0

لاہور شہر گندگی کا ڈھیر، شہری مختلف انواع کی بیماریوں کو شکار ہورہے ہیں

لاہور (مانند نیوز ڈیسک) امیرجماعت اسلامی صوبہ وسطی پنجاب و صدر ملی یکجہتی کونسل پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ صوبائی دارالحکومت گندگی کا ڈھیر بن چکا ہے۔ عوام کو پیدل چلنے میں بھی شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ صوبائی حکومت کی کارکردگی محض اخباری بیانات و اشتہارات تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ گندگی کے ڈھیروں سے جراثیم پیدا ہونے کے باعث لوگ بیمار ہورہے ہیں۔ لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمیٹی کہیں نظر نہیں آرہی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روش مختلف عوامی وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں آلودگی کے لحاظ سے گندے شہروں میں لاہور ٹاپ فائیو شہروں میں شامل ہے۔ چند دن پہلے وزیر اعلیٰ پنجاب نے صفائی کے حوالے سے نوٹس لیا مگر صورتحال یہ ہے کہ شہر کے پوش علاقے بھی گندگی سے پاک نہیں۔ لاہور شہر میں ہر روز ساڑھے پانچ ہزار ٹن کچرا اکھٹا ہوتا ہے مگر متعلقہ محکمہ کا صفائی آپریشن انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ لاہور شہر کی صفائی کا بجٹ سالانہ 2ارب روپے سے بھی زائد ہے۔ وہ کہاں خرچ ہورہا ہے۔ کسی کو کچھ پتا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ باغوں کے شہرکا حسن برباد کرکے رکھ دیا گیا ہے۔ دریاے راوی نالے کی منظر کشی پیش کررہا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ شہر کا کوئی والی وارث نہیں۔ ہر طرف صفائی کا فقدان نظر آتا ہے۔ پاکستان کا دوسرا بڑا شہرمسائل کا مسکن بن چکا ہے۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ایک طرف کرونا وائرس سے عوام متاثر ہورہے ہیں جبکہ دوسری طرف گندگی کی وجہ سے مختلف انواع کی بیماریاں عوام کے لیے شدید درد سر بن ہوئی ہیں۔ آلودہ پانی پینے کی وجہ سے ہیضہ،ہیپاٹائٹس اے، گیسٹرو اور پیٹ کی دیگر بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت شہر کی صفائی کے نظام کو موثر بنائے اور اس ذمہ داری کی ادائیگی میں غفلت برتنے والے افسران کا مواخذہ کیا جائے

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں