0

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے آبائی علاقے مٹہ میں کھلی کچہری

سوات (بیورو رپورٹ)وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان کے آبائی علاقے مٹہ میں کھلی کچہری،عوام کی جانب سے دریائے سوات کے اردگرد تعمیراتی میٹریل کے لئے غیر قانونی کھدائی سے وادی کی سڑکیں اور دریائے سوات کی روانی متاثر اور جانی نقصان کے حادثات روزمرہ کا معمول بننے کی شکایات۔ عوام کی ضلعی انتظامیہ سے موثر منصوبہ بندی کی درخواست عوامی مسائل کی شنوائی کے لئے ضلعی انتظامیہ سوات کی جانب سے شیر پلم تحصیل مٹہ میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سوات حامد خان نے عوام کے مسائل سنے۔ ضلعی محکموں کے افسران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مقامی افراد کی بھی بھرپور شرکت۔تعمیری میٹریل کی جابجا پڑے رہنے کی وجہ سے ٹریفک مسائل، مٹہ ہسپتال میں ٹیسٹ سہولیات کی کمی، بازاروں میں صفائی کی ابتر حالات، مختلف علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ، روڈ پر جابجا سپیڈ بریکرز، سکولوں میں سٹاف کی کمی، روڈ منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر جیسے مسائل کھلی کچہری میں سر فہرست رہے۔ حامد خان کا اس موقع پر عوامی سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ عوام سے رابطے کو مختلف ذریعوں سے مضبوط سے مضبوط بنا رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مسائل کے حل کے لئے ضلعی انتظامیہ تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ ضلعی محکموں کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کیلئے عوامی تجاویز کا خیر مقدم کرتی ہے اور اسی بنیاد پر تمام ضلعی محکموں کے افسران کھلی کچہری میں موجود ہیں۔ضلعی انتظامیہ سوات کی جانب سے سوات کے تحصیلوں اور ضلعی صدر مقام میں کھلی کچہری اور ریونیو دربار کے ساتھ ساتھ آن لائن ذریعوں سے رابطوں کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ کھلی کچہری میں زمین کی ملکیت و انتقال، رکارڈ کی درستگی، انکم سرٹیفکیٹ، ڈومیسائل اور فرد کے اجراء، علاقے کے عمومی اور انفرادی امور پر عوامی مسائل سنے کے بعد موقع پر حل کے احکامات جاری کیے جاتے ہیں۔ پیچیدہ امور متعلقہ محکموں کو مقررہ وقت کے ساتھ حوالے کئے جاتے ہیں۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں