0

برطانیہ شہری کے 44 ارب روپے کچرے کے ڈھیر میں چلےگئے

لندن (مانند نیوز ڈیسک) برطانیہ میں 44ارب کچرے کے ڈھیر میں چلے گئے اور حکام کی جانب سے تلاشی کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانیہ کے 35سالہ آئی ٹی انجینئر نے 2009میں کرپٹو کرنسی میں حصہ لیا اور2013میں آفس کی صفائی کی دوران غلطی سے بٹ کوائن والی ہارڈ ڈرائیو کوڑے میں پھینک دی۔جیمز ہویلز کا کہنا ہے کہ اس کے پاس 75 سو بٹ کوائن موجود تھے جو آج کی قیمت کے مطابق 28 کروڑ ڈالرز کے قریب بنتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 8 سال قبل پھینکے گئے کوڑے کے ڈھیر میں ہارڈ ڈرائیو تلاش کرنے کی حکام کو بار ہا درخواستیں دی گئیں جسے حکام کی جانب سے مسترد کر دیا گیا۔ہویلز نے بتایا کہ ان کے پاس دو ایک جیسی ہارڈ ڈرائیوز تھیں جس کی وجہ سے انہوں نے غلطی سے جس ہارڈ ڈرائیو کو پھینک دیا اس میں کرپٹو کرنسی تک رسائی حاصل کرنے والی خفیہ پن موجود تھی۔ جو بٹ کوائن تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے۔ہویلز کو یقین ہے کہ اتنے سالوں کے بعد بھی وہ بٹ کوائن والی ہارڈ ڈرائیو کو ریکور کرسکتے ہیں مگر نیو پورٹ سٹی کونسل نے اب تک انہیں کوڑے کے ڈھیر میں ہارڈ ڈرائیو تلاش کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔جیمز ہویلز نے کرپٹو کرنسی سے ملنے والی رقم کا 25 فیصد حصہ شہر کے لیے عطیہ کرنے کی پیشکش بھی کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں