0

کسی کو آئین سے ہٹ کر فیصلے کرنے کا اختیار نہیں دے سکتے، کامران بنگش

پشاور (مانند نیوز ڈیسک) وزیراعلیٰ محمود خان کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران بنگش نے قبائلی ضلع باجوڑ کے ماموند قوم کی جانب سے ہونے والے جرگے کے فیصلوں پر نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت خیبر پختونخوا قبائلی روایات اور کلچر کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ حکومت خیبرپختوبخوا نے الٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن پاس کراواکر ان روایات میں نئی روح پھونک دی ہے تاہم پچیسویں آئینی ترمیم کے بعد قبائلی اضلاع پختونخوا کا حصہ ہیں اور یہاں پر وہی قانون لاگو ہوتا ہے جو ملک کے دیگر حصوں میں لاگو ہے۔ ان کے مطابق باجوڑ میں جرگے نے خلاف آئین و قانون فیصلے کئے ہیں اور کمشنر اور ڈپٹی کمشنر باجوڑ کو جرگے کے ساتھ مذاکرات کرکے ان کو آئین وقانون سے آگاہ کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ کوئی بھی جرگہ خواتین سے متعلق ایسے فیصلے نہ جاری کرنے کا مجاز ہے اور نہ ہی ایسا کوئی اختیار کسی جرگے کو سونپا گیا ہے۔ حکومت خیبرپختونخوا انسانی حقوق کی پاسداری اور حکومت کی رٹ قائم رکھنے کی حامی ہے جس کیلئے ضلعی انتظامیہ کو احکامات جاری کئے جاچکے ہیں۔جرگہ کو متنبہ کرتے ہوئے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ممبران اپنے فیصلے واپس لیں آئین میں ایسے فیصلوں کی کوئی کنجائش نہیں تاہم مذاکرات کے بعد بھی اگر جرگہ ممبران فیصلے واپس نہیں لیتے تو پھر قانون کے مطابق کارروائی کرینگے جس کا حکومت کو پورا پورا حق حاصل ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انضمام کے بعد اب بھی کئی لوگ مخمسے میں ہیں اور پُرانے طور طریقوں سے اپنے فیصلے قوم پر ٹھونسنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ایسے فیصلے اب مزید قابل قبول نہیں۔کامران بنگش کا یہ بھی کہنا تھا کہ تحصیل و ضلع سطح پر کسی بھی طرح کے فیصلے کا اختیار ضلعی انتظامیہ کو حاصل ہے جبکہ ایسے جرگوں کے ایسے فیصلوں کو کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں۔ قبائلی عوام سے التماس ہے کہ اپنے جرگوں کے انعقاد اور ان میں ہونے والے فیصلوں کو قانون کے دائرے میں لائیں اور ضلعی انتظامیہ کیساتھ رابطے استوار کرکے قانونی پیچیدگیوں سے بچیں۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں