0

وزیراعظم کا ہزارہ برادری کے تحفظات دور کرنے کے لئے کوئٹہ جانے کا اعلان

اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے مچھ میں ہونے والے دہشت گردی کے حملے میں اپنے پیاروں کو کھونے والے ہزارہ خاندانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ میتوں کی تدفین کردیں،وہ جلد ان کے پاس آئیں گے،سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے لکھا کہ میں مچھ میں سفاکانہ دہشت گردی کے حملے میں اپنے پیاروں کو کھو دینے والے ہزارہ خاندانوں کو دوبارہ یقین دلاتا ہوں کہ میں آپ کے دکھ اور مطالبات سے آگاہ ہوں۔انہوں نے لکھا کہ ہم مستقبل میں اس طرح کے حملوں کو روکنے کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں اور جانتے ہیں کہ ہمارا پڑوسی اس فرقہ ورانہ دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔وزیراعظم نے لکھا کہ میں آپ کا درد بانٹتا ہوں اور غم کے ان لمحات میں اظہار یکجہتی کے لیے پہلے بھی آپ کے پاس آچکا ہوں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ میں ہر خاندان سے ذاتی طور پر تعزیت اور دعا کے لیے بہت جلد دوبارہ آں گا، میں اپنے لوگوں کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچاں گا، ازراہ کرم اپنے پیاروں کی تدفین کردیں تاکہ ان کی روح کو سکون مل سکے۔واضح رہے کہ 3 جنوری کو بلوچستان کے ضلع بولان کے علاقے مچھ میں مسلح افراد نے بندوق کے زور پر کمرے میں سونے والے 11 کان کنوں کو بے دردی سے قتل کردیا تھا۔دوسری جانب سانحہ مچھ کے ورثا َء کا کوئٹہ میں مغربی بائی پاس پر بدھ کو چوتھے روز بھی دھرنا جاری رہا۔ لواحقین نے وزیراعظم کے آنے تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔مظاہرین اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور بھی ناکام رہا، وفاقی وزیر علی زیدی، معاون خصوصی زلفی بخاری اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری وزیراعظم کی ہدایت پر رات گئے کوئٹہ پہنچے، جہاں انہوں نے مغربی بائی پاس پر دھرنا دینے والوں کے ساتھ مذکرات کئے۔مذاکرات ڈیڑھ گھنٹہ تک جاری رہے، دھرنے کے شرکا نے وزیر اعظم کے آنے تک میتوں کو دفن کرنے اور دھرنا ختم کرنے سے انکار کیا۔ وفاقی وزیر علی زیدی، ڈپٹی سپیکر قاسم سوری اور وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری دھرنے کے مقام سے واپس چلے گئے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں