0

نیب کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں، جسٹس (ر) جاوید اقبال

اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) قومی احتساب بیورو (نیب)کے چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں، لوگ کہتے ہیں کہ نیب اور پاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے لیکن کرپشن اور پاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ اسلام آباد میں ایوان صنعت و تجارت میں ایک تقریب کے دوران تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے وہ افراد جن کی جانب کوئی آنکھ اٹھا کر دیکھ نہیں سکتا تھا، کوئی چھو نہیں سکتا تھا نیب نے انہیں احتساب کے لیے بلایا اور پوچھا تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور انہوں نے ملک سے جانا ہی مناسب سمجھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک صاحب کے خلاف سو سے ڈیڑھ سو شکایات آئیں کہ پیسے دینے کے 5 -6 سال بعد بھی کوئی پلاٹس نہیں ملے تو میں نے انہیں بلایا اور پوچھا کہ کیا آپ نے پیسے لیے ہیں تو انہوں نے کہا کہ تھوڑے سے لیے ہیں پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ ڈھائی ارب روپے وہ لے چکے ہیں۔چیئرمین نیب نے کہا کہ میں نے انہیں کہا کہ جب پیسے لے لیے ہیں تا یا تو زمین دے دیں یا پیسے واپس کردیں جس پر ان صاحب نے بتایا کہ میری حکمت عملی یہ تھی کہ پہلے میں پیسہ اکٹھا کرلوں اس کے بعد زمین خریدوں اب مجھے زمین نہیں مل رہی، نیب مجھے زمین لے کر دے دے۔ انہوں نے کہا کہ تاہم ہمارے اصرار پر انہوں نے قسطوں میں ادائیگی کی پیشکش کی جو نیب نے منظور کرلی اور اب وہ فرد پیسے دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ جو رقم لوٹ لی جائے یا ڈکیتی کرلی جائے اس کی واپسی کا بہت کم امکان ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور کی ایک معروف ہاؤسنگ سوسائٹی سے خاصے دوستانہ ماحول میں 2 سال کے عرصے میں ڈھائی ارب روپے کی رقم حاصل کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ کاروباری افراد کی شکایت تھی کہ ہمارا نجی معاملہ ہے، نجی معاملہ اس وقت ہوتا ہے جب ایک فرد کا دوسرے کے ساتھ ہو لیکن جب سیکڑوں افراد شامل ہوجاتے ہیں تو یہ نجی معاملہ نہیں رہتا۔انہوں نے اپنا واقعہ بتاتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ سے ریٹائرمنٹ کے وقت جب مجھے واجبات ملے تو ایک پلاٹ لینے کا سوچا اور اس کے لیے یکمشت 45 لاکھ روپے کی ادائیگی بھی کی لیکن آج تک نہ پلاٹ ملا نہ وہ 45 لاکھ روپے ملے۔انہوں نے کہا کہ نیب پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ سیاسی ا نجینئرنگ کی جاتی ہے جو کہ درست نہیں، نیب کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں، اور لوگ کہتے ہیں کہ نیب اور پاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے لیکن کرپشن اور پاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔انہوں نے کہا کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، ریاست ہمیشہ قائم رہے گی، کسی شعبے میں بے جا مداخلت نہیں کی، ثابت ہو جائے ایک تاجر نے بھی نیب کے خوف سے ملک چھوڑا تو گھر چلا جاؤں گا، پانچ سو کی جگہ پانچ لاکھ خرچ کرنے کا پوچھا تو کیا غلط کیا، احتساب کے شفاف عمل پر یقین رکھتے ہیں،چیئرمین نیب کا عہدہ عوام کی خدمت کیلئے ہے، معیشت مضبوط ہوگی تو ملک مضبوط ہوگا، تاجروں، سرمایہ کاروں کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کو روزگار ملتا ہے، کسی سرمایہ کار سے آج تک یہ نہیں پوچھا، آپ سرمایہ کہاں سے لائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور ریاست پاکستان میں واضح فرق ہے، سازگار ماحول سے ہی ملک میں سرمایہ کاری آتی ہے، سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کے باعث امن و امان بحال ہوا، بدعنوانی کو دیکھ کر نیب آنکھیں بند نہیں کرسکتا، عوام رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری سوچ سمجھ کر کریں۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں