0

سانحہ مچھ کا ذمہ دار کون ہے؟ ابھی نہیں بتا سکتے، شیخ رشید

اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ملک میں 20 سیاسی و مذہبی شخصیات کو خطرہ ہے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے وفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں کو بھی دہشت گردی کے حوالے سے خطرات لاحق ہیں ملک میں دہشت گردی کی نئی لہر ہے۔ہزارہ کمیونٹی بلوچستان حکومت کا خاتمہ چاہتی ہے جو میرے بس میں نہیں ہے۔ مچھ میں جاں بحق افراد کی جیسے ہی تدفین ہو وزیر اعظم جانے کو تیار ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو پی آئی ڈی اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔شیخ رشید احمد نے کہا کہ ہزارہ کمیونٹی کا جانی نقصان پاکستان کی شہادتیں ہیں اس پر سیاست نہ کی جائے،وزیراعظم غمزدہ خاندانوں سے ملنا چاہتے ہیں میتیں اور جنازے سانجھے ہیں،علمائے کرام نے بھی اپیلیں کی ہیں کہ جلد از جلد تدفین ہونی چاہئے،وزیراعظم عمران خان کو دورہ کوئٹہ میں کوئی حرج نہیں ہے، حالات کے بارے میں سکیورٹی اداروں نے جو آگاہی دی ہے وہ نہیں بتا سکتے۔وزیراعظم کے دورہ کے لئے سکیورٹی کی وجہ سے مجمع کو ہٹانا پڑے گا،وزیراعظم غمزدہ خاندانوں ہزارہ کمیونٹی سے ملنا چاہتے ہیں ہزارہ کمیونٹی کے دس مطالبات تسلیم کر لیے ہیں،بلوچستان حکومت کا خاتمہ میرے بس میں نہیں جو افغانی شہید ہوئے وہ بھی ہمارے بھائی ہیں ان کے لیے بھی وفاقی اور صوبائی حکومت سے کہا ہے کہ انہیں بھی معاوضے دیں۔انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ وفاقی حکومت 15 اور بلوچستان حکومت 10,10 لاکھ کے معاوضے دے۔وفاقی وزیر داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے بڑے شہر بشمول وفاقی و صوبائی دارالحکومتوں کو سکیورٹی تھریٹ ہے بعض علاقوں میں دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا اور دہشت گردی کے واقعات کو ناکام بنایا۔ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید احمد نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کی نئی لہر ہے 20 مذہبی و سیاسی رہنماؤں کو خطرات ہیں انہیں تحریری طور پر آگاہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صورتحال میں بہتری کے لیے سب کا تعاون چاہیے۔اسلام آباد کے ناکوں پر غریب اور مجبور لوگوں کی توہین ہوتی تھی میں اس سے آگاہ ہوں 22 میں سے 19 ناکے/ چیک پوسٹیں ختم کر دی ہیں تین چیک پوسٹوں کے بارے میں چاہتا ہوں کہ یہ بھی ختم ہو جائے اور شہریوں کے باآسانی آمدورفت ہو۔چوری اور ڈکیتی کے حالیہ چھ واقعات کے بارے میں وزیر داخلہ نے کہا کہ تین وارداتوں کے ملزمان پکڑے گئے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مچھ میں ہونے والی دہشت گردی کا ذمہ دارکون ہے ابھی کچھ نہیں بتا سکتے۔سکیورٹی ایجنسیاں غیر معمولی تفتیش اور تحقیقات کر رہی ہیں،مچھ کے علاقے کو وسیع پیمانے پر سرچ کیا گیا،داعش کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔وزیرداخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ ہزارہ کمیونٹی کے قتل میں انٹرنیشنل مافیا ملوث ہے، ہم نے چار ایسے گروہوں کو پکڑا جو شیعہ سنی کے درمیان لڑائی کرانا چاہتے تھے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر ہے، پشاور، لاہور، کراچی اور کوئٹہ میں دہشت گردی کی اطلاعات ہیں، ہم نے سرگودھا اسلام آباد اور کراچی سے دہشت پکڑے ہیں، وزیر اعظم ہزارہ برادری کے ہمدردی رکھتے ہیں، کوئٹہ کا واقعہ ہوا تو اگلے دن وزیر اعظم کی ہدایت پر وہاں پہنچ گیاجو افغانی شہید ہوئے ہیں ان اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی ہے، ایف سی کو ہدایات جاری کی ہیں میتیں سب کی سانجھی ہیں۔شیخ رشید نے کہا کہ ہم نے تمام مطالبات تسلیم کرلیے ہیں، کچھ  لوگ اس المناک حادثے پر بھی سیاست کررہے ہیں، سیاست کے لیے بڑا وقت ہے یہ وقت سیاست کا نہیں، ملک میں اور بھی مسائل ہیں، ذلفی بخاری اور علی زیدی کوئٹہ میں ہیں امید ہے معاملہ حل ہوجائے گا، جیسے ہی تدفین ہو وزیر اعظم جانے کے  لئے تیار ہیں، عمران خان چاہتے ہیں تدفین کے بعد جائیں تاکہ کھل کر بات چیت ہوسکے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں