0

عورتوں کی صحت بہتر بنانے کے لیے ان کی مالی حیثیت بہتر بنانا بہت مفید ہے، گوہر زمان

پشاور ( مانند نیوز ڈیسک) عورتوں کی صحت بہتر بنانے کے لیے ان کی مالی حیثیت بہتر بنانا بہت مفید ہے۔  مختلف علاقوں کی برادریوں، مقامی آبادیوں اور تنظیموں نے عورتوں کی صحت کے لیے کس طرح مختلف قسم کے عملی اقدامات کیے۔ ان حکمت عملیوں پر پہنچنے کے لیے سوچنا ہوگا کہ کسطرح  سماج میں مجموعی طور پر عورتیں کس طرح اپنی موزوں جگہ بناتی ہیں؟ ماں، بیٹی، پڑوسی، رفیقِ کار اور سماج کی رکن کی حیثیت سے ان سے کس طرح کا سلوک کیا جاتا ہے؟ اپنے نسلی، سماجی اور معاشی پس منظر کی وجہ سے ان کے تجربات کس طرح ایک دوسرے سے مختلف ہیں؟ کون سے حالات اور رکاوٹیں عورتوں کی صحت کی راہ میں مشکلات پیدا کرتی ہیں؟ان خیالات کا اظہار جاپان ٹرسٹ فنڈز کے تعاون سے خواتین پر تشد د۔ صحت کے مسائل اور غلط رسومات کے حوالے سے سماجی تنظیم رہنما ء کے ز یر اہتمام ایک روزہ اجلاس سے  فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن آف پاکستان کے ریجنل ڈائریکٹر گوہر زمان،پروگرام منیجر سہیل کاکاخیل،  مذہبی سکالر علامہ محمد صدیق، مفتی عبدالاحد،پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ کے فریدخان اور سجاد خان وغیرہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  مدارس کی ّمثال بہت بڑی این جی او ز کی طرح ہے۔ مدارس سمیت عورتوں کی صحت کے بارے میں فکرمند  لوگوں اور تنظیموں کو یہ جاننے کی آشد ضرورت ہے  انھیں مختلف طرح کے اقدامات کرنا ہوں گے جن میں یہ اقدامات شامل ہیں:مثلا۔صنفی نابرابری کے مسئلے سے نمٹنا، خاص طور پر عورتوں پر تشدد کو روکنا تاکہ عورتیں اپنے مسائل اور حقوق کے بارے میں بات کرسکیں، ان کی آواز سنی جائے، فیصلے کرنے میں انھیں شامل کیا جائے تاکہ وہ سماج کی قابل احترام  شہری یا لیڈر بن سکیں۔صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں نسل، تہذیب، مذہب یا زبان کی رکاوٹوں کو ختم کرنا تاکہ کوئی بھی شحص اس طبی دیکھ بھال سے محروم نہ رہے جس کی ضرورت ہے۔کام کے بوجھ اور غربت کی وجہ سے عورتوں کو پہنچنے والے نقصان کو کم کرنے کے لیے کام کرنے والی عورتوں کے حالاتِ کار بہتر بنانے اور مردوں کے برابر معاوضے کے لیے منظم ہونا۔عورتوں اور مردوں کے لیے ایسے محفوظ ماحول  پیدا کرنا کہ وہ یہ جان سکیں کہ لوگ کس طرح مختلف طریقوں سے  ان کی جنسی احتصال ہو رسکتی  ہیں؛ تاکہ وہ ایک دوسرے سے بہتر انداز میں بات چیت کرسکیں،عورتوں کی صحت کے بارے بات کرنے اور سوچنے میں  ہمیں حصوصی لوگوں (معزور لوگوں) کے  صحت کو عام بیماریوں سے بچاؤ اور ان کے علاج، رکاوٹوں پر قابو پانے اور زندگیاں بچانے کے بارے میں عملی معلومات اور مہارتیں فراہم کرتی ہیں۔عورتوں کی زندگیوں میں زیادہ موثر اور دیرپا اثر پیدا کرنے کے لیے انھیں ایسے مزید طریقوں اور حکمت عملیوں کے ذریعے آگہی میں اضافہ کی آشد ضرورت ہے،  تاکہ لوگوں کو منظم کیا جاسکے اور عورتوں کے حقوق، خاص طور پر صحت کے حق کے لیے زیادہ بہتر طور پر کام کیا جاسکے۔تاکہ  سماج کی بنیادی سطح پر کام کرنے والے گروپوں کی اس ضرورت کو پورا کرنا ہے، جو اپنے اپنے علاقوں میں نہایت اہم کام کررہے ہیں۔ لیکن اس ضمن میں علماء کرام صاحبان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ لوگوں کی صحیح سمت میں رہنمائی کرکے اسلام کے آصل تصویر دنیا کے سامنے پیش کرسکے تاکہ دنیا جان سکے کہ اسلام  عورت کے بارے میں تنگ نظر بالکل نہیں ہے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں