0

اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری مشقت سے متعلق کمیشن قائم کردیا

اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ نے جبری مشقت سے متعلق حقائق جاننے کیلئے ڈی سی اسلام آباد کی سربراہی میں کمیشن قائم کردیا۔ ہفتہ کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں بنچ نے جبری مشقت سے کے حوالے سے کیس کی سماعت کی، ڈی سی اسلام آباد بھٹے سے بازیاب بچوں کیساتھ عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور کہا کہ بھٹوں پر5 لاکھ روپے دیکر کہہ دیتے ہیں کہ اب 5 سال کے لئے کام کریں گے، بھٹوں کا مکمل آڈٹ کریں گے کہ کہیں ایسا پیشگی سسٹم تو موجود نہیں، پیشگی سسٹم کے تحت مشقت پر مجبورکرناغیر قانونی ہے۔ انھوں نے  بتایا کہ ایسا کوئی پیشگی معاہدہ ممکن نہیں ہے اور اس پر سزا اور جرمانہ دونوں ہیں، سروے کر ا رہے ہیں بچوں و دیگرملازمین کو کن شرائط پر رکھا گیا۔ عدالت نے جبر ی مشقت کے حوالے سے کمیشن بنادیا جس کی سربراہی ڈی سی اسلام آباد حمزہ شفقات کرینگے۔چیف جسٹس ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے ریمارکس د یئے کہ مہینے کے بعد آپ آکر عدالت کو بتائیں کہ اب ایک بھی جبری مشقت کا کیس نہیں رہ گیا، لوگوں کے کاروبار بند ہوتے ہیں تو ہو جائیں لیکن جبری مشقت برداشت نہیں ہو گی، بازیاب ہونے والے بچوں کی تعلیم اور ویلفیئر کا معاملہ بھی ریاست دیکھے، بچوں کو اغوا کر کے ان کو جبری غلام کی طرح رکھنا، اس سے بڑا کوئی ظلم ہو نہیں سکتا، اس کیس کو ایسی مثال بنائیں گے کہ آئندہ کوئی ایسا ظلم کرنے کی ہمت نہ کرے، بھٹوں والے پہلے بچوں کے والدین کو قرض دیتے ہیں پھر ان کے بچوں کو ہمیشہ یرغمال بنا لیتے ہیں، اکیسویں صدی میں یہ غلامی کی بدترین قسم ہے جس طرح بچوں سے جبری مشقت لی جاتی ہے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں