0

ریٹائرمنٹ کی عمر زیادہ ہونے سے ملازمین کی پنشن محفوظ ہوگی، تیمور جھگڑا

پشاور (مانند نیوز ڈیسک) خیبرپختونخوا میں سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 63 سال ہونے سے آئندہ 10 سالوں میں 140 ارب روپے کی بچت ہو گی۔ ریٹائرمنٹ کی عمر زیادہ کرنے سے ملازمین کی پنشن محفوظ ہو گی جبکہ روزگار کے زیادہ مواقع پیدا ہوں گے۔ پنشن ملازمین کا حق ہے اور صوبائی حکومت ملازمین کے اس حق کی حفاظت کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار خیبرپختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا نے جمعہ کے روز اطلاع سیل پشاور میں وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران خان بنگش کے ہمراہ ایک پریس بریفنگ کے دوران کیا۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ سالانہ بجٹ میں پنشنز بل سالانہ ترقیاتی بجٹ کی تقریباً برابر سطح پر آگیا ہے جو کہ غیر متوازن ہے۔ 15 سال قبل صوبائی بجٹ 80 ارب جبکہ پنشنز بل 1 ارب تھا جو کہ اب 80 ارب روپے اور موجودہ بجٹ کا 18 فیصد ہے۔ تیمور جھگڑا کا کہنا تھا کہ پنشن بل میں سالانہ 20 سے 22 فیصد اضافہ ہو رہا ہے جس سے یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ ملازمین کی پنشنز ادائیگی مشکل نہ ہو جائے۔ اسی مقصد کے لیے 2019 کے سالانہ بجٹ کے سول سرونٹ رولز میں ترمیم کر کے صوبے میں ریٹائرمنٹ کی عمر 3 سال بڑھا کر 63 سال کر دی تھی۔ جس کے بعد پنشن کی مد میں ماہانہ اخراجات میں واضح کمی آئی اور 6 ماہ میں 10 ارب کی بچت ہوئی تھی تاہم پشاور ہائیکورٹ کی جانب ریٹائرمنٹ کی عمر دوبارہ 60 سال کرنے کے فیصلہ کے بعد 8 ماہ کے دوران 13 ارب روپے خرچ ہوئے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ ریٹائرمنٹ کی عمر 3 سال بڑھانے سے آئندہ 10 سال میں 140 ارب روپے کی بچت ہو گی جو صوبائی حکومت دیگر فلاحی اور عوامی منصوبوں پر خرچ کرے گی جس سے روزگار کے دگنے مواقع پیدا ہوں گے۔ تیمور جھگڑا نے کہا کہ سرکاری محکموں میں بھرتی پر کوئی پابندی نہیں ہے اور نہ ہی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھنے سے اس پر کوئی فرق پڑے گا۔ صوبائی وزیر صحت و خزانہ نے یہ بھی واضح کیا کہ ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھنے سے ملازمین کی ترقیوں پر بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ ہر ہفتے مختلف محکموں کے ایس این ای کے اجلاس منعقد ہوتے ہیں جس میں نئی بھرتیوں اور پوسٹوں کی منظوری دی جاتی ہے۔ تیمور جھگڑا نے واضح کیا کہ پنشن سرکاری ملازمین کا حق ہے کہ جو انہیں ہر حال میں ملنا چاہیے کیونکہ زندگی بھر انہوں نے پبلک سروس کی ہوتی ہے۔ صوبائی حکومت سرکاری ملازمین کے پنشن کے اس حق کو محفوظ بنانا چاہتی ہے اسی مقصد کے لیے ریٹائرمنٹ کی عمر 3 سال بڑھائی گئی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد کئی بار ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھائی گئی اور آخری بار 1973 میں بڑھائی گئی تھی۔ پنشن بل میں بے تحاشہ اضافے کی وجہ سے اسٹیٹ بینک نے دیگر صوبوں کو بھی پنشن نظام میں اصلاحات کرنے کیلئے کہا ہے۔ 

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں