0

ملازمین کی ریٹائرمنٹ عمر بڑھانے کیخلاف ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم

اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے خیبرپختونخوا میں ملازمین ریٹائرمنٹ عمر بڑھانے کیخلاف ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ جمعرات کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے خیبر پختو نخوا میں سول سرونٹ ایکٹ میں ریٹائرمنٹ کی عمر سے متعلق کیس پر سماعت کی۔سرکاری ملازمین کے وکیل نے کہا کہ سول سرونٹ ایکٹ میں ریٹائرمنٹ کی عمر 55 سال کر دی گئی، 25 سال کی سروس پر ریٹائرمنٹ کا قانون ختم کر دیا گیا اور اسمبلی میں کسی کو سنے بغیر اور بنا بحث کیے بل منظور کیا گیا۔جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہ جب روٹی پک چکی تو یہ پوچھنا بے کار ہے کہ آٹا کہاں سے آیا، اگر کسی کو اسمبلی کی کارروائی پر اعتراض ہے تو اسمبلی میں جاکر شکایت کرے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ قانون سازی میں کسی کا موقف سننے کا تصور نہیں، جب قانون پر گورنر کے دستخط ہوگئے تو معاملہ ختم ہوگیا۔چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ چند سول سرونٹس کے تحفظات پر قانون کو غلط قرار نہیں دیا جاسکتا،صرف وضاحتوں سے قانون چیلنج نہیں ہوتے، قانون بنانا حکومت کا کام ہے عدالتیں اس پر عملدرآمد کراتی ہیں، قانون آئین کے تحت بنتا ہے رولز آف بزنس سے نہیں۔سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کے خلاف ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے معاملہ دوبارہ فیصلہ کے لیے عدالت عالیہ کو واپس بھجوا دیا۔ عدالت عظمی نے حکم دیا کہ پشاور ہائیکورٹ قانون کے مطابق کیس کا فیصلہ کرے۔خیال رہے کہ گزشتہ سال فروری میں عدالت عالیہ پشاور نے سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 63 سال کرنے کا حکومتی فیصلہ معطل کردیا تھا۔صوبہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سے بڑھا کر 63 سال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں قائم بینچ نے سماعت کے بعد مختصر فیصلہ سنایا جس میں صوبائی حکومت کا فیصلہ معطل کردیا گیا۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں