0

ایبٹ آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام

ایبٹ آباد (مانند نیوز ڈیسک) چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس قیصر رشید خان نے کہا ہے کہ بار اور بنچ کا محبت کا رشتہ ہے جسے مذید پروان چڑھائیں گے۔ ہزارہ ڈویژن کے ایبٹ آباد، ہریپور، مانسہرہ، بٹگرام، بالاکوٹ اورحویلیاں سمیت تمام جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر کے حل طلب مسائل باہمی طور پر حل کریں گی اس کیلئے مشترکہ جدوجہد جاری رہے گی، وکلاء ہزارہ بار کی روایات کو دوبارہ ذندہ کریں یہاں سے علم کے چشمے پھوٹتے تھے۔ میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے یہاں کے وکلاء سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز ایبٹ آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر پشاور ہائیکورٹ ایبٹ آباد بنچ کے جسٹس شکیل احمد، ججز، صدر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن سردار عبدالرؤف ایڈووکیٹ، کمشنر ہزارہ ریاض خان محسود، ڈی آئی جی ہزارہ میرویس نیاز،صدر ڈسٹرکٹ بار ایبٹ آباد میجر ریٹائرڈ جہانگیر الہی ایڈووکیٹ، مانسہرہ، ہری پور، بٹگرام کے صدور، جنرل سیکرٹریز، رکن خیبر پختون خوا بار کونسل سید شاہ فیصل ایڈووکیٹ کے علاوہ سینئر جونیئر وکلا، خواتین وکلاء بھی موجود تھیں۔ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس قیصر رشید خان کا کہنا تھا ہزارہ بار کی ماضی میں شاندار روایات رہی ہیں بار کے سینئر وکلاء مفتی ادریس، مرزا عبداللہ جان اور دیگر سے علم کے چشمے پھوٹتے تھے۔ بار کی طرف سے پیش کئے گئے مسائل کے حوا لے سے انہوں نے کہا کہ اس میں انتظامی بنیادوں پر حل طلب معاملات کے حل کے لئے کمشنر ہزارہ کو تحریری احکامات دیں گے، ہری پور جوڈیشل کمپلیکس کا فنڈ، حلف برداری کے فوراً بعد جاری کیا۔ انہوں نے ہائیکورٹ بار کی پارکنگ کے لئے کمشنر ہزارہ کو ہدایات دیں۔قبل ازیں صدر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن سردار عبدالرؤف ایڈووکیٹ نے اپنے خطاب میں مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء کے لئے کار پارکنگ کے لئے ڈپٹی کمشنر آفس میں قبرستان کی جگہ ایک کنال اراضی مہیا کی جائے چھت ڈال کے پارکنگ بنانا ممکن ہے، ہری پور میں ڈسٹرکٹ کمپلیکس کی تعمیر آخری مراحل میں ہے اس میں فنڈ کی کمی کو دور کیا جائے،تاکہ جلد فعال ہو سکے،اور خالی ہونے والی اربوں مالیت کی جگہ کے عوض 10کنال اراضی ڈسٹرکٹ کمپلیکس کے قریب وکلاء کے لئے خرید کر دی جائے۔انہوں نے کہا کہ مانسہرہ کمپلیکس کا معاملہ بھی التوا کا شکار ہے انہوں نے چیف جسٹس سے سنگ بنیاد رکھنے کا مطالبہ کیا۔ ہری پور کے لئے دو کروڑ 47 لاکھ کا فنڈ ریلیز کرانے پر شکریہ ادا کیا،بٹگرام اوگی حویلیاں میں زیر التوا کام مکمل کرنے کے احکامات جاری کرنے پر زور دیا۔سردار عبدالرؤف ایڈووکیٹ کا کہنا تھا عدالتوں میں ترقیاتی کاموں میں متعلقہ بار اور بینچ کو اعتماد میں لینے کی تجویز دی تاکہ بعد کے مسائل کا تدارک ہو سکے۔انہوں نے عدالتوں سے مقدمات کا بوجھ ختم کرنے کے لئے ٹرانسفر پوسٹنگ اورطلبہ کے مسائل کو متعلقہ سیکرٹریز تک رکھنے کی تجویز دیتے ہوئے اصلاحات پر زور دیا۔انہوں نے ججز کی خالی نشستوں کو بھی پر کرنے میں اعلی صلاحیتوں کے حامل وکلاء کو ترجیح دی جائے۔ ایبٹ آباد انٹر چینج کے قیام کے لئے اقدامات اٹھانے کا بھی مطالبہ کیا۔ تقریب کے اختتام پر سابق چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس مرحوم وقار احمد سیٹھ کی مغفرت کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں