا اور آج پر اس تبدیلی پر لعنت کہتے ہیں۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں