0

چین نے 79.3 فیصد موثر مقامی سطح پر تیار کردہ ویکسین کی منظوری دے دی

بیجنگ (مانند نیوز ڈیسک) چین نے 79.3 فیصد موثر مقامی سطح پر تیار کردہ ویکسین کی منظوری دے دی،غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق دو خوراکوں پر بنی ویکسین چین میں عام استعمال کے لیے سب سے پہلے منظور ہونے والی ویکسین ہے۔یہ پیش قدمی اس وقت سامنے آئی ہے جب فروری میں قمری نئے سال کی تعطیل سے قبل چین ملک میں 5 کروڑ افراد کو ویکسین دینا شروع کردیا ہے۔نیشنل میڈیکل پروڈکٹس کے ڈپٹی کمشنر چن شیفی نے نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ ‘مشروط منظوری کا مطلب یہ ہے کہ تحقیق ابھی بھی جاری ہے، مارکیٹ میں ویکسین فروخت ہونے کے بعد کمپنی کو فالو اپ ڈیٹا کے ساتھ ساتھ کسی منفی اثر کی اطلاع بھی پیش کرنا ہوگی’۔انہوں نے کہا کہ ‘کمپنی کو مسلسل ویکسین کی ہدایات اور لیبل کو اپ ڈیٹ کرنا چاہیے اور ایجنسی کو رپورٹ کرنا چاہیے’۔یہ ویکسین بیجنگ انسٹی ٹیوٹ آف بیولوجیکل پروڈکٹس نے تیار کی ہے جو سرکاری ادارے سینوفارم کے ماتحت ادارہ ہے۔کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ آخری مرحلے میں ہونے والی آزمائشوں کے ابتدائی اعداد و شمار نے اسے 79.3 فیصد موثر ثابت کیا ہے۔یہ ایک غیر فعال ویکسین ہے جس کا مطلب ہے کہ وائرس کسی لیب میں پیدا کیا گیا اور پھر اسے ختم کیا گیا، اس کے بعد جسم میں جراثیم ڈالا جاتا ہے تاکہ وہ قوت مدافعت پیدا کرے۔اس کے موثر ہونے کا حتمی ثبوت مزید اعداد و شمار کی اشاعت پر منحصر ہوگا۔سینوفارم کم از کم پانچ چینی ڈویلپرز میں سے ایک ہیں جو اس بیماری کی ویکسین تیار کرنے کی عالمی دوڑ میں شامل ہیں جس نے اب تک 18 لاکھ سے زائد افراد کو ہلاک کیا ہے۔پہلے سے جاری ایمرجنسی ویکسینز کے علاوہ چین اعلی خطرے والے آبادی، جیسے بزرگوں کے ساتھ ساتھ پہلے سے دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کو بھی یہ قطرے پلانا شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔عہدیداروں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ چین میں کتنی فیصد آبادی کو یہ قطرے پلائیں گے۔قومی صحت کمیشن کے نائب وزیر زینگ یکسن نے کہا کہ ‘یہ ہر ملک میں مختلف ہے لیکن عام سوچ یہ ہے کہ پوری آبادی کے تحفظ کے لیے اسے 60 فیصد تک پہنچنا ہوگا’۔انہوں نے کہا کہ ‘ہنگامی استعمال کے تحت 45 لاکھ خوراکیں پہلے ہی دی جا چکی ہیں جس میں گزشتہ ہفتے دی جانے والی 30 لاکھ خوراک بھی شامل ہیں ‘۔حکومت کی ایک سابق امیونولوجسٹ تا لینا کے مطابق عملی طور پر مشروط منظوری کا مطلب یہ ہے کہ مخصوص عمر کے گروپس کے لیے ویکسین کو محدود کیا جاسکتا ہے۔عہدیداروں نے اس کی قیمت بتانے سے انکار کیا اور اس کے بارے میں متضاد بیانات دیے۔نیشنل ہیلتھ کمیشن کے ایک اور عہدیدار ژینگ ژونگوی نے کہا کہ ‘یہ یقینی طور پر لوگوں کے قوت خرید میں ہوگا’۔ایک منٹ بعد این ایچ سی کے عہدیدار نے کہا کہ یہ ویکسین ‘عوام کے لئے یقینا مفت ہوں گی’۔ویکسین پہلے ہی بڑے پیمانے پر پیداوار میں ہے اگرچہ عہدیداروں نے موجودہ پیداواری صلاحیت کے بارے میں سوالات کے جواب نہیں دیے۔سینوفرم کی ویکسین دو سے آٹھ ڈگری سیلسیس (36 سے 46 ڈگری فارن ہائیٹ) یا ریفریجریٹر کے عام درجہ حرارت میں بھی محفوظ رہ سکتی ہے۔سینوفارم کی ویکسین پہلے ہی متحدہ عرب امارات اور بحرین میں منظور کی جاچکی ہے اور مراکش میں استعمال ہونے والی ہے۔چین کی ایک اور کمپنی سینوویک کی کووڈ ویکسین کا ٹرائل برازیل، ترکی اور انڈونیشیا میں جاری ہے اور اس کی جانب سے تفصیلی نتائج کی اشاعت کو اگلے ماہ تک التوا میں ڈال دیا گیا ہے۔تاہم ترکی کی جانب سے گزشتہ ہفتے اس ویکسین کے ٹرائل کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ یہ ویکسین 91.25 فیصد تک موثر ہے، مگر یہ ایک چھوٹے کلینکل ٹرائل کے ابتدائی نتائج ہیں اور ڈیٹا کو اب تک کسی طبی جریدے پر شائع نہیں کیا گیا۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں